ایک تاجر جہاں جاتا ہے وہاں صرف اپنی پروڈکس نہیں بلکہ مکمل تہذیب بھی لے کر جاتا ہے۔وہ بیک وقت اپنی سوچ، کردار اپنے دین اور علاقے کی نمائندگی بھی کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔یہی تصور تھا جب مسلمان تجارت کیاکرتے تھے
کل ایک پاکستانی
کپڑوں والی دکان میں جانا ہوا جہاں مردوں اور عورتوں دونوں کی کولیکشن موجود تھی میں نے بیٹے کےلیے کپڑے لینے تھے تو مردانہ زون میں جانا پڑا۔عورتوں والا حصہ باہر کی جانب تھا باہر سڑک سے بھی اندرونی مناظر دکھائی دے رہے تھے عورتوں سے کھچا کھچ بھری دکان کی صورتحال دیکھ کر پاکستان میں کپڑے والی دکان کے مناظر یاد آ گئے۔۔ ۔کبھی دائیں سے آواز۔۔بھائی جی اس کے ساتھ یہ دوپٹہ نہیں ہے ۔۔کبھی بائیں طرف سے اس میں سمال سائز کدھر ہے ۔۔۔۔۔پانچ چھ جوڑے ہاتھ میں پکڑ کر ترلے کرتی آواز۔۔۔پائن(بھائی جان)اینج تے نا کرو۔۔کش تے ڈسکاؤنٹ دیو۔۔( ایسے تو نہیں کریں کچھ تو ڈسکاؤنٹ دیں )۔۔۔۔افففف۔۔ہر طرف شور ہی شور ۔۔۔اور اسی شور میں لڑکیاں وہیں کھڑے کھڑے مختلف سائز ٹرائی کر رہی ہیں۔حالانکہ جینز اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اسی کے اوپر ہی شلوار قمیض کے سائز چیک ہو رہے تھے مگر وہ مناظر بھی شرمناک ہی تھے۔۔۔۔اس دکان میں تین چار نوجوان ہی تھے جو ڈیلنگ کر رہے تھے صرف ایک لڑکی تھی جسے انھوں نےسٹور روم سے ایکسٹرا سائز لانے کے رکھا ہوا تھا۔۔۔
خیر میں جب مردانہ کپڑوں والے حصے میں گئی تو یوں لگا کہ کسی شہر کی بے ہنگم ٹریفک سے نکل کر ایکدم آپ پرسکون خاموش شاہراہ پر ہوں۔۔۔
اس کمرے کا ماحول پرسکون لگا شاید اس لیے بھی وہاں سوائے کپڑوں کے ایک ہی آدمی تھا جو نماز پڑھ رہا تھا اب ظاہر ہے بےچارے بے جان کپڑے کیا شور مچاتے۔۔😀
اور دوسرا یہ کہ مجھے تو تقریبا سترہ اٹھارہ برس ہوئے کپڑے کی دکانوں کا بے ہنگم شور سنے۔۔جب تک پاکستان تھی تب بھی بہت کم ہی جانا ہوا کرتا تھا مگر بازار کے حالات ایسے ہی ہوتے تھے ۔
اس کے بعد جب بھی جانا ہوا تو دوبارہ اسں کھچا کھچ سے اجتناب ہی کیا۔اب الحمدللہ یہ شور شرابا میری بہن برداشت کر لیتی ہے مجھ تک سلے سلائے پہنچ جاتے ہیں😀😀 اور دوسرا آن لائن سروسز نے کام آسان کردیا ہےگویا اب اب اس طوفان بدتمیزی کی عادت نہیں رہی۔۔۔
مجھے لگا شاید یہ سب وجوہات ہیں میری ڈسٹربنس کی۔۔۔۔
مگر ۔۔نہیں۔۔جس بات سے اور جن مناظر نے میرے اندر ہلچل مچا دی وہ خواتین کے کپڑوں والی دکان میں چینجنگ روم کا نہ ہونا۔۔۔
چار مرد ڈیل کر رہے ہیں مگر سب ایک ہی کاؤنٹر پر کھڑے ہیں ایک ہی کارڈ پیمنٹ مشین ۔۔ہر کوئی پہلے پیمنٹ کے چکر میں ہیں مگر سسٹم کوئی نہیں۔۔
میں ایک غیرمسلم کپڑوں والے سٹورسے نکل کر آئی تھی جہاں میرا دس سال کا بیٹا بھی الگ
changing room
میں جا کر آرام سے کپڑے بدل سکتا تھا۔۔مرد الگ خواتین الگ۔۔۔۔
پیمنٹ سسٹم۔۔۔دو آپشن موجود ہیں سامان تھوڑا ہے سیلف چیک یا پھر انتظار میں لائن میں کھڑے ہو جائیں۔۔۔
ہر قسم کے کپڑے ہیں مگر نہ کوئی دھکم پیل۔۔ نہ شور شرابا۔۔نہ ریٹ کم کرانے کےلیے ترلے۔۔
مگر ایک مسلمان اور وہ بھی خواتین کے کپڑوں کی دکان۔۔مناظر بالکل مختلف۔۔۔یہ میں کسی معمولی دکان کی بات نہیں کر رہی ۔۔اور نہ مالکان ایسے کہ اس ملک کے سسٹم سے نا آشنا ہیں۔کافی سالوں سے یہ موجود ہے اتنا تو سسٹم سے آگاہی ہو جانی چاہیے ۔۔اور بحثیت مسلمان ہم تو اس دین کے ماننے والے ہیں جو ایک مکمل بہترین سسٹم ہے ۔۔
اور دوسرا ۔۔۔ با حجاب ماؤں کے ساتھ شاپنگ کےلیے آئی ہوئ پھنسی ہوئی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس نوجوان لڑکیاں۔۔" عید کےلیے" پاکستانی " کپڑے لینے آئی تھیں ۔جو عین کاؤنٹر کے سامنے کھڑے ہو کر مختلف ڈریسز ٹرائی کر رہی تھیں۔
Oh mom.
Its too tight.I can't breath in it..
Oh i am getting fedup .you know i am fasting. Do we have to get these clothes??
اور مام نے ایک گھورتی نظر کے ساتھ بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی وہ بھی علی الاعلان ۔۔۔😆
Oh you know we are going to daadi's house ( دادی کے گھر) and she gets upset to see you in these clothes....
🤪🤪🤪اور دوسری وجہ۔
You know we are Pakistani its our religious celebration so no more arguing. You are going to wear شلوار قمیص۔
Discussion ended۔. .😀😀
اب وہی ماں ان کو شیشے کے سامنے کھڑا کر کے اس کی فٹنگ چیک کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ بھائی صاب سے رائے لے رہی ہے دیکھیں یہ ٹھیک ہے کیا اس میں سمال سائز نہیں مل سکتا۔؟؟ اور بھائ صاحب بہت خیر خواہانہ انداز میں مکمل جائزہ لیتے ہوئے۔۔۔۔"باجی اس میں سمال آتا ہی کوئی نہیں( کہانی ختم🤣)اور یہ تو ایسے لگ رہا ہےجیسے بنا ہی آپ کی بیٹی کےلیے ہے"۔۔۔۔
Aww thank you
اور ماں بیٹی دونوں خوش۔۔۔ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔۔
Deal done ..
ابھی تک کی میری اس کہانی سے شاید آپ کو لگے کہ میں بہت وقت اس مچھلی بازار میں رہی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ جس پرسکون علاقے میں میں کھڑی تھی وہاں کے بھائی صاب پوری بارہ رکعت نماز کے بعد متوجہ ہوئے تو اس دوران یہی تو لائیو شو تھا وہاں۔۔۔
اس پندرہ سے بیس منٹ کے قیام میں بہت کچھ محسوس ہوا ۔ان دنوں سورہ یونس کی وہ آیات زیر مطالعہ تھیں جن میں اللہ کو اپنا رب ، اله ماننے والوں کےلیے ہدایت ، رحمت اور جنت کی بشارت ہے تو بس یہ سب دیکھ کر شدت سے احساس ہوا کہ بحیثیت مسلمان ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔یا پھر ہم جہاں بھی کھڑے ہیں۔۔۔کیا مسلمان کی حیثیت سے ہیں یا صرف انڈین، پاکستانی ، بنگالی، گجراتی۔۔۔کی حیثیت سے ہیں۔۔ہمیں اللہ تعالٰی ایسے ممالک میں لے کر آئے اس نے ہمیں ایسے مواقع فراہم کیے جہاں ہم اپنے دین کی نمائندگی کر سکتے ہیں
اپنی سروسز کے ذریعے، پروڈکس کے ذریعے، گھروں، دکانوں کے سیٹ اپ کے ذریعے۔۔لیں دین کے ذریعے۔۔۔۔۔۔گویا ہمارا ہر قدم ہر کام ہمارے عقائد کی عکاسی کرتا ہے کرنی بھی چاہیے۔۔۔ہم جسکے نمائندے ہیں اس کا رنگ دکھائی
دیناچاہیے۔۔۔۔۔
مگر یہ کیا ۔۔ہم تو اپنی پہچان ہی بھول گئے ہم بھول گئے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں پھر علاقائی پہچان۔۔۔لیکن ہم اپنے اپنے ممالک سے یہاں آئے تو سب کچھ لے آئے سوئی دھاگے سے لے کر گھر میں صفائی کرنے والا جھاڑو بھی ۔۔۔۔برتن ۔۔بستر ۔فرنیچر۔۔جوتی ۔۔کپڑا چائے کی پتی۔۔تبت کریم، شیدے کی برفی ، مودے کے نمک پارے تک۔۔۔۔۔
زمینی ہجرت تو کر لی مگر ذہنیت آج بھی وہی ۔۔۔۔۔
۔وہی بدنظمی، پرائیویسی کا خیال نہیں۔دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنا۔۔ہمیشہ دوسروں کو خوش کرنے کے چکر میں۔۔حیا سوز لباس ۔آنکھیں بند کر کے دوسروں کے پیچھے چلنا۔۔میرا ملک۔میرا شہر۔۔اپنے لوگ۔۔اپنی برادری۔۔۔ہر کسی کو بھائی بہن بنا لینا۔۔محرم نامحرم کی تمیز نہیں۔۔۔
یہ سب کسی بھی علاقے کی پروڈکس نہیں ہیں بلکہ دینی
اقدار کی عدم موجودگی کی پیداوار ہیں ۔۔۔
ایک مسلمان جہاں بھی جائے گا وہ اسلام کا نمائندہ ہوگا۔بیک وقت اگر اپنے علاقے کی چھاپ اور اسلام کی چھاپ اس کےلیے دو مختلف چیزیں ثابت ہو رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے علاقے کے رہن سہن، طریقہ زندگی کی بنیاد میں لا الہ الا اللہ شامل نہیں۔۔ورنہ یہ دو الگ راستے نہیں ہیں۔۔کہ ایک وقت میں یا تو اپنے ملک کی نمائندگی ہو یا اپنے دین کی۔۔۔۔
تجارت کو ایسے ہی بابرکت نہیں کہا گیا۔۔۔یہ ذریعہ ہے اپنی اقدارو روایات کو منتقل کرنے کا۔۔۔۔۔اور کیا مسلمان کی قدارو
ںروایات اسلام کے علاوہ کوئی اور ہیں؟
SALMA MALIK. https://www.facebook.com/UKcompanyMasterUrMind. https://www.facebook.com/SalmaMalikUKTherapyServices





0 تبصرے