Overweight,Dieting, Cravings, Mood swings.
مختلف قسم کی ڈائٹنگ بھی کر لی ،ایکسرسائز کرلی ۔۔۔مگر جسم ٹس سے مس نہیں ہوتا۔نہ چاہتے ہوئے بھی من پسند کھانے چھوڑ دیے۔جنک فوڈ چھوڑ دیا۔مگر خاطر خواہ نتائج نہیں ملے۔۔
موٹاپے کی وجہ سے کچھ کر نہیں پاتے۔وغیرہ وغیرہ
کیاواقعی موٹاپا اصل وجہ ہے یا کسی وجہ کی علامت ہے؟؟
ون ٹو ون کلائنٹس کے ساتھ اور گروپ ٹیپنگ سیشنز میں مزید دلچسپ حقائق سامنے آئے۔۔۔
وزن بڑھنے کی بےشمار وجوہات ہوتی ہیں کبھی ہمارا وزن ہمیں چیلنجز کا مقابلہ کرنے سے بچا رہا ہوتا ہے اورکبھی یہ ہمارے اور اس
relationship
کے درمیان ایک حفاظتی دیوار بن جاتا ہے جس کو ہم پسند نہیں کرتے یا جس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔۔کہیں یہ
self punishment
کی صورت اختیار کیے ہوئے ہوتا ہے اور سب سے حیران کن اور دلچسپ یہ ہے کہ ہمارا موٹاپا ہمارے لیے بہترین ایکسکیوز ہوتا ہے۔
مثلاً جب کبھی آپ کو کسی ایسے انسان سے ریجیکشن ملے جس سے آپ اپروول کی توقع رکھتے ہیں، آپکا جسم آپکو
escape or hide mode
میں لے جائے گا یعنی چربی کی تہہ چڑھا کر آپکی حفاظت کرے گا۔
![]() |
| Emotional Baggage |
کسی کے ری ایکشن کا خوف بھی چربی چڑھاتا ہے۔ خواہ وہ دوست ہو، شوہر ہو یا والدین، استاد۔۔۔
اگر آپ اپنے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے آپ کا سیلف اسٹیم لیول بہت کم ہے اور خود کو نظر انداز کرتے ہیں یا اپنی ضروریات کا دھیان نہیں رکھتے تو آپکو میٹھا بہت اچھا لگنے گا۔ آپکا جسم آپ کو
self reward mode
میں لے جائے گا۔ میٹھا چونکہ وقتی انرجی پیدا کرتا ہے تو اس
طریقہ سے وہ آپکی توجہ لے گا۔
اسکے علاوہ اگر آپ کا کوئی ایسا لمیٹنگ بیلیف(محدود یا خود ساختہ سوچ )ہے جو بہت پختہ ہے مثلاً
میں اس لیے موٹی ہوں کیونکہ میں ورزش نہیں کرتی یا میٹھا کھاتی ہوں یا سکول کالج کے دور میں زیادہ بیٹھی رہی یا میرا موٹاپا خاندانی ہے یایہ کہ ہماری فیملی میں سب موٹے ہیں یا موٹے تھے وغیرہ وغیرہ ، تو جسم آپکے اس نظریے کی مطابق ہی چلے گا کیونکہ آپ نے اسکی پروگرامنگ کردی ہے۔
مگر یہ سب لاشعوری ہوتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ موٹاپے کی وجہ سے یہ مسائل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان مسائل اور ایسی سوچ کی وجہ سے ہم موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں اللہ تعالٰی نے ہمیں ایسا سسٹم دیا ہے جو ہمارے
survival
کےلیے کام کرتا ہے جب بھی اس کو یہ سگنل ملیں گے کہ آپ کی ذات کو کسی انسان سے، کھانےسے ، جگہ سے ،اردگرد کے ماحول سے کوئی تکلیف ہوتی ہے یا ماضی میں نقصان پہنچا ہے اور کرنا نہیں آیا یا نہیں آتا تو پھر یہ سسٹم قابو پا لیتا ہے (کیونکہ اللہ نے اس کی ڈیوٹی لگائ ہے آپ کو بچانا)۔۔۔تو جسمانی بیماریوں اور یہ موٹاپے کی صورت میں
ہمارا جسم کمیونیکیٹ کرے گا ۔
ایک اور حیران کن ریسرچ یہ بھی ہے کہ جسم کے مختلف حصوں پر مختلف ایموشنز کی سٹوریج ہوتی ہے۔۔.
Specific Emotions Affect Specific Organs.
یہ محض چند وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہوسکتی
ہیں۔
مگراس سب میں جو بات یکساں ہے وہ یہ کہ ،ان سب میں جو پراسیس ہے وہ ایک ہی ہے۔۔۔یعنی سٹریس ہارمون میں اضافہ۔
Cortisol level
کا بڑھ جانا۔۔اور اگر اس کو کنٹرول کر لیا جائے تو جسم کا نیچرل میکنزم ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے جو نہ صرف بڑھے ہوئے وزن کو کم کرتا ہے بلکہ مزید بڑھنے سے بھی روک لیتا ہے۔۔۔
عموماً وزن کم کرنے یا موٹاپے سے نجات کے لیے جو ڈائٹ پلان دیئے جاتے ہیں ان کو کرنے والے یہ شکایت ضرور کرتے ہیں کہ سب سے مشکل کام اس پلان کو فالو کرنا ہوتا ہے۔۔۔حالانکہ وہ اپنے موٹاپے سے تنگ بھی ہوتے ہیں۔۔مگر ایسا
اس کو سمجھنے کےلیے یہ نکتہ جاننا بھی ضروری ہےکہ کھانے سے ہمارا تعلق کیا ہے؟؟
دوستی کا ، خوشی کا، جسمانی ضرورت کا یا جذباتی ضرورت کا؟؟؟
کھانا کیوں کھایا جاتا ہے؟؟۔
ظاہر ہے بھوک مٹانے کےلیے!
مگر کون سی بھوک؟۔جسمانی اور جذباتی؟؟؟
کیا کھانا ہمارے لیے
source of pleasure
تو نہیں ہے؟؟
اور اگر ہے تو پھر اس موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے لیے جو جتن بھی کیے جائیں گے اور ا ن میں سب سے مشکل کام کھانے کو کنٹرول کرنا ہی ہوگا۔۔
بالخصوص ان لوگوں کےلیے جن کےلیے کھانا ہی
Source of pleasure
سورس آف پلیئزر( خوشی کا ذریعہ )ہوتا ہے۔۔
کسی قسم کی کامیابی ملی ہے تو کھانا۔۔۔
اداسی ہے تو کھانا۔۔
خوش ہیں تو کھانا۔
پریشان ہیں تو کھانا۔۔۔
کسی مسئلے کا حل نہیں مل رہا تو کھانا۔۔
بوریت ہو رہی تو کھانا۔۔
بہت کام کیا اور شاباش نہیں ملی تو میٹھے کی شامت۔۔
کبھی چاولوں کی کریونگ.. کبھی میدے سے بنی چیزوں کی کریونگ.
اگرکھانا ہمارے لیے
soruce of pleasure
ہے تو سب سے پہلے اس پروگرامنگ کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔۔۔ورنہ آپ زبردستی جتنا مرضی خود پر ٹارچر کر لیں موٹاپا نہیں جانے والا۔۔۔بلکہ آپ اگر کچھ سکڑ بھی گئے تو مزاج میں مزید چڑچڑا پن اور بدمزگی آۓ گی اور کچھ عرصہ بعد آپ دوبارہ اسی جگہ کھڑے ہونگے جہاں پہلے
۔۔بیرونی دنیا سے اپنی خوشی کو منسلک اور مشروط کردینا بذات خود ایک پرابلم ہے جب ہماری ایموشنل ضروریات پوری نہیں ہوتیں تو ہم کھانے سے ان ضروریات کو پورا کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہ سب سے آسان اور بغیر محنت کے کرنے کا کام ہے ۔۔یہ ایک راہ فرار ہے اور بیک وقت اس بات کا اعلان بھی ۔۔کہ ہمیں اپنی ایموشنز کو ہینڈل کرنا نہیں آتا اس لیے ہم کھانا کھا کر خود کو جھوٹی تسلی دیتے ہیں کہ ہماری ضرورت پوری ہوگئی۔۔۔۔۔
وجہ کوئی بھی ہو ، موٹاپا پورے جسم پر ہو یا صرف پیٹ پر۔۔۔ ڈائیٹ یا ورزش مددگار تو ہو سکتی ہے مگر حل نہیں۔۔اس کےلیے اس پروگرامنگ پر کام کرنا ضروری ہے تب نتائج بھی مؤثر اور مستقل ہوتے ہیں۔۔۔۔
Salma Malik
EFT PRACTITIONER





2 تبصرے
بہترین بلاگ ہے سلمہ ماشاءاللہ بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اپ سے۔ میں تو اپ کی فین ہو گئی ہوں۔
جواب دیںحذف کریںماشاءاللہ سلمیٰ جی اللہ بہت برکتیں دے بہت ہی بہترین تحریر♥️
حذف کریں