موت تو اٹل ہے اور جیسے لکھی گئی جہاں لکھی جا چکی ویسے ہی آئے گی مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اپنی احتیاط کرنا چھوڑ دیں یا جن کی لاپرواہی موت کا سبب بنی انھیں یہ الاؤنس دے دیں کہ بھئی آپ وہاں ہوتے بھی تو جو لکھا جا چکا تھا اس کو کوئی ٹال نہیں سکتاتھا۔۔۔۔
درحقیقت یہ اللہ کے راز ہیں مگر ان سب کے ساتھ انسان کو کسی حد تک اختیار بھی دیا گیا کہ اپنے حصے کا کام کرے باقی اللہ پر چھوڑ دے مگر ہم اپنی ہر کوتاہی اور غیر ذمہ داری سے نکلنے والے نتائج اللہ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔۔۔۔۔میں امی سے کال پربات کر رہی تھی کہ پیچھے سے ایک آواز سنائی دی کوئی انھیں اطلاع دے رہا تھا کہ ان کے محلے میں ہی ایک بچہ فوت ہوگیا ہے ابھی صرف موت کی اطلاع تھی باقی کیا ہوا کیسے ہوا آج بہن سے پتہ چلا کہ ان لوگوں نے اپنے گھر میں قربانی کرنے کےلیے ایک رسی لٹکائی ہوئی تھی تاکہ جانور کے گلے میں ڈال کر گوشت بنایا جاسکے اب بچے تو پھر بچے ہیں ویسے بھی سات سے آٹھ سال بچوں کی تجربہ کرنے کی عمر ہوتی ہے اور ایسے بچوں بچوں والے گھروں میں جہاں ڈبل احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہاں چھریاں، چاقو یا ایسے اوزار جو قربانی میں استعمال ہوں ان سے دور رکھیں اور جس حد تک ممکن ہو گھروں میں بالخصوص بچوں کے سامنے جانور ذبح نہ کریں۔۔۔۔ہم یہ فتوے لیتے اور دیتے رہتےہیں کہ ان کے سامنے ذبح کریں ان کو بھی پتہ چلے یہ بہادر بنیں۔۔انھیں ڈرپوک نہ بنائیں۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔
پھر وہی ہوا۔۔۔بچہ اسی رسی کو گلے میں ڈال کر کوئی تجربہ کرنا چاہتا ہوگا مگر اس معصوم کو نہیں پتہ تھا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری تجربہ ثابت ہوگا۔۔۔انا لله وانا اليه راجعون...
میں نے اس بچے کو دیکھا نہیں مگر میرا چھوٹا بیٹا تقریبا اسی ایج کا ہے۔یقینا پڑھنے والی ہر ماں اس ماں کی تکلیف کو محسوس کر سکے گی۔اللہ تعالٰی اس کے دل کو تھام لیں۔آمین
مگر میں بحثیت ماں یہ کہنا چاہوں گی کہ خاص طور پرجب بھی فیملی اکٹھی
ہو بچے کچھ دیر کے لیے آپ کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں تو خدارا اپنی خوش گپیوں کو چھوڑ کر ان کی خبر لیں۔۔۔
وہ بچہ بھی جس گھر میں تھا وہاں اور بھی خواتین ہیں اس کے گھر والوں نے کہا ہمیں چیخ کی آواز بھی آئی۔۔ایک چھوٹا سا بچہ اپنی توتلی زبان میں ہمیں کچھ بتانے بھی آیا مگر ہمیں سمجھ ہی نہیں آئی ۔۔۔۔صد افسوس ہمارے رویوں پر۔۔۔ آجکل ہم نے اپنی لاپرواہی اور بچوں کی طرف سے غیر ذمہ داری کے لیے ایک اور جسٹیفیکیشن ڈھونڈ لی ہے بہت سی بہنیں یہی گلہ کرتی سنائی دیتی ہیں کہ ہم تو جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں بچوں کے ساتھ ٹائم گزارنے کا وقت ہی نہیں ملتا کچھ کے گلے سن کر تو یوں لگتا ہے کہ جوائنٹ نہیں کسی جائینٹ ( دیو) فیملی سے تعلق رکھتی ہیں کہ سارا دن کچن میں ہی رہتے ہوں کھانا۔۔کھانا اور بس کھانا۔۔۔۔بچے کدھر ہیں۔ ۔۔ان کی مصروفیات کیا ہیں کھانے کے علاوہ ان کی ضروریات کیا ہیں ہمارے پاس وقت ہی نہیں۔۔نہ ان کے احساسات کو سمجھنے کا نہ ان کی ان کہی باتیں سمجھنے کا ۔۔نہ توتلی زبان سمجھنے کا۔۔۔
موت ایک بہت بڑی نصیحت ہے جانے والا چلا جاتا ہے مگر ہمارے لیے ایک سبق چھوڑ جاتا ہے کہ ۔
You are the next one. Be prepare.
یہ بچے ہمارے لیے باقی نعمتوں کی طرح بھی ایک نعمت ہیں۔اور ہر نعمت کے بارے میں سوال ہو گا۔ہم نے اس کوکیسے استعمال کیا ، کیا سلوک کیا ہے اس کے ساتھ۔۔صرف بچوں کی پیدائش سے والدین اس مقام و مرتبہ اور انعام واکرام کے مستحق نہیں ہو جاتے جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ بلکہ اس کے تقاضے بھی ہیں۔
Responsibility comes with accountability.
ذمہ داری، جوابدہی کے ساتھ آتی ہے۔۔جیسے ہم باقی میدانوں میں آگے بڑھنے کےلیے اور اپنی ڈیوٹی صحیح ادا کرنے کیلئے اپنی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرتے ہیں نیا سیکھتے ہیں ایسی ہی محنت بلکہ سب سے زیادہ محنت اور سیکھنے کی ضرورت اس میدان میں ہے ۔والدین کو نسل انسانی کی تعمیر و تربیت کی ذمہ داری دی گئی ہے اور سب سے بڑی اور اہم ڈیوٹی ہے اس سے کوتاہی صدیوں کی سزا پر محیط ہوتی ہے۔
اللہ تعالٰی اسکے گھر والوں کو نعم البدل عطا کریں۔اور ہم سب کو عبرت کی آنکھ۔۔۔آمین۔۔


0 تبصرے