مہکتا کردار

 یہ تحریر ایک باپ اور بیٹی کی گفتگو ہے۔ماضی کے جھروکے سے ایک جھلک ۔۔بس اس کو اسی عینک سے پڑھیے گا۔۔ 

ابو جی مجھے یہ نہیں آتا۔یہ مجھ سے ہو ہی نہیں سکتا۔مجھے پتہ ہے ناں اپنا۔۔میں یہ کر ہی نہیں سکتی۔۔۔

پتر جی ۔کوشش تو کر کے دیکھو ۔۔

میں نے کی ہے۔۔۔پورے تین دن اپنا وقت دیا ہے۔دن رات اس کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔۔مگر مجال ہے ایک لفظ بھی عربی گرائمر کا میرے پلے پڑا ہو۔

میرا پتر آپ نے پہلی دفعہ یہ مضمون پڑھا ہے ہو سکتا ہے اس لیے مشکل لگ رہا ہو۔

ابو جی۔آپ کو نہیں پتہ۔۔یہ سائنس سبجیکٹ سے بھی مشکل ہے۔حفظ سے بھی مشکل ہے۔دنیا کا سب سے مشکل ترین مضمون ۔۔"عربی گرائمر"


اچھا جی۔!!مان لیا ہے۔۔


میرا پتر کون سی مجبوری ہے ۔نہیں آتا تو چھوڑ دو۔

گھر واپس آجاؤ


۔یا پھر ایک ہفتہ اور کوشش کر لو۔کیا پتہ سمجھ آجائے ۔۔

تم تو کہتی تھی کہ فزکس مشکل ہے۔حساب مشکل ہے۔۔

جی میں ابھی بھی کہتی ہوں کہ مشکل تھے دونوں سبجیکٹس. لیکن وہ ٹیچرز اچھی تھیں ۔۔

اچھا یعنی جامعہ کی ٹیچرز اچھی نہیں ہیں؟ تمہارا یہ مطلب ہے؟

نہیں ابو جی۔میرا یہ مطلب نہیں ہے۔۔بس مجھے نہیں سمجھ آتی۔


اگر مجھے سمجھ آنی ہوتی تو آچکی ہوتی۔۔مجھے پتہ ہے اپنا۔۔مجھے ایک ہفتہ کیا۔۔ایک سال میں بھی نہیں آنی۔۔۔۔۔

میرا پتر کون سی مجبوری ہے ۔نہیں آتا تو چھوڑ دو۔اپنے شوق سے گئی تھی تم ۔تمہیں تفسیر کا شوق تھا۔تمہارا شوق ہی ادھورا رہے گا ۔سوچ لو۔۔

یا ایسا کرو ابھی جامعہ چلی جاو ۔صرف'ایک ہفتے کے لیے ۔ نہ سمجھ آئی تو میں وعدہ کرتا ہوں میں خود تمہیں واپس لینے آؤں گا ۔۔۔

ابو جی۔۔تو وہ چار ہزار فیس۔۔۔۔ہاں پتر جی وہ تو واپس نہیں ملنی ۔تو خیر ہی ہے ۔اب چار ہزار کے لیے اپنے زندگی تو نہیں ضائع کرنی۔۔۔۔۔

چلو صرف ایک ہفتے کے لیے چلتی ہوں۔ویسے بھی مجھے


کون سا عربی کے سمجھ آنی ہے۔سو واپسی تو پکی ہے۔۔۔۔دل ہی دل میں خوش ہو کر سامان باندھا اور گوجرانوالہ جامعہ عربیہ واپس چلی گئی ۔۔

وہاں کی ساری داستان پھر کبھی، کہ کیسے وہ ہفتہ دو سال میں بدل گیا(۔ابو ہر بار واپسی پر اپنا وعدہ مجھے یاد کرواتے کہ میں ابھی بھی اس پر قائم ہوں۔)

کیسےوہاں کے شفیق اساتذہ اور بالخصوص جامعہ کی پرنسپل جو قرآن تفسیر کی استاد بھی تھیں ان کی شفقت اور محبت نے میری قرآن سے دوستی کروا دی۔۔۔وہ دن آیا کہ جسں جامعہ میں، میں صرف ایک ہفتے کےلیے گئی تھی اور جس عربی گرائمر سے ڈر کے بھاگنا چاہ رہی تھی ۔دو سال بعد اس جامعہ کے طرف سے مجھے اس مضمون کو پڑھانے کے لئے بحثیت استاد مدعو کیا گیا ۔۔الحمداللہ ۔بلاشبہ یہ اللہ کا فضل ، اساتذہ کی محبت ، ما ں کی دعا اور سب سے بڑھ کر میرے ابو جی کی۔ 

mentoring..۔۔

he was my first mentor. 

اور والدین بچوں کے سب سے پہلے مینٹور، مربی ہوتے ہیں ۔

میری زندگی ایسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہےجب بھی کچھ کرنے لگتی۔۔پہلا قدم اٹھاتے ہوئے ڈر لگتا ۔تو ابو جی کہتے ۔۔اٹھا کے دیکھو تو سہی ۔تمہارا کام بس اتنا ہی ہے۔۔پہلا قدم اٹھانا۔۔اگلے قدم پر اپنے رب کو ساتھ پاو گی

جب بھی اسی راہ پر تھوڑی دور جا کر محسوس ہوتا کہ اب اور نہیں چل سکتی ۔۔واپس مڑنے لگتی تو'کہتے ۔پتر جی ۔۔قدم جو اٹھا لیا ہے واپس مڑ کر نہیں دیکھنا۔۔

ہاں تھکاوٹ ہے تو تھوڑا آرام کر لو۔

۔اگر سمجھ نہیں آرہی تو کسی سے پوچھ لو

۔کام خراب کرنے یا'چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔بندہ پوچھ لے۔پوچھنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا( میرے۔ حفظ کرنے کے بعد مجھے اپنا ناظرہ سناتے تھے) 

 کبھی اگر یہ کہتی کی ابو جی سب لوگوں نے یہ طریقہ اپنا کر دیکھا ہے۔وہ کامیاب نہیں ہوئے تومیں کیسے ہو سکتی ہوں۔۔؟ تو کہتے ۔۔کیونکہ تم سب کی طرح نہیں ہو۔۔۔ہو سکتا ہے انھوں نے محنت نہ کی ہو۔۔۔ہو سکتا ہے کسی سے مشورہ نہ کیا ہو۔۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کام آدھ میں چھوڑ کے بھاگ گئے ہوں۔۔۔کیوں نہ ایسے کسی کو دیکھ لیں جس نے ہمت نہ ہاری ہو۔۔

میں کہتی ابو جی مجھے تو آج تک کوئی ایسا نہیں ملا۔۔جواب دیتے۔تو پتر جی ۔آپ ایسے بن جاؤ۔

۔"جس کی تلاش ہے۔وہ خود ہی بن جاؤ۔"۔

تاکہ لوگ آپ کو دیکھ کر آگے بڑھیں ۔کوئ قدم اٹھانا چاہے تو آپ اس کی ہمت بن جاؤ۔کوئی راستے میں تھک کے بیٹھ جائے تو اسے دوبارہ کھڑاکر دو۔کو ئ اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے مایوس ہو کے واپس مڑنے لگے تو اس کی امید بن جاؤ۔۔۔۔۔

آہ۔۔میرے ابو ۔۔میں کسی سے انسپائرڈ نہیں ہوتی۔بہت سے لوگ مجھ سے سوال پوچھتے ہیں ۔کہ پرسنل ڈیویلپمنٹ اور تھراپیز کی دنیا میں آنے کے لیے آپ کی انسپائریشن کون ہے۔۔۔میں خود بھی اس کا جواب نہیں جانتی تھی کہ کون میرے کان میں سرگوشیاں کرتا ہے ۔کہ تم کرسکتی ہو. کس کے کردار کی پختگی مجھے بار بار اس راستے پر لے آتی ہے۔۔بلاشبہ بحثیت مسلمان میرے لیے رول ماڈل ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن ان کے بعد موجودہ دور کے انسانوں میں سے ۔۔میرے ابو ۔

اللهم اغفر له وارحمه

He is my inspiration. 

ان کو اس دنیا سے گئے ہوئے اب دس سال ہونے والے  ہیں ۔مگر میرے لیے وہ آج بھی زندہ ہیں ۔میرے ساتھ میری زندگی کے ہر قدم پر ۔ان کے الفاظ آج بھی مجھے حوصلہ دیتے ہیں ۔


ماں باپ زندگی کا ایک چیپٹر نہیں ہوتے جس کو ایک نشست میں پڑھا یا سنایا جا سکے۔۔یہ تو پوری کتاب ہوتے ہیں ۔جن کی زندگی کا ہر چیپٹر بچوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

بحثیت ماں اس تحریر کے توسط سے صرف یہ پیغام دینا چاہوں گی کہ آپ کے رویے ۔، آپ کی تسلیاں، بچوں کے دکھ میں ان کا ساتھ دینا یا کبھی وہ ہمت ہارنے لگیں تو آپ کے جذبے ان کی شخصیت پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں ۔

بھلے ہی ابھی آپ کو لگے کہ بچے سنتے نہیں ہیں ۔مگر یاد spongeرکھییے ۔۔وہ دیکھتے ضرور ہیں ۔وہ ایک 

 کی طرح ہیں ۔سب کچھ جذب کر رہے ہیں ۔دھیان رکھییے گا کہیں خدانخواستہ ہمارے کردار کی سیاہی جذب نہ کر لیں 

۔آئیں سب مل کر اللہ سے خوشبودار کردار مانگیں ۔۔اس کے لیے شعوری کوشش کریں تاکہ بچے ہم سے خوشبو جذب کریں اور معاشرے کو اپنےمہکتے کردار سے معطر کریں ۔

 

(سلمی'بنت عبدالقدیر)

Mrs Salma Malik 

Master UR Mind

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. بہت ہی پیاری تحریر، باپ اور بیٹی کےُ رشتے کی خوبصورت عکاسی، اور ساتھ ہی بحیثیت ماں اس بات پر توجہ بھی کے میرا ہرعمل بچوں کے ساتھ کیسے چلتا رہتا ہے، تو کتنا ضروری ہے کہ ہم سوچیں کہ ہم کیا دے کر جا رہے ہیں اپنے بچوں کو۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. اوہ پیاری سلمی کیا کیا نہ سکھا دیا اک چھوٹی سی تحریر نے اس پر تبصرہ لفظوں میں کرنا اور وہ احساسات بیان کرنا جو اسکو پڑھ کر دل نے محسوس کیے مشکل ہے بس چند لفظ کہوں گی کہ آپ کے کردار کی مضبوطی اور دین کے لیے آپ کے کام دیکھ کر پھر آپ کے والد کے انداز تربیت کو دیکھ کر سمجھ آتا ہے کہ کہانی صرف ہیرو کے کارنامے کی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کسی مہربان شخصیت کا ہاتھ ہوتا ہے
    دوسری بڑی بات ان کا اپنا کردار بھی تھا جو آپ کے اندر اتر گیا اور آپ کو اس قابل کر گیا کہ آپ آج انکی یادوں کو سنہری کرنوں کی طرح ہر طرف پھیلا رہی ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے

    جواب دیںحذف کریں