شادی کے بعد کا ابتدائی دور ویسے تو لڑکا اور لڑکی دونوں کےلیے ہی ٹرانزیشن پیریڈ ہوتا ہے۔دونوں زندگی کے ایک نئے فیز میں داخل ہوتے ہیں۔مطلوب اور مقصود تو یہی ہے کہ دونوں کو اپنی زندگی کے نئے موڑ پر کچھ سپیس ملے ۔تاکہ وہ ایک دوسرے کو جانیں، پہچانیں اس نئے پروجیکٹ میں دونوں اپنی اپنی انفرادیت کے ساتھ آگے بڑھیں دونوں اپنی اپنی زندگی میں جن ٹاسک پر کام کررہے تھے اب ایک دوسرے کی ڈھارس بندھائیں شادی کو ایک مضبوط قلعہ مانیں جہاں دونوں کا ایمان محفوظ ہو اب مزید آگے بڑھنے کےلیے ایمان کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔۔یعنی اس طرف سے دونوں کو۔ peace of mind
ہو۔ کہ اگر ایک کے قدم ڈگمگا جائیں تو دوسرا اس کا ہاتھ تھامنے والا ہو گا۔
جو انسانی اور نفسانی خواہشات اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دی ہیں ان کی تکمیل اب حلال طریقے سے ہو۔۔۔مگر یہ تب ممکن ہےجب دونوں کے پاس مقصد زندگی ہو شادی کو محض ایک ایسا پارٹ آف لائف سمجھا جائے جو اس مقصد کی تکمیل کےلیے بہت اہم ہے ۔۔
مگر ہمارے ہاں چونکہ شادی کو پارٹ آف لائف
کی بجائے مقصد زندگی
(purpose of life)
سمجھا جاتا ہےاسی لیے تقاضے بھی عجیب وغریب اور غیر حقیقی ہوتے ہیں لیکن سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ تقاضوں کی لسٹ میں 99فیصد کا تعلق لڑکی سے ہوتا ہے سب سے پہلے وہ یہ کہ وہ اپنی شادی سے پہلی والی زندگی کا صفحہ پھاڑ کے آئے اب سسرال میں اس کو نیاسافٹ ویئر ڈاؤنلوڈ کرناہوگا۔۔۔شادی سے پہلے جو سال اس نےکنوارے پن میں گزارے ہیں وہ سافٹویئر اب ڈیلیٹ کرے
۔۔اس کی پسند ناپسند۔، خواہشات، اس کے خواب، سب ان ویلڈ یا آؤٹ آف آرڈر ہو چکے ہیں۔۔۔سب سے
main issue
۔۔کہ اس کے میکے میں جیسا اور جس طریقے سے کھانا بنتا تھا وہ تو یہاں بےکار ہے۔۔میں نے محض اس بات پر بہو کو ذلیل ہوتے دیکھا ہے ۔۔کہ اب جیسی ہانڈی تمہاری ساس بناتی ہے ویسی بناؤ۔۔شوہر کی ڈیمانڈ۔۔کہ تم میری امی جیسا کھانا نہیں بناتی ۔۔۔ہمارے گھر میں یہ نہیں چلتا۔۔وہ نہیں چلتا۔۔۔۔تم یہ سب کب سیکھو گی۔۔۔۔۔گویا اب لڑکی کو نئ پروگرامنگ کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے دل و دماغ میں ایک نیا ایپ انسٹال کرے۔۔۔۔۔"سسرال ایپ" بھئی گھر بسانا ہے تو
یہ ایپ ضرور ڈاؤنلوڈ کرنی ہوگی۔۔۔
لڑکی کے والدین تو باقاعدہ یہ ہدایات دیتے ہیں کہ" پتر ہن جس طرح سسرال دے گھر دا ماحول ہووے گا توں وی اونج ہی رہنا اے"
۔۔ایک پروگرامنگ شوہر نامدار نے بھی جیب میں ڈال رکھی ہوتی ہے کہ اب تم میری بیوی ہو تو یہ یہ تمہیں کرنا ہے ۔۔کپڑوں کے رنگوں کی سلیکشن سے سونے اور جاگنے کے اوقات بھی اسی کے مطابق۔۔۔ہر کوئی" لڑکی" کو گھر بسانے کی نصیحتیں کررہا ہوتا ہے۔۔جو بھی کرنا ہے وہ صرف اور صرف لڑکی کی ذمہ داری۔۔ہر قسم کی تبدیلی کا تقاضا صرف اور صرف لڑکی سے ہے۔۔بھئی ہمارا لڑکا تو شروع سے ہی ایسے ہے اب تم ہی اس کے مطابق بن جاؤ۔۔۔🙄🙄🙄
Seriously?????⁉️
مگر ایسا کیوں؟
کیا سسرال صرف لڑکی کے ہی ہیں؟ سسرال تو لڑکے کے بھی ہوتے ہیں؟۔۔کیا واقعی کسی ایسی ایپ ڈاؤنلوڈ کرنے کا تقاضا محترم داماد صاحب سے بھی ہوتا ہے؟؟
ایک جاننے والی سے کافی دیر بعد ملاقات ہوئی تو کہنے لگی کہ بیٹیوں کی شادی کردی ہے اب صرف بیٹا رہ گیا ہے ۔۔ایک رشتہ تو ہے مگر لڑکی والے کہہ رہے تھے کہ ہماری ایک ہی بیٹی ہے تو شادی کے بعد اسی شہر میں گھر لینا ہو گا۔۔۔ہم نے لڑکی کو اتنی دور نہیں بھییجنا۔۔میں نے پوچھا تو کیا حرج ہے؟
تو فوراً بولی۔۔
نہ جی ۔۔ہمارا سب سے چھوٹا بیٹا ہے میرا گزارا نہیں اس کے بغیر۔یہ کیا شرط ہوئی۔۔ہم کیوں لڑکا بھیجیں۔۔۔۔۔
چہرے پر بہت ناگوار تاثرات کے ساتھ یہ سب بول کر سر جھٹک کر بیٹھ گئی۔۔۔ہونہہہ۔۔۔😒
یہ سب سن کر اور ان کے تاثرات دیکھ کر میں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔۔
جیسے آپ کو اپنا لڑکا پیارا ہے ان کوبھی اپنی لڑکی پیاری ہے ۔۔کیا لڑکے کا ادھر سے جا کر دونوں کا الگ گھر میں رہنے پر اعتراض ہے ؟
یا اس پر کہ وہ اپنے میکے کے پاس گھر لے کر رہے گی۔۔؟؟؟
اعتراض کس بات پر ہے؟
ایسے سوال پر ایک گہری خاموشی ۔۔۔اور پھر ۔۔چراغوں میں روشنی نہ رہی 😆۔۔۔
ویسے آپ پڑھنے والوں کا کیا خیال ہے؟؟
مانا کہ نئے سفر میں کچھ نیا چاہیے۔۔مگر یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے یا اپ گریڈ؟۔
اور کیا صرف لڑکی کو ہی یہ سب کرنا چاہیے یا دونوں کو۔۔۔۔مگر اس عورت سے ملاقات کے بعد مجھے تو لگا کہ ہم سب کو ہی ضرورت ہے۔ ۔
کچھ سافٹویئر اپ گریڈ کی ۔۔۔اور کچھ سافٹویئر ڈیلیٹ کرنے کی۔۔۔۔
Salma Malik
Master UR Mind



7 تبصرے
Karna to dono logon ko chahy likin yh hanary mashray ki talh haqeqt hy k orat ko e apna ap badlna parta Hy chahy pir badlao ma us ki khawaishat qurban hon ya us ki pori zat
جواب دیںحذف کریںجی بالکل ایسا ہی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے حصے کا کام کریں۔
حذف کریںاللہم زد فزد۔ ماشاء اللہ
جواب دیںحذف کریںجدید تعبیرات کو استعمال کرتے ہوئے بہت ہی سادہ انداز میں ایک سماجی رویہ کی اصلاح کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اسلوب جس میں الفاظ لکھاری کے قلم کے قیدی محسوس ہوں اور دوسری طرف قاری کو معانی کے نئے نئے جہانوں کی سیر کرائیں نعمت خداوندی ہے۔ اللہ اسے سب کے لیے نافع بنائے۔ آمین
آمین۔حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ
حذف کریںبہت ہی اچھے انداز سے آپ نے ہمارے معاشرے کی دکھتی رگ کو چھیڑا ہے اور ہمارے نام نہاد رسم و رواج کس طرح سے اس خوبصورت رشتے پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور اس میں تبدیلی لانے کے لۓ ہمیں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہر کوئ اس کا آ آغاز اپنے گھر سے کرے گا تو بہت جلد تبدیلی آۓ گی انشا ء اللہ
جواب دیںحذف کریںان شاء اللہ۔۔۔
حذف کریں
جواب دیںحذف کریںاللہم زد فزد۔ ماشاء اللہ
جدید تعبیرات کو استعمال کرتے ہوئے بہت ہی سادہ انداز میں ایک سماجی رویہ کی اصلاح کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اسلوب جس میں الفاظ لکھاری کے قلم کے قیدی محسوس ہوں اور دوسری طرف قاری کو معانی کے نئے نئے جہانوں کی سیر کرائیں نعمت خداوندی ہے۔ اللہ اسے سب کے لیے نافع بنائے۔ آمین