میری ڈیوٹی ۔۔۔

 تبلیغ  بھی ایک بیج کی طرح ہوتی ہے۔۔جیسےبیج بونے سے پہلے زمین کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔۔صفائ ستھرائی،نرمی ۔سختی۔۔زمین کی زرخیزی۔مناسب جگہ ۔۔وغیرہ۔۔پھر اس کے مطابق بیج ڈالا جاتا ہے۔۔زمین کی زرخیزی کی نوعیت اگر دھنیا اگانے والی ہو۔۔تو ہم وہاں آم کا بیج نہیں بوتے۔۔۔

اس کے بعد کا مرحلہ پھر اس بیج کی دیکھ بھال ہے۔۔مناسب درجہ حرارت۔۔پانی کی مقدار۔۔صحیح وقت پر مطلوب خوراک۔۔۔جڑی بوٹیوں سے بچاؤ کی تدابیر۔۔۔


ان تمام مراحل کے باوجود صبر اور حوصلے سے اس مناسب وقت کا انتظار۔۔ ۔۔جب تک بیج سے ایک تناور درخت بن جائے 

اس تمام دورانیے  میں کبھی بھی بیج بونے والا یہ حماقت نہیں کرتا۔۔کہ ساری محنت کے بعد ۔۔کچھ ہی گھنٹوں،دنوں یا پھر بالخصوص ایسے پھل جنہیں پکنے میں سالوں درکار ہوں،ان کو نکال کے پھینک دے۔۔کیونکہ ان پر اتنے دنوں کی محنت کے باوجود پھل نہیں لگا۔۔۔

اور نہ ہی کبھی وہ انسان یہ حماقت کرتا ہے کہ دن رات اس کے پاس بستر بچھا لے ۔۔اور بیج کے پھٹنے کا انتظار کرے۔۔کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے۔۔کہ وہ صرف یہاں تک کا مکلف تھا۔۔اس کی ڈیوٹی صرف  شرائط پوری کرنا ہے ۔۔اور حفاطتی تدابیر اختیار کرنا ۔۔۔ بے جان اور کمزور ننھے سے دانے سے ایک تناورپھل دار درخت پیدا کرنااس کے اختیار میں نہیں ۔۔اس کی طاقت نہیں ۔۔اور اس کی ڈیوٹی بھی نہیں ۔۔




بلکل ایسا ہی معاملہ انسانوں کو تبلیغ  میں مطلوب ہے۔۔۔ 

ہمارے ہاں یہ لفظ صرف اندھا دھند بیج پھینک دینے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔۔کہ جو شخص جہاں کہیں بھی نظر آئے۔۔۔جسمانی اور روحانی طور پر اسکی قابلیت کچھ بھی ہو۔۔صفائ ستھرائی کو پس پشت ڈال کر ہم یہ قیمتی خزانہ اس کو تھمانا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔آجکل کوئی بھی ایسی پوسٹ اور ویڈیوز ہم تک پہنچیں تو اولین ترجیح یہی ب گئی ہے کہ فورایہ میسج تو فلاں اور فلاں کو سننا چاہیے۔۔ہم اپنے ذہن میں اس کا سکین کرتے ہیں اور پھر اس کی بیماری کی تشخیص کے طور پر اسے وہ ویڈیو بھیج دیتے ہیں قطع نظر اس کے کہ یہ ڈوز اسے چاہیے بھی یا نہیں۔۔۔نتیجہ؟؟

اس سے تو آپ خود بھی آگاہ ہوں گے۔۔۔معذرت کے ساتھ ۔۔میرا مقصد کسی کو تنقید کرنا نہیں ۔کیونکہ میں خود بھی اسی طبقے کا حصہ ہوں جہاں ایسے غلطی کے مواقع عوام الناس کی نسبت ڈبل ہوتے ہیں جب آپ کے پاس صحیح اور غلط کا علم آجاتا ہے ۔۔جب آپ کے پاس  بیماری کو تشخیص کرنے کا میکنزم ہوتا ہے تو آپ کو سب ہی بیمار لگتے ہیں سوائے اپنے آپ کے۔۔۔۔کسی بھی میدان میں ہوں۔۔والدین ہوں۔۔کمپنی کے مالک ہوں۔۔۔ ٹیم لیڈر ہوں۔۔کسی ادارے کے سربراہ ہوں۔۔بہر حال ہم سب اس میدان میں موجود رہتے ہیں۔۔۔

اسی لیے قرآن میں ایسے مواقع ہر جہاں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا۔۔جن پر آپ نے سالہاسال کام کیا۔۔اور نتائج نظر نہ آنے پر ممکن تھا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کی سوچ اس طرف سفر کرنے لگ جائے ۔دوسروں کو اپنے سامنے غلط راستے پر چلتے دیکھ کر دکھ کے احساسات۔۔کبھی ناامیدی۔۔کبھی تھکاوٹ۔۔اور کبھی فرسٹریشن۔۔ایسے مواقع پر فورا اللہ تعالی نے بہت محبت اور نفاست کے ساتھ آپ کو اس کیفیت سے باہر نکالا ہے۔۔

۔وما عليك الا البلاغ(آپ پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے)

....فذكر..انما انت مذكر. (پس نصیحت کیجئے بے شک آپ نصیحت کرنے والے ہیں 

فَلَعَلَّكَ بَٰخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا۟ بِهَٰذَا ٱلْحَدِيثِ أَسَفًا 

اچھا، تو اے محمدؐ، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے

مختصراً یہ۔کہ ہمیں اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیےکیونکہ یہ وہ غلطیاں ہیں جس کے اثرات صرف تبلیغ کرنے والے پر نہیں ہوتے بلکہ جن کو یہ پیغام جس مقصد کےلیے دیا جا رہا ہوتا ہے مبلغ کے رویے سے وہ اس پیغام سے متنفر ہو جاتے ہیں بلاشبہ اس میدان میں لوگ  خلوص۔نیک نیتی  اور دوسروں کی خیر خواہی کے جذبے سے ہی اترتے ہیں ۔۔اپنا وقت ،اپنی صلاحیتیں ۔۔سب کچھ اسی ایک مقصد کی تکمیل کے لیے لگاتے ہین جو انبیاء کا مقصد تھا اور جو نبی آخری الزماں کے بعد ان کی امت کے سپرد ہے۔۔لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہر حال سب انسان ہیں ۔

۔خطاکار ہیں ۔۔۔اسی لیے ہماری  رہنمائی کی گئی ہے۔۔۔ہمیں یہ ٹاسک دیا گیا یے۔۔۔اور اسی ایک رب کی بندگی و رضا کو مقصود بنایا جائے  ۔
  
 
۔مگر جلد بازی،غصہ،جن کو نصیحت کی جائے ان کی بے
 توجہی کے باعث تعلقات خراب ہو جانا۔۔یا بنجر زمین کے پیچھے پڑے رہنا،بچوں کے ساتھ رویے خراب ہو جانا۔۔۔اپنے ٹیم ورکرز کے ساتھ صرف اس بات پر خفا رہنا کہ صد نصیحت کے باوجود ان کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔۔۔۔وغیرہ ۔وغیرہ ۔
یہ سب رویے نہ صرف داعی کو مقصد سے دور لے جاتے ہیں بلکہ سننے والوں کےلیے اللہ سے قربت کی بجائے دوری کا سبب بن جاتے ہیں۔خدانخواستہ اگر ان علامات میں سے کوئ بھی خود میں موجود پائیں۔۔تو سمجھ جائیں کہ ہم میں انسانوں کو اپنا غلام بنانے کے جراثیم داخل ہو چکے ہیں۔۔یہ احمقانہ سوچ ہمارے اندر جنم لے چکی ہے کہ بیج سے تناور درخت پیدا کرنا بھی ہماری ہی ڈیوٹی ہے۔۔
اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنی جاب ڈسکپرشن  کو پڑھا جائے۔کہ کن مراحل میں کیا ڈیوٹی ہے کتنا رول ہے اور کب تک ہے۔۔۔اللہ تعالٰی کا ہم سب پر احسان ہے کہ اس نے ہمارے جاب ڈسکپرشن میں لوگوں کو بدلنے کی شق ایڈ نہیں کی اور نہ ہی ہماری جنت اور جہنم کا فیصلہ اس کے ساتھ  مشروط ہے کہ ہماری تبلیغ سے آیا لوگ بدلے یا نہیں بدلے۔۔۔

تو جب ہمیں یہ ٹاسک ہی نہیں دیا گیا تو پھر اپنی انرجی صحیح جگہ پر لگانے پر فوکس کرنا چاہیے۔ اور اللہ تعالٰی حکمت اور صبرو استقامت مانگنی چاہیے۔
کیونکہ۔۔
السعي منا والاتمام من الله 
 کوشش کرنا ہمارا کام اور تکمیل اللہ کی طرف سے۔۔


Salma Malik



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے