(مطالعه معارف القرآن )
حکم جہاد پر مسلمانوں کی طرف سے مہلت کی تمنا درحقیقت کوئی اعتراض نہ تھا بلکہ ایک لطف آمیز شکایت تھی جس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ عادتا یہ ہوتا ہے
"کہ جب آدمی ک انتہائی تنگی و تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں اس لیے ایسے وقت میں انتقام لینا زیادہ آسان ہوتا ہے لیکن آرام و راحت کے وقت اس کی طبیعت لڑائی کی طرف آمادہ نہیں ہوتی یہ ایک بشری تقاضا ہے چنانچہ جب مسلمان مکہ میں تھے تو اس وقت کفار کی ایذاوں سے تنگ آکر جہاد کے حکم کی تمنا کر رہے تھے مگر مدینہ میں آکر جب ان کو سکون حاصل ہوا اور قتال کا حکم ہوا اس وقت ان کا پرانا جذبہ کم ہو چکا تھااور وہ جوش وخروش باقی نہیں رہاتھا اس لیے محض انھوں نے تمنا کی کی اگر جہاد کا حکم نہ ہوتا تو بہتر تھا۔۔یہاں پر مولانا صاحب نے مسلمانوں کے قتال کے حکم پر جو رد عمل تھا اس پر تھوڑی سی بحث کی ہے اس کے بعد بہت جامع انداز میں پہلے حکم کی حکمت بیان کی ہے۔
مکہ میں قتال کی تمنا کرنے کے جواب میں مسلمانوں کو اقيمو الصلاة واتواالزكوة ( نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو) ۔کا حکم دیا گیا۔
اس پورے( پیس) میں یہ وہ پزل ہے جس کو سمجھنے سے مکمل اسلامی نظریہ حیات اور مسلمانوں کے مقصد زندگی سمجھ میں آتا ہے۔
ک عین اس وقت جب مسلمان اذیت کے دور سے گزر رہے تھے۔باوجود اس کہ ، کہ وہ حق پر تھے اللہ کے نبی ان کو لیڈ کر رہے تھے ان کی ذاتی زندگیاں ، ان کے گھر بار اسلام قبول کرنے کی وجہ سے داو پر لگ گئے تھے بظاہر ان کی زندگیاں خسارے میں تھیں ان کے گھروں کا سکون، کاروباری معاملات، رشتہ داریاں سب کچھ درہم برہم ہوگیا تھا اور مسلمان سمجھ رہے تھے کہ ان سب کو اپنے اپنے مقام پر واپس لانے کا ایک ہی طریقہ ہی کہ تلوار اٹھائ جائے۔اور ان تمام لوگوں کا قلع قمع کیا جائے جو اس کا سبب ہیں۔۔
مگر اللہ سبحان و تعالی نے اس کے برعکس ہدایات دیں۔نماز اور زکوۃ کا حکم دیا جو" اصلاح نفس" کا سبب ہیں اس کے بعد وہ حکم دیا جو" اصلاح ملک" کا سبب ہیں یعنی اس کے ذریعے ظلم وستم کا استیصال کیا جاتا ہے ملک میں امن قائم ہوتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ"
آدمی کو دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کرنی*
چاہیے
مقصد کومدنظر رکھنا چاہیے
جذباتی فیصلے کی بجائے حکمت سے قدم اٹھانا چاہیے۔*
معمولی، ظاہری اور محض ذاتی فائدہ سے ہٹ کر بحیثیت*
مجموعی معاملے کو دیکھ پرکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔
انفرادی سطح سےلے کر اجتماعی سطح تک ہمارا ہر قدم*
معاشرے پر ایک چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ* بحیثیت انسان اور با لخصوص معاشرے کا حصہ ہونے کے وجے سی ہمیشہ یہ بات مدنظر رکھنا چاہیے کہ ہمارے جذباتی اقدامات کے دوررس نتائج کیا نکلیں گے؟
![]() |
| مطالعہ معارف القرآن |
خلاصہ یہ ہوا۔۔کہ ہمارا دین اسلام دنیا میں انصاف اور امن و سلامتی کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے کی تعلیمات دیتا ہے۔مگر اس نظام کو قائم کرنے کے لیے انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک مکمل رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے ۔
بحیثیت امت مسلمہ منظم اور یک جہت ہو کر اس نظام کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے مگر اس نظام کو قائم کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے قطعا اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس نظام کو قائم کرنے والے خود اپنے ہی جیسے انسانوں پر خدا بن کر بیٹھ جائیں۔
ہر ایک موقع پر بہت باریک بینی سی اس پورے نظام کو سپروائز کرتا ہے کہ کہیں کسی بھی موقع پر کسی انسان کے جذبات مجروح نہ ہوں۔اسی دین کو قائم کرنے کے چکر میں انسانیت کو کچل نہ دیا جائے۔بار بار اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ مقصد کو پیش نظر رکھا جائے۔ مقصد برے لوگوں کا خاتمہ نہیں۔برائی کا ہے۔۔
مقصد اللہ کی سر زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا ہے۔اللہ کے بندوں کی ا للہ سے جوڑنا ہے۔متعارف کروانا ہے ۔۔
یہ کائنات چونکہ اللہ کی ہے ہم۔اس کے بندے ہیں۔اس دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے اور پرامن رہنے کے لیے کون سا طریقہ زندگی مطلوب ہے۔وہ سب قرآن کی صورت میں ہمارےپاس ہمارے رب کی طرف سے تحفہ موجود ہے۔
آئیے آج سے اس کو کھولیں اور اس کو اپنے لئے ایک manual
کی طرح اپنی زندگی میں شامل کریں۔
Salma Malik

0 تبصرے