جدیدجاہلیت

 باجی معاشرے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ۔آپ کو نہیں پتہ میری فیملی کس طرح کی ہے۔میرے سسرال والے کتنے ماڈرن ہیں۔اب میں یہ تو نہیں کر سکتی کہ اپنی بیٹیوں کو چادروں کی بکل مروا دوں۔۔۔

آپ نے سپارہ پڑھا نا ہے تو پڑھائیں ۔۔یہ ہمارا ذاتی مسئلہ ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو کیا پہنائیں ۔۔آجکل کی بچیاں اس طرح کے کپڑے ہی پسند کرتی ہیں ٹائٹس اور ساتھ یہ ٹاپ ۔۔اس میں یہ بچی لگتی ہے مجھے ۔۔

پورے بازو والی قمیص اور ساتھ ٹراوزر۔۔۔ہمارے گھر میں یہ رواج نہیں ہے ۔۔ویسے بھی ابھی اس کی عمر کیا ہے بالغ جلدی ہوگئ تھی ورنہ پندرہ سال کی ہے صرف۔۔۔۔ابھی تو ان کے موج مستی کے دن ہیں۔۔میری سوچ بالکل دقیانوسی نہیں ہے میں تو زمانے کے ساتھ چلنے والی ہوں۔۔اب ساری فیملی ایک طرف اور میں عجوبہ بن جاؤں۔

ویسے مجھے بھی سارا علم ہے۔ دین بہت آسان ہے۔اور یہ بچیاں جب بڑی ہونگی خود ہی سیکھ جائیں گی۔۔۔میری سوچ اتنی پینڈو والی نہیں ۔ باجی میں تو حیران ہوں آپ کی سوچ پر۔۔



یہ ساری گفتگو اس ماں کی ہے جس کی جوان بیٹی جینز کے ساتھ ٹی شرٹ پہن کر سر کو چھوٹے سے سکارف سے ڈھانپ کر قرآن پڑھنے آئی تھی اور یہ اس کا معمول تھا۔۔مگر آج اس کی استاد نے توجہ دلائی کہ کیسا لباس اللہ کو پسند ہے اور ایک نوجوان لڑکی کے لیے شرائط اور حدود کیا ہیں۔۔۔بس کیا تھا تھوڑی دیر بعد اس کی ماں اس کو ڈیفینڈ کرنے چلی آئی۔۔اور اپنے خیالات کا اظہار کر گئ۔۔۔۔

۔

جب یہ قصہ میں نے سنا تو خیال آیا۔۔۔کہ اس کی ماں نہ بھی بولتی تو بھی بیٹی کا لباس بہت کچھ بول چکا تھا۔۔۔۔


انا لله وانا اليه راجعون. 


ہم بھول جاتے ہیں کہ جسم پر لباس ہماری سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔۔دل میں اللہ پر ایمان ہو اس کے سامنے جواب دہی کا احساس ہو تو کیا پھر بھی ہم ایسے بےحیا لباس پہن کر اور اپنی اولاد کو بالخصوص لڑکیوں کو پہنا کر یہ دعوٰی کر سکتے ہیں کہ اللہ ربنا۔۔۔۔القرآن دستورنا۔۔


اکثر ہم یہی دلیل دیتے ہیں کہ ہم "ماڈرن "ہیں یہ آجکل جو لباس کی دھجیاں اڑائ جا چکی ہیں اورپھر اس کو "ماڈرن ازم " کا نام دیتے ہیں۔۔۔یقینا ہم نے دور جہالت کا مطالعہ نہیں کیا ۔۔اگر کر لیتے تو اس بے حیائی کی بجائے قرآن کے مطابق زندگی کو ماڈرن ازم کہتے۔۔۔۔۔۔


قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ تو بہت واضح اس دور کی تصویر کشی کرتی ہے جہاں خواتین لباس پہن کر بھی ننگی رہتی تھیں۔ستر پوشی کا اہتمام نہیں تھا جو جس قدر بے حیا تھا وہ اتنا بڑا سیلیبریٹی۔۔۔ذہنوں کی غلاظت جسموں سے ظاہر ہو جاتی۔۔۔انسان یا تو اپنے جیسے انسانوں کا غلام( معاشرے کے ساتھ چلنے والا) یا خود اپنے نفس کا غلام تھا۔۔۔۔ایسے میں ہی یہ ہدایت کی روشنی، قرآن ماڈرن سسٹم دیا گیا۔۔کہ جس رب نے پیدا کیا ہے صرف وہی حقدار ہے کہ فیصلہ کرے انسان کے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔۔۔


سلمی' ملک۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. بلکُل درست ۔۔۔میری بیٹی بھی دوبٹہ اوڑھ کر جاتی ہے تقریبات میں ۔۔تو سب اس کو samjhatay ہیں کہ عمر ہی کیا ہے ۔۔۔اور دیگر کمنٹس کرتے ہیں ۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں