Breach of contract
An act of breaking the terms set out in a contract
A breach of contract is a violation of any of the agreed-upon terms and conditions of a binding contract
ایک معاہدے کی خلاف ورزی، کسی پابند معاہدے کی متفقہ شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی ہے
حدود اللہ توڑ نے پر سزا کیوں ہے ؟
جب اللہ تعالٰی نے انسان کو
free will
دی ہے تو پھر یہ کیا بات ہوئی کہ نہ ماننے پر سزا ملے گی۔۔۔؟
میں جیسے مرضی زندگی گزاروں۔ ۔۔۔
میں جیسا چاہوں لباس پہنوں ۔۔میں نماز ادا کروں یا نہ کروں۔۔۔روزے رکھوں یا نہ رکھوں
میں اپنی عبادات و معاملات جیسے مرضی ہینڈل کروں۔۔
یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے ۔۔۔
دین میں اتنی سختی نہیں ہے ۔۔جب اللہ تعالٰی نے چوائس دی ہے تو پھر یہ علماء کیوں ڈراتے رہتے ہیں؟؟ ۔۔پھر سزائیں کیوں؟؟؟؟
کیا آپ نے کبھی بریچ آف کنٹریکٹ کے بارے میں سنا ہے؟
کیا آپ اس سسٹم سے آگاہ ہیں؟؟؟؟۔
اگر ہاں۔۔۔تو پھر یہ سب جاننے والے ایسے سوال اور بحث نہیں کرتے۔۔۔
مگر ایسے سوالات اور جملے بذات خود اس سوچ کی عکاسی کررہے ہیں کہ سائل ان سب سے نا آشنا ہے۔۔
آج کل ہوم فون اتنا استعمال نہیں ہوتا ۔اور نیٹ بھی عموما گڑبڑ کررہا تھا تو سوچا اس کمپنی سے کنٹریکٹ ختم کرنا چاہیے۔۔۔کال کی ۔تو جواب ملا۔۔ابھی آپ کے موجودہ کنٹریکٹ کی مدت ختم نہیں ہوئی تو کینسل کرنے کے لیے باقی چھ ماہ کی پیمنٹ کرنی پڑے گی۔۔۔وہ کیوں بھلا؟⁉️
جب ہم نے استعمال ہی نہیں کرنا تو پیسے کس بات کے؟
یہ تو زیادتی ہے ۔۔
یس ۔وی انڈر سٹینڈ۔۔
But it's written in terms &condition. Which was Part of your contract.
And you have signed it۔
Now choice is yours. If you want to cancel that's the way
۔۔۔اوہ ۔۔اچھا۔۔۔یعنی چوائس کنٹریکٹ سے پہلے ہے سائن کرنے کے بعد نہیں ۔۔۔۔
اس دن یہ خیال آیا کہ یہ جو ہم فری ول کا شور مچاتے ہیں اور اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ کنٹریکٹ سائن کرنے کے بعد بھی ہمارا راج چلے گا اور اس میں گڑبڑ کرنے کے باوجود ہمیں نہ صرف اس کے فوائد حاصل ہونے چاہیں بلکہ ہر قسم کی سزا سے استثناء ملنا چاہیے کیونکہ بھئی ہماری چوائس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بس سارے فساد کی جڑ ہی یہ سوچ ہے۔۔
تب سمجھ آیا کہ جزا اور سزا کے سسٹم کا مقصد کیا ہے۔۔۔اگراحکام ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کو ایک جیسے انعامات سے نوازا جائے یا دونوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے تو یہ نہ صرف عدل کے خلاف ہے بلکہ یہ دنیا اس جنگل کا نقشہ اختیار کر جائے جہاں ہر جانور اپنی مرضی سے دندناتا پھرتا ہے۔۔۔
قصہ مختصر۔۔۔
چوائس کنٹریکٹ کرنے سے پہلے ہے۔۔جب سائن کردیا پھر اطاعت ہے۔۔
سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔۔۔
Otherwise..
breach of contract
کے نتائج تو بھگتنے پڑیں گے
اللہ تعالی قوانین۔۔حدود اللہ۔جزا اور سزا۔ یہ ایک مکمل نظام ہے اور اس نظام کا ہر حصہ دوسرے سے جڑا ہوا ہے سب سے اہم تو یہ ہے کہ اسے انسانوں کی فلاح کےلیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اگر یہ معاہدہ کرلینے کے بعد بھی ہم پک اینڈ چوز کا رویہ رکھتے ہیں تو یہ بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنے والا معاملہ ہی ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کی سنت تو طے شدہ ہے۔ ہم دین کو کیا سمجھتے ہیں کیسے عمل کرتے ہیں یہ ایک الگ بات ہے اور درحقیقت دین اسلام کیا ہے اور کیسا عمل مطلوب ہے ۔۔یہ دوسری بات ہے مگر نتائج بہرحال دوسری بات کے مطابق ہی ہوں گے۔۔۔۔۔
قُلْ إِنَّنِى هَدَىٰنِى رَبِّىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ﴿١٦١﴾ قُلْ إِنَّ صَلَاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿١٦٢﴾ لَا شَرِيكَ لَهُۥ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُسْلِمِينَ ﴿١٦٣﴾ قُلْ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْغِى رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَىْءٍ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُون
اے محمدؐ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیمؑ کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا (161) کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے (162) جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں (163) کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالاں کہ وہی ہر چیز کا رب ہے؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا، پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، اُس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا (164
مسلمان ہونا بھی ایک معاہدہ ہے ایک کنٹریکٹ ہے۔
ہم پیدائشی مسلمانوں نے چونکہ اس کو باقاعدہ سائن نہیں کیا ناں۔۔اور اپنی چوائس سے آج تک دین اسلام کو قبول نہیں کیا اس لیے ہمیں اس معاہدے کی اہمیت کا اندازہ نہیں۔۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم تو اس لیے مسلمان ہیں کہ ہمارے والدین مسلمان ہیں اور وہ بھی اس لیے مسلمان ہیں کہ ان کے والدین مسلمان تھے۔۔بس نسل در نسل یہ سلسلہ چل رہا ہے اور ہم اس کو اپنی وراثت سمجھ بیٹھے ہیں کہ اب بھلے اس پر عمل کریں یا نہ کریں کوئی ہم سے نہ کوئی یہ شناخت چھین سکتا ہے اور نہ ہی ہم ان تمام انعامات واکرامات سے محروم ہو سکتے ہیں جن کا وعدہ ایمان والوں سے ہے۔۔۔
اللھم ارحمنا۔۔
ہم نجانے کس غلط فہمی کا شکار ہیں یہ غلط فہمی بھی ہماری لاعلمی قرآن سے دوری اللہ سے متعارف نہ ہونے پر سب سے بڑی دلیل ہے۔۔۔
جو ہوا سو ہوا۔۔ابھی بھی مہلت عمل ہے ابھی بھی پورے ہوش وحواس سے اس دین کو قبول کرنے کی چوائس ہے ہمارے پاس ہے۔۔۔مگر یہ ہاں۔۔چوائس صرف کنٹریکٹ سائن کرنے سے پہلے ہے بعد میں نہیں۔۔۔
آئیے ایک دفعہ اپنی چوائس سے اپنے ہوش وحواس میں یہ معاہدہ دہرا لیں۔۔۔۔
اشهد ان لا اله إلا الله وأشهد أن محمد عبده ورسوله


1 تبصرے
Very beautiful way of explaining .We don't really value Islam
جواب دیںحذف کریں