تو جوہرِ آئینۂ ایّام ہے

 اگر میرے پاس موبائل ہوتا۔  

اگرمیرے پاس انٹرنیٹ ہوتا۔

اگرمجھے جاب مل جائے ۔

اگر میرے پاس اتنے پیسے ہوں ۔

اگر فلاں شخص میرا ساتھ دے۔۔

اگر میری پاس ڈگری ہوتی۔۔

اگر اس وقت فلاں نے میرا ساتھ دیا ہوتا۔۔

اگر میرے والدین مجھے اس قابل بنا دیتے۔۔

اگررررررر۔۔۔اگر۔

"تو پھر ہم ۔۔۔۔"۔کامیاب ہوتے 


بس اسی "اگر "کے گردطواف کرتے کرتے ہم حقیقت سے دور نکل جاتے ہیں اور یہ سوچ اور غفلت ہمیں اس مقام تک لے جاتی ہے

 لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ كَٱلْأَنْعَٰمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ

ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو ئے گئے ہیں (179) 

ہمارے اردگرد ہزاروں کروڑوں وسائل اور مواقع موجود ہونے کے باوجود ہم محتاجی اور بےبسی کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں۔۔اور یہ اس وقت ہوتا ہے  جب  ہم اپنے اندر موجود وسائل سے بے خبر ہوتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ بحثیت انسان بذات خود وسائل کا ذخیرہ ہیں اور ہم 

جس زندگی کو  اپنے باہر ڈھونڈ رہے  ہیں وہ دراصل ہمارے اندر ہی  ہے۔۔

اس دنیا کی زندگی میں اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کے لیے دو طرح کے وسائل درکار ہیں  ۔۔اندرونی اور دوسرے بیرونی ۔۔

نیت۔۔ارادہ۔جذبہ۔پیشن. حکمت۔بصارت۔بصیرت۔سماعت۔۔کمیونیکیشن۔ بولنے اور لکھنے کی صلاحیت۔۔اپنا مدعا دوسروں تک پہنچانے کے تمام ذرائع۔۔۔۔

learning abilities.

 Learning attitude 


اور بیرونی وسائل میں فیملی،دوست،جگہ ،ادارہ ،سوشل نیٹ ورک وغیرہ 

اس سے بچنے کےلیے ضروری اقدامات میں خود شناسی اور خدا شناسی سرفہرست ہے 

 اب صرف  ہرن ہی کی مثال لیتے ہیں  کستوری کا شمار دنیا کی مہنگی ترین خوشبو میں ہوتا ہے اوریہ ہرن کی ناف میں بنتی ہے۔ وہ خود اس بات سے آگاہ نہیں مگرخود اس کو یہ خوشبو  اتنا مسحور کر دیتی ہے کہ وہ  صحرا میں اس کو  ڈھونڈتا رہتا ہے۔۔ہرن کی لا علمی مضحکہ خیز لگتی ہے مگر یہ معاملہ صرف ہرن کیساتھ نہیں بہت سے دوسرے جانوروں کے ساتھ بھی ہے جو خود اپنی طاقت اور صلاحیت سے واقف نہیں ہوتے مگر پریشان کن تو یہ ہے کہ اشرف ا لمخلوقات  بھی اسی ناواقفیت کا شکار ہے ہم ساری زندگی خود نا شناسی کی وجہ سے اپنی ہی خوشبو سے ناواقف رہتے ہیں اس لاعلمی کی بدولت اپنے رب کو  بھی پہچان نہیں پاتے۔

 خدا شناسی کےلیے  چونکہ خود شناسی ایک اہم مرحلہ ہے تو اس  کے بےشمار طریقے  بھی ہیں آئیے کچھ آزمودہ اور آسان طریقے اپنا کر دیکھیں۔۔۔

یاد کیجیے کہ اپنی زندگی میں آخری دفعہ کب آپ نے کوئی بڑا فیصلہ کیا؟ 

ایسا فیصلہ جس کو سوچ کر آپ خود بھی حیران ہوتے ہیں۔۔

ممکن ہے آپ کو یہ لگے  کہ کوئی دوست، رشتے دار یا مینٹور ہو گا جس کی وجہ سے آپ نے یہ قدم اٹھایا۔مگر  درحقیقت وہ محض مددگار تھے اصل فیصلہ آپ نے خود کیا ۔۔نتیجہ کچھ بھی ہوا ہو مگر آپ نے بالآخر ایک قدم آگے کی طرف بڑھایا۔۔

گویا قوت فیصلہ آپ کے پاس پہلے سے موجود تھی آپ نے استعمال اس وقت کی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی مرحلے میں یہ یاد دہانی بہت مفید ہوسکتی ہے کہ میرے پاس فیصلہ کرنے کی قوت بھی ہے اور اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی۔بس تھوڑی سی توجہ اور اکنالج درکار ہے۔۔

دماغ کو اس پٹری پر چڑھانے کےلیے چند صحیح سوالات صحیح جگہ پر کرنے سے نہ صرف صحیح جواب  ملتا ہے بلکہ قوت فیصلہ بھی بحال ہوتی ہے اور انسان اگر مگر کے چکر سے باہر آجاتا ہے

مثال کے طور پر؛

ہمارے حالات ایسے کیوں ہیں کی بجائے ہم ان حالات کا مقابلہ کیسے کریں ؟

میری صحت ٹھیک کیوں نہیں ہو رہی  کی بجائے میری صحت کی خرابی میں کیا عوامل شامل ہیں؟

مجھے کیوں اپنے مقصد میں کامیابی نہیں مل رہی ، کی بجائے  ناکامی کی وجوہات کیا ہیں؟۔۔

میری خوبیاں کیا ہیں؟

مجھے کن کاموں میں مہارت حاصل ہے؟

ایسے بے شمار سوالات جو آگے بڑھنے میں مددگار ہوں خود سے پوچھیں۔

ہم اکثر اپنے متعلق  سوالات  کا جواب  دوسروں سے پوچھتے ہیں بالکل اسی  شخص کی طرح جس کے لاکر کی چابی گم  گئی وہ باہر سڑک پر ڈھونڈ رہا تھا کسی نے مددکرنا چاہی تو دونوں کچھ دیر تک ڈھونڈتے رہے جب نہ ملی تو مدد کرنے والے نے پوچھا۔۔

کیا واقعی چابی یہیں گری تھی؟

نہیں!۔گم تو میرے گھر میں ہوئی تھی اس شخص نے جواب دیا۔

دوسرا شخص حیرت سے بولا، تو پھر یہاں کیوں ڈھونڈ رہے ہو؟

چابی کا مالک بولا۔۔۔کیونکہ یہاں روشنی زیادہ ہے اور میرےگھر میں اندھیرا ہے۔۔

بس کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارا بھی ہے ہم اپنے سوالات کے جوابات غلط جگہ ڈھونڈ رہے ہیں جو جواب اندر موجود ہیں انھیں باہر کی دنیا میں تلاش کر رہے ہیں 

تو خود سے ہی نہیں آشنا

تیری ذات تجھ پہ ہی راز ہے

تیرےقلب میں ہے چھپا ہوا

.تیری روح کو جسکی تلاش ہے


Salma Malik

https://www.facebook.com/SalmaMalikUKTherapyServices







ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. زبردست ۔۔۔۔ واقعی خود شناسی نہیں ھے ۔۔۔۔۔ کمزور قوت فیصلہ کی بناء پر بھی ہم میں سے اکثر لوگ کچھ بھی نہیں کر پاتے ۔

    جواب دیںحذف کریں