آجکل نان ایشو کو ایشو بنانا ہماری عادت سی بن چکی ہے۔ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں اردو کی کتاب میں "ڈ" سے "ڈاکٹر " لکھنے پر مصنف کو خوب آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔۔اس پر کمال یہ ہے ک اسی پوسٹ پر تبصرہ کرنے والوں نے بھی بہت سنجیدگی اور علمی مظاہرہ کرنے میں کمی نہیں چھوڑ ی۔تقریبا ایک ہزار لوگوں نے اس پر تبصرہ کیا ہے۔جس میں اردو زبان سے محبت کے نشے نے یہ بھلا ہی دیا کہ صرف ایک لفظ ہی تو ہے۔اور لکھنے والا ایک انسان ۔اللہ کی بہترین مخلوق ۔۔۔
صرف ایک لفظ کی خاطر کسی انسان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنا، دوسروں کے لیے جہالت کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنا ، یہ کاہے کا علمی مظاہرہ ہواجناب؟؟اور ایک زبان سے یہ کیسی محبت؟؟ جو بولنے والے کو تمیز کے دائرے سے ہی باہر نکال دے۔۔
جناب اگرآپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں نے بھی نان ایشو کو ایشو بنادیا ہے تو آپ بالکل صحیح سوچ رہے ہیں ۔ ہم جیسے لکھاریوں اور تقریریں کرنے والوں کو تو تلاش رہتی ہے ایسے کیڑوں کی۔۔جو دیمک کی طرح اندر ہی اندر غیر محسوس طریقے سے زندگی کا خاتمہ کر دیتے ہیں ۔ہم تو کھوج میں رہتے ہیں ایسے نسخوں کے، جن کو بروقت استعمال کر کے مزید نقصان سے آپ کو بچا سکیں اس سوسائٹی کو بچا سکیں جو ہم سب سے مل کے بنتی ہے۔۔
آئیے مل کر کچھ قدم اٹھائیں ۔ کچھ عادتیں بدل کے دیکھیں
عادت نمبر ا؛
یہ جو ہمیں عادت ہے نا ں کہ ہم ہاتھی نگل جاتے ہیں اور مچھر چھانتےرہتے ہیں اس کو بدل کر دیکھتے ہیں
۔
عادت نمبر 2
کسی کی رائے سے اختلاف پر جو ہم تلملا اٹھتے ہیں اور دوسروں کی ذاتیات پر اتر آتے ہیں ۔اس کو بدل کر دیکھتے ہیں
مگر کیسے؟؟؟
📚وہ اس طرح کہ ۔۔کہ کسی بھی بحث میں حصہ لینے سے پہلے ، یا پوسٹ پر تبصرہ کرنے سے پہلے خود سے ضرور پوچھ لیں
✏کہ کیا یہ بات اس قابل ہے کہ اس پر اپنا قیمتی وقت ضائع کیا جائے؟
۔✏آیا میرے اس عمل سے میرے ایمان ، کردار اور سوسائٹی میں کیا کوئی مثبت تبدیلی آئے گی؟
📚الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کریں
قولوا للناس حسنا. ( لوگوں سے بہتر ین طریقے سے بات کرو)
۔اپنے الفاظ کی تاثیر معلوم کرنے کا آزمودہ نسخہ یہ تصور اور سوال ہے۔۔کہ جو لب و لہجہ آپ دوسروں کےلیے استعمال کرنے جا رہے ہیں کیا آپ وہی خود کےلیے پسند کرتے ہیں ؟
عادت بدلی جا سکتی ہے اس کو بدلنے لیے ایک لمحہ چاہیے جس میں یہ ارادہ کیا جاتا ہے کہ یہ عادت بدلنی ہے۔ ۔مگر اپنانے کےلیے لگاتار کوشش ۔۔
Consistency..
منزل کی نہیں پیہم سفر کی چاہ رکھ..
سلمٰی ملک۔۔



0 تبصرے