محاسبہ

 ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے بچے اصل میں پرابلم ہیں ۔وہ ہمیں تنگ کرتے ہیں ۔۔۔ہماری باتیں  نہیں مانتے۔۔۔وہ ضدی ہیں ۔۔۔ڈھیٹ ہیں ۔۔بدتمیز ہیں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔

اور ہمارے پریشان ہونے کی سب سے بڑی وجہ "ہمارے بچے" ہیں۔۔اگر یہ فکس ہو جائیں تو ہر طرف امن وامان۔۔۔ہمیں کوئی ایسا مل جائے جو ہمارے بچوں کو فکس کر دے یا ہمیں بتائے کہ کیسے ان بگڑے ہوئے بچوں کو سدھارنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

؟؟؟؟


مگر۔۔۔۔

حقیقت کچھ اور ہے۔۔۔اگر بچوں کے اس رویے سے ہم ڈسٹرب ہو جاتے ہیں اپنا کنٹرول کھو بیٹھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچے پرابلم نہیں۔۔۔ہمارے لیے ٹریگرز  ہیں۔۔۔۔ہم۔سب اپنے ساتھ ایموشنل بیگ اٹھائے پھر رہے ہیں ہم سب اپنے بچپن سے ،ہمارے والدین ان کے بچپن سے یہ پلندے اٹھائے پھرتے ہیں ایسے اندرونی زخم لیے پھرتے ہیں جن پر  صحیح وقت میں مرہم نہیں لگا ۔۔جو ناقابل برداشت رویے ہمیں سہنے پڑے کچھ نفرتیں، غصہ، شکوے شکایات جو ہم اندر دبائے بیٹھے ہیں ان سب کے لے بچوں سے اچھا بٹن دبانے والا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔

بس یہی ہے ۔۔۔۔کبھی ان کی ایک چیخ۔۔ایک انکار۔۔۔۔یا ایک پلٹ کر جواب ہمارے ان ایموشنل بیگیجز  کو چھیڑ دیتا ہے۔۔۔۔۔وہ ہمارا ایک بٹن دبا دیتے ہیں۔۔۔


بچوں کو فکس کرنے کی بجائے کیوں نہ خود کو فکس کر لیا جائے۔۔۔۔۔بچوں پر اپنے اندر کا گند انڈیلنے کی بجائے اس گند کی صفائی کر لی جائے ۔۔۔۔


ہماری اولاد ہمارے لیے ایک ٹیسٹ ہے۔۔۔۔اور ٹیسٹ تو اس لیے  بھی کیا جاتا ہے کہ ہم جان پائیں ہم کتنے قابل ہیں۔۔۔کہاں کمی ہے ۔؟۔کتنا کام کرنا باقی ہے۔۔۔؟۔


یہ امتحان تو ان معنوں میں بھی لیا جاسکتا ہے کہ ہم اس نعمت کو پاکر کہیں اسی کو قبلہ  نہ  بنا لیں۔۔۔۔۔۔اللہ نے مقصد واضح کردیا ۔۔۔کہ اولاد کو قبلہ نہیں بنانا۔۔اسی کی خوشی اور غمی کو مقصد زندگی نہیں بنانا۔۔۔۔یہ تمہارے لئے آزمائش ہیں۔۔انھی کے ذریعے تمہارے  رویے، ایمان، اخلاقی، معاملات چیک کیے جائیں گے۔۔

۔۔


مگر ہمارے ہاں امتحان کو محض ایک  مصیبت یا مشکل ترین کام سے تعبیر کیاجاتا ہے اسی لیے جب۔بات اولاد کی آتی ہے تو  ہمیں بخار چڑھتا ہے کہ اولاد ایک ٹیسٹ ہے ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔۔۔ہم گھبراجاتے ہیں ۔۔۔

لیکن بیک وقت ہمارا عمل مضحکہ انگیز بھی ہے کہ باقی ہر امتحان میں کامیابی کے لیے ہم۔سر توڑ کوشش کرتے ہیں اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں خود پر کام کرتے ہیں مگر اولاد کے بارے میں  کلیہ ہی بدل دیتے ہیں کہ خود پر کام کی بجائے اسی ٹیسٹ کو بدلنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔۔۔


۔اگر واقعی  اولاد والا امتحان  مصیبت ہوتا تو اللہ سبحان و تعالی جو رحیم ہے کیا انسان کو یہ نعمت محض مصیبت میں ڈالنے کے لئے دیتے؟؟



اولاد آزمائش ہے اس کے بےشمار پہلو ہیں جن پر سیر حاصل گفتگو کی جا سکتی ہے ۔۔مگر اس وقت صرف یہی توجہ دلانا چاہوں گی کہ بحیثیت والدین اپنی سوچ پر، اپنے ایموشنز پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرنے کی ضرورت ہے ۔۔اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ہر وقت اولاد کو سمجھانے کی بجائے۔۔۔۔۔۔۔ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔۔


 اپنے گند سے بھرےایموشنل بیگ اتار پھینکنے کی ضرورت ہے۔۔۔ورنہ وہ یہی گند اگلی نسلوں تک منتقل کرتے رہیں گے۔۔۔


رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَٰجِنَا وَذُرِّيَّٰتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍۢ وَٱجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا.آمين


Salma Malik 

(EFT PRACTITIONER)

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے