وہ بار بار یہی کہ رہی تھیں کہ میرا دل روتا ہے لیکن میری آنکھیں ساتھ نہیں دیتیں ۔۔میں رونا چاہتی ہوں مگر رو نہیں پاتی۔ایک گھٹن کا احساس ہے۔میرا بلڈ پریشر ہر وقت ہائ رہتا ہے
arthritis
کی وجہ سے میرا دائیاں بازو ایک دم لاک ہو جاتا ہے۔مگر ان سب سے بڑھ کر جو بات مجھے پریشان کرتی ہے وہ یہ کہ میں باتیں بھول جاتی ہوں۔ میموری لاس پرابلم جس کی وجہ سے بہت شرمندگی ہوتی ہے۔کسی سے بات کرتے کرتے اچانک دماغ خالی ہو جاتا ہے۔میں نے اسی لیے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا ہے۔
میرے بچے میرا بہت دھیان رکھتے ہیں ۔میرا آپ کے ساتھ یہ سیشن بھی میری بیٹی نے ہی مجھے گفٹ کیا ہے۔کچھ دنوں تک میں نے پاکستان جانا ہے مگر پتہ نہیں کیا ہوا جب سے سیٹ بک کروائی ہے بہت زیادہ پینک اٹیکز شروع ہو گئے ہیں ۔میں تو ہر نماز کے بعد اللہ سے دعا مانگتی ہوں کہ یا اللہ مجھے صحت دے مگر دن بدن صحت بگڑتی جا رہی ہے کوئی وظیفہ نہیں چھوڑا میں نے۔۔۔۔
اس سیشن کا آغاز ہم عموما ایک ایسے جملے سے کرتے ہیں جو کلائنٹ کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہوتا ہو یا پھر جو اس وقت اس کی اسٹرانگ فیلنگز ہوں ۔
خیر وہ بار بار کہ رہی تھیں کہ میرے لیے سب سے پریشان کن بات "بھول جانے "کی بیماری ہے۔ہم نے اسی ایک جملے سے سیشن شروع کیا ۔پہلے ہی راؤنڈ میں تمام انرجی پوائنٹس پر ٹیپ کرنے کے بعد کہنے لگیں،۔مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب دن میری امی کی وفات ہوئی ۔ہمیں پاکستان سے آئے ہوے ابھی دو ہفتے ہی ہوے تھے میری امی میرے لیے بہت خوبصورت کپڑے سلوا کے لائ تھیں وہ سبز رنگ کی پھولوں والی شلوار قمیض ۔میری عمر اس وقت سات یا آٹھ سال تھی ہمیں امی نے تیار کیا اور ہمارے گھر کے قریب ہی ایک پارک تھا میں اور میری بڑی بہن دونوں ڈیڈ کے
ساتھ وہاں چلے گئے۔
۔سلائیڈ لیتے ہوئے میری شلوار کا پائینچہ ادھڑ گیا اور میں دل ہی دل میں ڈر رہی تھی کہ گھر جا کر امی کو بتایا تو خفا ہوں گی کہ آ ج ہی نیا سوٹ پہنا اور خراب بھی کر دیا۔خیر تھوڑی دیر بعد ہم گھر واپس چلے گئے میں ڈرتے ہوئے امی کے کمرے میں گئی تا کہ ان کو بتا سکوں۔مگر ان کو اس حالت میں دیکھ کر میں کچھ بول ہی نہ سکی ۔وہ ماں جس کو میں تھوڑی دیر پہلے ہنستا ہوا چھوڑ کر گئ تھی جس نے اپنے ہاتھوں سی مجھے تیار کیا تھا وہ بے سد پڑی تھیں ان کے پاس خون ہی خون تھا خون کی الٹی کرنے کے بعد وہ بےہوش تھیں ۔ان کو ڈیڈ فورا ہاسپٹل لے گئے ۔دو دن وہاں رہیں ۔ہمیں ان کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔میں اپنے ڈیڈ سے کہنا چاہتی تھی کہ مجھے ایک دفعہ اپنی امی کے پاس لے جائیں مگر نہیں کی پائ۔پھر تیسرے دن ان کی میت گھر آگئ ۔سب رو رہے تھے سوائے میرے۔۔میں رونا چاہ بھی رہی تھے مگر رو نہیں پائ ۔۔
وہ یہ بتاتے ہوئے حیران ہو رہی تھیں کہ مجھے تو بات کرتے ہوئے بھول جاتا ہے کہ کیا کہ رہی تھی پھر آج یہ منظر کیسے مجھے یاد آگیا ۔وہ بھی اب جب کہ میں ستاون سال کی ہو گئ ہوں
آنکھوں میں کچھ نمی محسوس کرتے ہوئے بولیں کہ دل
میں تو ایک آنسوؤں کا سیلاب ہے مگر آنکھیں ساتھ نہیں دے رہیں ۔۔میں نے پوچھا آپ کب سے ایسا محسوس کرتی ہیں ۔کہنے لگیں جب سے میری بڑی بہن
فوت ہوئ ہیں۔
After my mother she was a mother figure for me. She was my best friend .i loved her so much .she lookedafter me.i miss her .i miss my baji.
یہ کہتے ہوئے بار بار اپنا دائیاں ہاتھ اپنے سینے پر رکھتیں ۔گھٹن ، درد اور آنسوؤں کے نہ آنے پر سوالیہ نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھیں ۔اور دہرانے لگیں ۔میری آنکھیں میرے دل کا ساتھ نہیں دیتیں ۔میں جی بھر کر رونا چاہتی ہوں .میں اپنی امی اور اپنی بہن کو کہنا چاہتی ہوں کہ
I miss you.
i love you.
i feel alone without you.
اگرچہ آج میرے پاس اللہ کی دی ہوئی بہت سی نعمتیں ہیں ۔میرے بچے میرا بہت دھیان رکھتے ہیں
but still i feel ale.
i feel emptiness inside me.
یہ ایک مکمل تھراپی پروسیس ہے جس کو یہاں صرف لکھنا شاید مفید نہ ہو مگر بہرحال یہ ضرور بتانا چاہوں گی کہ اللہ سبحان و تعالی نے ہمارے دماغ کو اتنی پاور دی ہے کہ آپ جب بھی عمر کے کسی بھی حصے میں اس کی ریوائر کر سکتے ہیں ۔اس کی نیگیٹو پروگرامنگ کو پازیٹیو پروگرامنگ میں بدلا جا سکتا ہے۔
ہاں مگر اس کے لیے آپ کو اسی شعبے کے ماہرین سے رابطہ کر نا پڑ ے گا۔۔
سو اسی ٹیکنیکس کو استعمال کرتے ہوئے میں نے ان سے کہا ۔ آپ جو بھی اپنی امی اور بہن سے کہنا چاہتی تھیں آج کہ دیجئے ۔مگر اس سے پہلے ہم دل کو اجازت دیں گے کہ وہ اپنی بات ایز اٹ از بیان کر سکتا ہے۔صرف ایک جملہ بولا ہم نے۔۔۔۔کہ میں اعتراف کرتی ہو ں کہ میں نےخود اپنے دل کو پابند کر دیا تھا یہ میرا اپنا انتخاب تھا کہ کہ میری آنکھوں اور دل کا آپس میں کوئی کنیکشن نہ ہو۔
I choose to move forward۔
I choose to say sorry to my heart and eyes.
i choose to allow my heat to cry.
i choose to allow my eyes to release this pain.
الحمداللہ ۔
That was miracle.
وہ ایسے رو رہی تھیں جسے دریا کا بند ٹوٹ جائے۔۔کچھ لمحوں بعد گہری سانس لیتے ہوئے بولیں ۔۔
Alhamdulillah i m feeling so light.
آج ایسے لگ رہا کہ میں پچاس سال بعد روئی ہوں۔۔
وہ مسکرا رہی تھیں ۔ان کی تشکر آمیز نگاہوں میں ابھی کچھ سوال باقی تھے
کیا واقعی یہ ماضی کی یادیں مجھے دوبارہ تنگ نہیں کریں گی؟
کیا واقعی میرے
arthritis, high blood pressure, memory loss کے پیچھے ان یادوں کا عمل دخل ہے۔؟
میرا جواب یہی تھا۔۔کہ بالکل ایسا ممکن ہے اگر خود پر کام کیا جائے۔
ہم اپنے ماضی کے تلخ واقعات و حادثات کو نہیں بدل سکتے لیکن ان سے جڑے منفی ایموشنز کو ریلیز کر سکتے ہیں کیونکہ درحقیقت یہ منفی جذبات ہی ہوتے ہیں جو جسم میں انرجی کا فلو روک دیتے ہیں۔
جن جذبات کو ہم اپنے اندر دفن کر دیتے ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اس لیے ایسے نیگیٹو ایموشنز کو ریلیز کرنا ان کو ایکسپٹ کرنا بہت ضروری ہے۔۔۔
یہ موضوع تو نہ ختم ہونے والے موضوعات میں سے ۔مگر یہ ضرور کہنا چاہوں گی۔۔
Its ok to cry.
Its ok to feel sad.
اپنی زندگی میں کوئی ایسا دوست ضرور بنائیں جس کے
ساتھ آپ اپنا کتھارسس کر سکیں بلاشبہ اللہ سے دوستی دل کو نرم کرتی ہے مگر ہم عالم اسباب کے باسیوں کو کوئ بشر چاہیے جو ہمیں سن سکے اور ہماری ہی دنیا سے تعلق رکھنے والا ہو۔وہ ہمیں حوصلہ دے سکے۔یی بھی تو اللہ کا نظام ہی ہے ناں کہ اس نے ہمیں انسان بنا کر انسانوں کے درمیان بھیج دیا۔ انسانوں سے معاملات کرنے کےلئے یہ جسم دیا۔اس کے اندر فیلنگز رکھ دیں ۔یہ اعضاء ٹولز ہیں ۔یہ فیلنگ، میسیجز پیغام رساں ہیں اعضاء کی خرابی اس کی علامت ہے کہ ہم نے اس جسم کے ساتھ ، جواللہ کی دی ہوئی نعمت ہے ، کوئی خیانت کر دی ہے۔۔
آئیے اپنے آپ سے معافی مانگیں ۔خود کو معاف کریں۔۔اپنے رب سے معافی مانگیں جس نے یہ خوبصورت نعمت ہمیں عطا کی اور عہد کریں کہ سب سے پہلے اس کا حق ادا کریں گے۔کیونکہ اگر اس کا حق ادا نہ کیا تو دوسروں کے حقوق ادا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
I choose to lookaftermyself.
I choose to be grateful to Allah for this body
Salma Malik
EFT PRACTITIONER .

1 تبصرے
بہت اچھی تحریر ہے ۔اثنے دماغ اور جسم کو سمجھنا۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریں