چند جھلکیاں( سورہ نساء )

تفسیر کلاس نوٹس
Part 1

(کیا تم نے اُن لوگوں کو نہ دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی؟ ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے، اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا)

مکہ میں ہجرت سے پہلے کافر مسلمانوں کو ستایا کرتے تھے مسلمان اپنے نبی کے پاس آکر یہ شکایت کرتے اور رخصت مانگتے کہ ہم کفار سے مقاتلہ کریں۔اور ان سے ظلم کا بدلہ لیں ، آپ صلي الله عليه وسلم مسلمانوں کو لڑائی سے روکتے کہ ابھی مجھے مقاتلہ کا حکم نہیں، بلکہ صبر اور درگذر کا حکم ہے اور فرماتے کہ نماز اور زکوۃ کا جو حکم تم کو ہو چاہے اس کو برابر کئے جاؤ،

 کیونکہ" جب تک آدمی اطاعت خداوندی میں اپنے نفس پر جہاد کرنے کا،اور تکالیف جسمانی کا خوگر نہ ہو اور اپنے مال خرچ کرنے کا عادی نہ ہو تو اس کو جہاد کرنا اوراپنی جان دینا دشوار لگتا ہے۔ "

اس بات کو اس وقت کے مسلمانوں نے قبول کرلیا تھا پھر ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کو جہاد کا حکم ہوا تو ان کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ ہماری درخواست قبول ہوئی مگر بعض کچے مسلمان کافروں کے مقابلہ سے ایسے ڈرنے لگے جیسا اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ اور آرزو کرنے لگے کہ تھوڑی مدت اور قتال کا حکم نہ آتا اور ہم زندہ رہتے تو خوب ہوتا تب یہ آیات نازل ہوئیں
" کہہ دیجئے کہ دنیا سے فائدہ اٹھانا( جس کے لیے تم مہلت کی تمنا کرتے ہو) محض چند روزہ ہے اور آخرت( جس کے حصول کا ذریعہ جہاد ہے)ہر طرح سے بہتر ہے( مگر وہ) اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کی مخالفت سے بچے"

اس پیراگراف میں بہت جامع انداز میں مولانا مفتی محمدشفیع صاحب نے مکی دور اور مسلمانوں کے رویے کے منظر کشی کی ہے۔ مسلمانوں نے جب تنگی کے دور میں خود سی لڑائی کرنے کی اجازت مانگی اور ان کو اجازت کی بجائے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تو اس کی حکمت کیا تھی۔؟
مسلمانوں کو کس کام کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ؟
درحقیقت اسلام کا مقصد کیا ہے؟
اور مسلمانوں کو کیا ٹاسک دیا گیا۔؟
کیا محض اسلام کو تمام انسانوں پر مسلط کرنے کا حکم ہے؟
کیا مسلمانوں کو ان کی بشری ضروریات کو نظر انداز کر کے محض دین کا پرچار کرنے کا حکم ہے؟
جب وہ ایسے معاشرے میں رہ رہے ہوں جہاں سر عام ناانصافی اور ظلم ہو رہا ہو اور وہ براہ راست اس ظلم کا شکار ہو رہے ہوں تو اس وقت ہمارا دین ہمیں ہدایات دیتا ہے؟؟


ان تمام سوالات کے جوابات کے لیے دوسرا پیراگراف پڑھنا بہت ضروری ہے۔

سورہ نساء کی آیات 77 سے 79 کا مطالعہ ہی نہیں بلکہ ان آیات کا پس منظر جاننا بھی ضروری ہے۔تفصیلات معارف القرآن میں اور تمام تفاسیر میں موجود ہیں۔مگر میں یہاں صرف دوسرا پیراگراف اور کچھ نکات کو ضرور شیئر کروں گی۔
 کہ جہادکا حکم نازل ہونے پر مسلمانوں کی طرف سے التواء حکم کی تمنا کس وجہ سی ہوئی اور اس وقت اس حکم کی حکمت کیا تھی؟۔

جاری ہے

مزید تفصیلات حصہ دوئم میں ( part 2)
Salma Malik

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے