زمانہ کرتا ہے پرورش برسوں

 میرے دادا جی مرحوم( اللهم اغفر له ) کہا کرتے تھے کہ ان کے زمانے میں ناچنے اور گانے والوں کو کنجر کہا جاتا تھا۔شریفوں کے محلے میں ان کو رہنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔بہو بیٹیوں اور بیٹوں کو بھی اس طرح کےلوگوں کی صحبت سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی۔مگر اب یہی لوگ۔"فن "کار اور "گلو "کار ( فن اور "گلو "پر زور ڈالتے ہوئے کہتےتھے) کہلانے لگ گئے ہیں۔ نام جو مرضی رکھ لیں۔نام بدلنے سے کردار اور انجام تھوڑی بدل جائے گا۔۔۔


یہ میرے دادا جی مرحوم کہا کرتے۔عموما اس وقت جب کہیں سے گانے کی آواز آتی ۔یا ان کو پتہ چلتا کہ کسی شریف گھرانے کی بہو بیٹیوں نے شادی پر لڈی ڈالی یا ڈانس کیا۔۔


ان کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تقریبا25-24 سال ہوچکے ہیں۔مجھے اس وقت قرآن حفظ کیے ہوئے تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا۔مگر جب بھی ان کے پاس سے گزرتی تو کوئی نہ کوئی آیت پڑھ کر پوچھتے۔۔یہ کس سورت میں ہے ۔کبھی تو مجھے پتہ چل جاتا اور جب نہ چلتا تو یہ کہ دیتی کہ یہ کافی سورتوں میں آئ ہے ۔۔۔😀۔۔۔۔میرے اس جواب پر ہمیشہ مسکرا کر مجھے کہتے۔۔مجھے لگتا ہے فلاں سورت میں ہے۔میرا قرآن کھولو۔۔آو دیکھیں۔۔۔انھوں نے باقاعدہ حفظ نہیں کیا تھا مگر مجھے لگتا تھا کہ ان کی منزل مجھ


سے بہت اچھی تھی۔

بہت کم عرصہ وہ ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں رہےاور اس تمام عرصہ میں صرف ایک دفعہ یہ اتفاق ہوا کہ انھوں نے نظریں آٹھا کر اوپر دیکھا۔۔میں اتفاقا ان کے سامنے تھی ۔۔واللہ۔۔۔واللہ۔۔۔مجھے آج بھی یاد ہے۔۔ان کی آنکھوں میں جو جلال تھا۔۔میں برداشت نہیں کر سکی تھی۔۔اس قدر با حیا اور نظر کی حفاظت کرنے والے۔۔ہر وقت قرآن کی تلاوت کرتے رہتے۔۔جو بھی ان سے ملنے آتا۔۔آواز سے پہچان لیتے۔۔ہم نے کبھی ان کو کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔ان کی جوانی کے بارے میں میں نہیں جانتی مگر یہ ان کا مقدس بڑھاپا اور با رعب شخصیت اس کا ثبوت تھی۔۔۔


زمانہ کرتا ہے پرورش برسوں۔۔۔


مجھے تو ہمیشہ ان کی باتیں یاد آتی ہیں۔۔کبھی پاکستان بننے کے قصے ہمیںں سناتے ۔۔کبھی مجھے اور میرے بھائی کو فارسی سیکھنے کی تلقین کرتے۔۔ان کو فارسی زبان سے بہت لگاؤ تھا۔۔ہمیں شیخ سعدی کا یہ پند نامہ بھی یاد کروایا ۔

 كریما ببخشاے بر حال ما

كه هستیم اسیر كمند هوا

ان کی یادوں اور باتوں پر تو ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔۔۔۔آج ان کی جس بات نے مجھے لکھنے پر مجبور کردیا وہ وہی المیہ ہے جو شروع میں لکھ ڈالا۔۔

۔آجکل شادیوں کا دور دورہ ہے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو ہمیں شادیوں کی کچھ خرافات سے نجات کا موقع ملا تھا وہ ختم ہوتے ہی سب یوں میدان میں آئے۔۔جیسے بہت زیادہ جانوروں کو کسی تنگ جگہ پر بند رکھنے کے بعد کھولا جائے تو وہ بوکھلا جاتے ہیں۔۔پنجابی میں کہتے ہیں۔۔"انی مچا دینا"۔۔بس وہی صورتحال ہے۔۔

جوان کنواری بیٹیاں،۔۔۔باریک اور چست لباس میں اپنے بھائیوں یا کزن کی شادیوں پر اسٹیج پر حیا باختہ حرکتیں کرتی ہوئیں ۔۔🥲🥲

جن کی حیا کی مثال ایسے دی گئی۔۔۔آپ صلی الله عليه وسلم کے بارے میں فرمایا گیا۔۔کہ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیاتھے۔۔۔گویا ۔۔حیا کنواری لڑکی کی پہچان ہے۔ایمان کا شعبہ ہے۔۔۔

 

میاں بیوی اکٹھے ناچ رہے ہیں۔۔ پروفیسر عرفان صاحب کہا


کرتے تھے جب بیوی اپنے شوہر کی ساتھ باہر بے حیا لباس میں جاتی ہے۔۔تو اس کا مطلب ہے مرد میں غیرت نہیں۔۔ہاں بات تو بہت تلخ ہے مگر ۔۔حقیقت بھی ہے۔۔

۔میاں بیوی تو دونوں ایکدوسرے کے ایمان کے محافظ تھے۔شوہر تو سربراہ تھا۔۔اس کی موجود گی میں اگر یہ حال ہے تو لمحہ فکریہ ہے۔


خواتین کا لباس روز بروز شرمناک حد تک پہنچتا جا رہا ہے۔۔افسوس اس بات کا ۔۔کہ عموما عبایہ پہننے والیاں بھی شادیوں کے موقع پرنہ صرف اس کو خیر باد کہہ دیتی ہیں۔بلکہ 

mix gathering

 میں جو لباس پہنا جاتا ہے وہ بھی شرعی تقاضے پورے نہیں کر پاتا۔۔

سب سے زیادہ افسوس جس بات پر ہوتا ہے اور دل دکھتا ہے کہ اس گھر کے سربراہان کی مو جودگی میں یہ حیا سوز فنکشن منعقد کیےجاتے ہیں۔۔۔۔بلکہ وہ بھی یہ کہتے ہوئے سنائ دیتے ہیں۔۔کہ بچوں کی خوشی ہے ۔۔ایک ہی دفعہ تو یہ وقت آتا ہے۔۔کوئ بات نہیں۔۔۔۔۔


ربنا فأغفر لنا ذنوبنا...آمين 


یہ تو ایک معمولی سی جھلک ہے اور شاید ہم عادی ہو چکے ہیں۔۔ہم اس وقت برائ کے اس مقام پر ہیں جہاں برائ ، برائ نہیں لگتی۔۔بلکہ میرا ماننا یہ ہے کہ برائ کی قباحت کو بہت سوچ سمجھ کر ختم کیا گیا۔ اور ہم نے بخوشی اس کو قبول بھی کر لیا ۔بظاہر یہ محض کچھ terms ، اصطلاحات ہیں جو ہم نے بدل ڈالیں۔۔۔

مثال کے طور پر۔۔۔


پہلے  ناچنے اور گانے والوں کو ":کنجر"کہتے تھے وہ اب  اور آرٹسٹ اور سٹارز کہلانے لگے  


بچے بڑوں کے سامنے اونچی آواز میں بات کرتے تھے تو وہ "بدتمیز "کہلاتے تھے۔۔مگر اب 

"confident "

.کہلاتے ہیں۔


کسی کی بات ناگوار گزرتی تو فی الفور منہ توڑ جواب دینے والے کو "منہ پھٹ"کہا جاتا۔۔اب اس کو

" brave "

کہا جاتا ہے۔۔


خیر مثالیں تو بہت ہیں۔۔اور یہ موضوع بھی ایسا ۔۔کہ نہ تو میں پہلی ہوں جو اس پر لکھ رہی ہوں نہ آخری۔۔کہ اس کے بعد اس پر لکھا نہیں جاے گا۔۔۔بس اپنی طرف سے یہ حصہ ضرور ڈالنا چاہوں گی۔۔۔کہ ایسا نہ ہو اصطلاحات بدل بدل کر ہم برائ کی اس دلدل اس قدر دھنس جائیں کہ ہماری آئندہ نسلیں برائ اور بھلائی میں تمیز ہی نہ کر سکیں۔ ۔ماڈرن ازم کے جھانسے میں آکر وہ دوبارہ اسی دور جاہلیت میں واپس چلے جائیں جس سے نکالنے کے لیے یہ ہدایت نامہ ہمیں تحفہ میں دیا گیا۔۔۔۔


ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔۔۔بقول میرے داداجی۔۔۔اصطلاحات بدل دینے سے کردار اور انجام نہیں بدل جاتا۔۔۔


کریما بہ بخشائے. برحال ما

 کہ ہستیم اسیر کمند ھوا۔۔۔۔۔


اے کریم (اللہ) ہمارے حال پر کرم کر، بخش دے کہ ہم تو حرص و ہوس اور خود غرضی کی ڈوریوں میں بندھے ہوئے ہیں۔۔۔

(شیخ سعدی )

لاک ڈاؤن کے بعد لکھی گئی ایک تحریر )


Salma malik 

Master UR Mind

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. بہت تلخ حقائق ہیں,جن پر آپ نے بات کی ہے,اللہ ہم پر رحم فرمائے او صحیح معنوں میں با حیا مسلمان بنائے,آمین

    جواب دیںحذف کریں