اگر مجھے تمہارا لحاظ نہ ہوتا تو خوب مزہ چکھاتی اس کو۔۔
اگر ماں وہاں نہ ہوتی تو میں اپنے بھائیوں کے منہ نہ لگتی۔۔
اگر وہ تمہارا باس نہ ہوتا تو آج اس کو اس کی اوقات یاد کروا دیتا۔۔۔
میں تو تمہاری وجہ سے چپ کر گئ ورنہ تمہاری ساس کو جواب دینا مجھے خوب آتا ہے۔۔۔
اپنے بیٹے کی وجہ سے بہو کو برداشت رہی ہوں۔۔۔
اپنے شوہر کی خاطر اپنی نندوں کا لحاظ کر جاتی ہوں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
ایسے بہت سے جملے جن میں کسی غلط کام سے رکنے کی وجہ کسی انسان کا رعب ودبدبہ ہو یا نتیجتا اس کی خوشی و ناراضگی ہو۔۔۔۔ان سب کو سن کر مجھے حضرت شعیب عليه السلام کی قوم کا جملہ یاد آتا ہے۔۔
وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ
(تمہاری برادری نہ ہوتی تو تمہیں ضرور سنگسار کرتے۔۔۔)
ان کے جواب میں حضرت شعیب عليه السلام کا یہ جملہ۔۔اپنے اندر مکمل توحید اور للہیت سموئے ہوئے ہے۔۔
انھوں نے صرف ایک جواب دیا۔۔ وہ بھی سوالیہ انداز میں۔۔۔
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
شعیبؑ نے کہا "بھائیو، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے.
کسی کو برا بھلا نہ کہنا، کسی کے ناگوار رویے کو برداشت کرنا، کسی کی زیادتی کو معاف کر دینا ، کسی سے رشتہ جوڑنا یا فاصلہ پیدا کر لینا۔۔۔یہ سب نظریات کی بنیاد پر وہی کرسکتا ہے جو خاندان کی قوت کے مقابلے میں نظریاتی قوت کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
۔لیکن جب انسان محض مادی مفادات کے اصولوں کے مطابق اقدار حیات کا تعین کرتا ہے تو وہ ہر معاملے میں محض ظاہری پہلو کو سامنے رکھتا ہے۔
اس کے نزدیک دلی جوڑ کے مقابلے میں نسب کا جوڑ زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
سید قطب شہید رحمہ اللہ اسی آیت کی تشریح میں یہ لکھتے ہیں کہ جب انسان ایک پختہ نظریے سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پیش نظر اعلیٰ قدریں اور اعلیٰ روایات نہیں ہوتیں تو وہ زمین پر گر پڑتا ہے اس کے ذہن میں دنیا کے مفادات ہی اعلیٰ وارفع ہوتے ہیں اور وہ دنیاوی قدروں کا گرویدہ ہو جاتا ہے لہٰذا وہ اس جیسی قیمتی اوربلند دعوت کی قدر نہیں کرتا۔اس قسم کی ذہنیت کے لوگ ایسی بلند دعوت پر اگر ہاتھ نہیں اٹھاتے تو بھی محض دنیاوی قوت کے ڈر سے نہیں اٹھاتے۔ایسے لوگ محض مادی قوت کو خاطر میں لاتے ہیں۔رہے بلند عقائد، اعلیٰ خیالات اور بلند اقدار تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کی کسی مادہ پرست شخص کے ہاں کوئی اہمیت نہیں۔پست لوگوں کی ذہنیت کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔
گویا کسی انسان کی ذات پر حملہ نہ کرنے کی محض اگر یہ وجہ ہے کہ اس کا تعلق ایک بااثر خاندان سے ہے تو یہ اسی بیماری( گری ہوئی ذہنیت )کی علامت ہے جو حضرت شعیب کی قوم میں موجود تھی۔
انبیاء اور ان کی اقوام کے قصے ہمارے لیے ایک راہ عمل ہیں ہم سب جانتے ہیں کہ تمام انبیاء کا پیغام ایک ہی تھا کہ صرف اسی رب العالمین کی عبدیت اختیار کرو۔
۔اپنے جیسے انسانوں کی غلامی کو چھوڑ کر اسی ایک واحد ذات کے سامنے سر تسلیم خم کردو۔زندگی کے ہر معاملے میں اسی کو اپنا حاکم اور مالک مانو۔وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اسی کی خشیت دل میں ہو اسی کی ناراضگی کا خطرہ ہو اسی کی نظر میں اعلیٰ وارفع بننا مقصد ہو ہر غلط کام سے رک جانے کی وجہ صرف اور صرف یہ ہو کہ وہ رب دیکھ رہا ہے یہ میری گھٹیا حرکات مجھے اس سے ملاقات کے شرف سے محروم نہ کردیں ۔نافرمان لوگوں کی لسٹ میں میرانام نہ آجائے۔۔
فَمَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَٰلِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدَۢا
پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے ۔
(18-110)
۔۔۔
" مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ " .
جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت وعداوت رکھی ،اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے دیا اور اس کی خاطر روکا(نہ دیا ، اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کرلی ۔
أللهم اجعلنا منهم. آمين.
اور اگر خدانخواستہ یہ جملے ہمارے زبانوں پر عام ہیں ہماری گفتگو کا حصہ ہیں ہمیں اپنے ایمان باللہ کو چیک کرنے کی ضرورت ہے۔۔
یہ سوال بذات خود ایک بہت پاورفل ریمائنڈر ہے۔۔
أَرَهْطِىٓ أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَٱتَّخَذْتُمُوهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّى بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے ۔
Salmamalik
(تفسیر کلاس ڈسکشن)
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063966795263)


1 تبصرے
اللہ سبحانہ و تعالٰی بس اپنی ہی محبت وخوف میں رکھے ،ہمیں اپنے نفس کے شر سے بچالے۔۔آمین
جواب دیںحذف کریں