سوال یہ ہے۔۔۔

If you happy and you know it ..clapp your feet..then you really want to show it...clapp your hands..

If you happy and you know it ...shout hurry....hurrayyyyyyy

Head. shoulder. knees and toes...knees and toes ۔۔۔۔

Row Row your boat..gently down the stream.. 

If you see a crocodile ..don't forget to screem....eeeeeeee...

....آج لائبریری کے ایک کونے میں کچھ معصوم ذہنوں کی پروگرامنگ کی جا رہی تھی۔بچے مداری والے کے بندر کی طرح الفاظ پر ایکٹنگ کر رہے تھے۔۔۔کبھی ناچ کر۔۔کبھی تالیاں بجا کر کبھی چیخ کر۔۔۔

وہ معصوم تو بس ہدایات فالو کررہے تھے  اپنے استاد کے الفاظ سن کر  اور اس کی ایکٹنگ دیکھ کر۔۔

مائیں بہت خوش رہی تھیں کہ بچے کتنے زہین ہیں بہت جلدی سیکھ گئے ہیں۔۔


۔اور میں   دور بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی اور جو بات میرے لیے بےچینی اور افسوس کا باعث بن رہی تھی وہ مسلمان ماؤں کا رسپانس تھا۔۔

بہت سے سوال ذہن میں امڈ رہے تھ کہ ایسے سیشنز کیوں رکھے جاتے ہیں۔۔ 

کیا سکھانے کےلیے یہ تگ و دو ہو رہی ہے؟

کوئی تو مقصد یا ٹارگٹ ہو گا اس ایکسرسائز کے پیچھے۔۔۔۔

مائیں کیوں اپنے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے لے کر آئی ہیں؟

" پری سکول کڈز۔"۔

کیا محض  مائیں اپنی سوشلائزنگ  کےلیے آئی ہیں؟

یا بچوں کو کچھ سکھانے کےلیے؟؟

مگر ۔۔کیا؟؟

اس وقت بچے جو نظمیں سن رہے ہیں ظاہر ہے مطلوب تو


یہ نہیں۔۔۔۔یہ تو محض ایک کونٹینٹ منتخب کیا گیا ہے ان کو پریکٹس کروانے کےلیے۔۔۔

ہو سکتا ہے ۔۔بولنے کے پریکٹس ہو  یا زبان سکھانے کے مگر بہرحال اس پراسیس میں دماغ کا ایک حصہ ایکٹیویٹ ہو رہا ہے۔۔۔ایک مشینری چل رہی ہے جو اس ایج میں محض absorb کا کام کرے گی۔۔کوئ فلٹر نہیں۔۔۔کوئ کانٹ چھانٹ نہیں۔۔

جو ان کی زبانوں پر ہے وہی اس سلیٹ پر لکھا جارہا ہے اور لاشعور کا حصہ بن رہا ہے ۔۔۔صحیح  اور غلط کا تعین کیے بغیر۔ ۔اور یہ سب تو انھیں مائیں خود بھی سنا کر ایکٹنگ کروا سکتی ہیں۔۔پھر یہاں کیوں؟

ایسے گروپ کیوں جوائن کرنے پڑے ہوں گے ان کو جہاں  اس ایج کے بچوں کو سکھانے والے بھی ایک ایجنڈا لیے ہوئے ہیں۔۔یقینا یہ ایک سرگرمی ہی ہے بچوں کو انگیجڈ رکھنے کی۔۔۔۔

مگر کیا کونٹینٹ بھی کوئی اہمیت رکھتا ہے؟



بے شمار سوالات۔۔۔

  • یہ سب دیکھ کر یوں لگا  جیسے ہم کبھی کبھی کشن کو بھرنے کےلیے اور نرم رکھنے کےلیے کسی بھی طرح کے پھٹے پرانے کپڑے اس میں گھسا دیتے ہیں ۔۔یہی سلوک ان بچوں کے ساتھ بھی کر رہے ہیں کہ ان کو انگیج رکھنا ہے ان کی بھوک مٹانی ہے اب چاہے جیسے بھی ہو ۔۔۔۔میٹیریل کچھ بھی ہو۔۔

۔غیر مسلموں کو چھوڑیں آپ ۔۔۔ان کے نزدیک بچوں کو آداب سکھانے اور سیلف اورینس ، پرسنل ڈیویلپمنٹ کے لیے شاید ایسے ہی طریقہ رائج ہوں اور  ایسا ہی مواد ہو۔۔۔کہ ہربات کو گا گا کر اور ناچ کر سیکھایا جائے۔۔ صرف آنکھیں بند کر کے گہری سانسیں لینے سے خود شناسی ہوتی ہو ۔ممکن ہے ان کے نزدیک مذہب انسان کا ایک ذاتی مسئلہ ہو ۔وہ محض خدا اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہو ۔۔جس کو جو بات صحیح لگے وہ اس کو اپنا مذہب بنا لے ۔۔۔شاید ان کے ہاں دنیاوی معاملات اور دین دو مختلف راستے ہیں ۔

جہاں دین محض پوجا پاٹ تک محدود ہو باقی رہے معاملات ، اخلاقیات بچوں کی تربیت ، کاروباری معاملات۔۔ان سب کےلیے  مختلف گرو

(Guru) 

ہونے چاہیں۔۔

کوئی 

higher self

 سے کنیکٹ ہونے کے طریقے سکھائے۔

کاروباری دنیا میں نمبر ون بنانے کےلیے سرمایہ دارانہ نظام کا پجاری بنائے۔۔۔۔کوئی لوگوں کو   پرسنل ڈیویلپمنٹ کے نام سے  خود غرضی کی مشق کروائے۔۔۔۔۔

Just lookafter yourself 

Mind your own business 

Let people do whatever they want to do..

وغیرہ وغیرہ

۔ اور مقصد سب کا ایک ہی۔۔۔

کہ اس دنیا میں کامیاب کیسے ہوا جائے۔۔

مگر کیا محض اسی دنیا کی کامیابی مطلوب ہے ؟

کیا کامیابی کی تعریف وہی ہے جو آجکل ہمیں سنائی دیتی ہے؟

 لیکن ہم مسلمانوں کے پاس  سب کچھ اتھینٹک ہے۔

یہ بھی طے شدہ ہے کہ مطلوب کیا ہے؟ 

اعبدوا ربکم۔

طریقہ کار بھی موجود۔۔۔سیرت طیبہ 

کونٹینٹ بھی ہے ۔۔۔قرآن و حدیث۔۔

 ان سب کے باوجود ہم بھی کیوں اسی بھیڑ چال ک حصہ بنتے جا رہے ہیں؟

پھر مسنگ پیس یا گیپ کیا ہے؟۔۔

کیا والدین سمجھ نہیں پا رہے ؟

 یا   لاعلم ہیں ؟

یا پڑھانے والے یہ سب بالائے طاق رکھ کر کسی اور اپ ٹو ڈیٹ سسٹم کی تلاش میں ہیں جو پرسنل اور پروفیشنل زندگی میں کامیابی کی ضمانت ہے؟

میں تو سمجھ نہیں پا رہی کہ اصل مدعا کیا ہے؟؟

اس وقت  قرآن کے ریفرنس سے بات کرنے والوں کو محض پریچرز کا ٹائٹل دیا جا رہا ہے اور ایسے جملے کہ لوگ خطبوں سے تنگ آگئے ہیں اب ہمیں درس دینے والے نہیں چاہئیں۔۔۔ ہمیں لائف کوچز، ریلیشن شپ کوچز بزنس کوچز۔۔چائلڈ کیریئر۔۔پولیٹیکل مائنڈ سیٹ چاہیں ۔۔۔۔

 ان سب سے مراد کیا ہے؟؟

کیا کونٹینٹ تبدیل کیا جائے یا اس کونٹینٹ کو پیش کرنے 

والے کو؟ یا طریقہ تدریس؟؟


اور اگر خدانخواستہ، خدانخواستہ اس مطالبے سے مرادکونٹینٹ کی تبدیلی ہے ۔۔تو پھر میرا سوال ان تمام مسلمان پروفیشنلز سے ہے جو کاونسلنگ اور کوچنگ کے میدان میں ہیں۔۔۔کہ ان کے  پرسنل اور پروفیشنل ڈیویلپمنٹ سلیبس  کیا ہے ؟۔اس کا ماخذ کیا ہے؟؟

 روحانیت اور کاروبار کے طریقے کس کتاب سے اخذ کر رہیے ہیں کہ لوگوں کو یہ قرآن اس وقت کے مسائل کےلیے انویلڈ لگ رہا ہے؟

میں حسن ظن رکھنا چاہوں گی کہ لوگ یقینا قرآن ہی سننا چاہتے ہیں مگر ایسے کہ انھیں یہ زندگی کے ہر میدان میں مکمل پیکج لگے۔

۔۔اگر ایسا ہے تو پھر اس وقت سب سے زیادہ اپنی سکلز کو پالش کرنے اور اپ گریڈ کرنے کے ضرورت ان لوگوں کو ہے جو اس میدان میں ہیں۔۔۔جن کےپاس یہ امانت ہے ۔

ایک قرآن کا استاد صرف قرآن کی عربی ، مخارج اور ترجمہ بتانے والا نہیں ہوتا ۔۔۔وہ تو اپنی ذات میں بھلے ہی ماہر نفسیات، معاشیات، تجارت، سیاست نہ ہو مگر ان سب میدانوں میں کیا چل رہا ہے ٹرینڈز کیا ہیں؟ کم از کم اتنی آگاہی تو ہو اس  کو کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اس قرآن کو ایک ذریعہ ہدایت اور راہ نجات دکھا سکے۔۔

کم از کم۔۔۔

اس کے پاس نیورو سکلز ہوں۔۔

کمیونیکیشن سکلز ہو۔

کاونسلنگ کر سکے ۔

کوچنگ کر سکے ۔

 لسننگ سکلز کی امپروومنٹ اس کی اولین ترجیح ہو۔۔۔

یک طرفہ لیکچر کی بجائے انٹریکٹو ڈسکشن کرے۔

لوگوں کو سوال کرنا سکھائے۔۔سوچنا سکھائے۔۔

مختلف نظریات کے لوگوں سے اختلاف کرنا سکھائے۔۔۔  

میں جانتی ہوں کہ ہر ایک کےلیے یہ سب مشکل ہو گا مگر سوال یہ ہے کہ۔۔۔کیا واقعی ہم قرآن کے علاوہ کسی بھی مضمون کے استاد کو محض اس لیے استاد کا درجہ دے دیں گے جس نے گھر بیٹھ کر چند کتابیں پڑھ لیں اور باقی سب اس لیے چھوڑ دیا کہ مشکل اور محنت طلب مراحل ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. ما شاء الله، جزاكم الله خيرا
    ايسي كتابوں اور ايسے مينولس كي تياري كي شديد ضرورت هے جو قرآن كے ٹيچر كو يه سب كام كرنے كا اهل بناسكے۔
    بے شك قرآن ميں سب كچھ هے، مگر ضرورت اس بات كي هے كه علماء اس كام كے ليے آگے بڑھيں۔
    ايك بهترين كام modoee.com پر موجود هے۔ ملائشيا سے لے كر مغرب كے ممالك كے 100 سے زياده پروفيسروں نے مل كر قرآن سے 360 مضامين نكالے هيں اور ھر مضمون پر 60 سے 100 صفحات لكھے هيں۔ ايسے هي مزيد كاموں كي ضرورت هے، ان موضوعات پر كانفرنسس كرنے كي ضرورت هے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. Agreed with the points raise in this post. Our way of raising children isn’t productive and constructive and needs… we may need a huge development with regards to parenting

      حذف کریں