شاید کہ اتر جاۓ تیرے دل میں میری بات

 تم بہت خوش قسمت ہو ۔حافظ قرآن ہونا کسی سعادت سے کم نہیں۔۔والدین کی بھی خوش قسمتی ہے۔۔ اللہ سب کی اولادوں کو ایسا بنائے۔۔۔۔

۔۔۔

یہ جملے آپ میری جگہ پر آکر سنیں تو آپ کو کچھ اور سنائی دے گا۔۔۔یہ جملے سن کر اپنی خوش قسمتی سے زیادہ مجھے تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔



۔یہ جملے مجھے زندگی کے اس دور میں لے جاتے ہیں جو سعادت سے زیادہ دکھ سے بھرا ہوا ہے ۔۔میں اپنے بچپن کا وہ دور یاد نہیں کرنا چاہتی جس میں سوائے بےبسی، گھر والوں سے دوری ، صدقے کے کھانے، ایک ہجوم میں رہتے ہوئے تنہائ کا احساس۔۔سرد راتوں میں فرش پر سونا ۔۔وہ گرمیوں میں بغیر بجلی کے کھلے چھت پر سارے ہجوم میں سو جانا۔۔۔جہاں کوئی ہیلتھ اینڈ سیفٹی نام کی چیز نہیں تھی۔۔ساری رات ایک غیر محفوظ ہونے کاخوف سر پر منڈلاتا رہتا ۔۔۔

ایسا کھانا جیسے قیدیوں کو دیا جاتا ہے۔۔وہ رہن سہن۔۔

۔اور بےشمار ناخوشگوار واقعات و تجربات ہیں۔۔۔میں جن کو دہرانا نہیں چاہتی ۔۔

میں نے بہت عرصہ راہ فرار اختیار کی مگر یہ فارمولا فائدے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوا۔۔۔الحمدللہ بہت کام کیا خود پر۔۔۔پروفیشنلز سے ہیلپ لی اور آج الحمدللہ اسی پروفیشن میں ہوں ۔۔

 سب سے مشکل کام اپنے اندر کے زخمی بچے

  پر مرہم لگانا ہوتاہے۔۔جو آپ خود نہیں لگا پاتے۔۔اور یہ مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت اہم بھی ہے

 اگر آپ نے اسے زخمی چھوڑ دیا تو آپ خود بھی دوسروں  کے لیے بھی 

 miserable

 بن جاتے ہیں۔۔۔خیر میرا موضوع یہ نہیں مگر یہ لفظ "خوش قسمتی " زندگی کے اس چیپٹر کو کھول دیتا ہے۔۔


خوش قسمتی۔۔۔۔

کوئی نہیں جاننا چاہتا کہ اس خوش قسمتی کی کیا قیمت ادا کی ہے میں نے۔۔


مجھے اختلاف "خوش قسمتی" سے نہیں۔۔

مجھے اختلاف اس سعادت سے بھی نہیں۔۔مگر سوال یہ ہے کہ ہر بات کو محض خوش قسمتی کا نام دے کر اس انسان کی محنت اور قیمت کو کیوں تفریق کر دیا جاتا ہے؟۔

دوسری طرف۔۔اس کو محض خوش قسمتی کا ٹائٹل دے کر انسان کو ذہنی اپاہج بنا دیتے ہیں کہ سب قسمت کا کھیل ہے ۔۔جس کو ملا۔۔وہ بھی۔۔اور جو محروم رہا ۔۔وہ بھی۔۔

مگر ہمارا دین ہمیں یہ نہیں سکھاتا۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تقدیر اللہ تعالی نے لکھی ہے مگر ہمیں کیا پتہ کیا لکھا ہے۔۔۔ہمیں ہدایات اور صلاحیتیں دی گئیں ہیں۔۔امنو کے ساتھ وعملوالصالحات لازم ہیں۔۔۔۔

مگر اس طرح کی سوچ کے محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور اپنی کامیابی اور ناکامی کا سہرا قسمت کے سر پر ڈال دینے کا سب سے بڑا نقصان جو ہوتا ہے وہ ہے ۔۔

Self doubt

Lack of self trust 

Worthlessness.


آپ ابھی آزما لیجیے۔۔جو کام آپ نے بہت محنت سے کیا ہو ۔۔اس کی کسی بی قسم کی قیمت ادا کی ہو اور کوئ آپ سے کہہ دے۔۔۔۔کہ یہ تو آپ کی خوش قسمتی ہے اس وجہ سے ملا ہے۔۔۔

تو آپ جو  محسوس کریں گے؟؟۔۔  

 وہی جواب ہے۔۔۔

۔۔

اپنی ذات کو بیچ میں سے نکال دیں۔۔گویا جو ہو رہا ہے وہ ڈائریکٹ اللہ تعالٰی کررہے ہیں۔۔ اگر کوئ غلط راستے پر ہےتو اللہ تعالٰی اس کا ہاتھ پکڑ کر نعوذبااللہ غلط راستے پر بھی چلا رہے ہیں۔ ۔اور جو سیدھے راستے پر ہے۔اس کو بھی اللہ تعالٰی ہی ہاتھ پکڑ کر سیدھے راستے پر۔۔۔۔

آپ تو محض ایک مٹی کا پتلا ہیں؟؟؟؟۔۔یہ میں نہیں کہہ رہی۔۔یہ وہ خوش قسمتی کی تعریف بول رہی ہے جو ہم نے بنا لی ہے۔۔۔

۔استغفر اللہ العظيم..

 ہم نے تو اللہ تعالٰی کے سارے سسٹم کو ہی الٹ دیا ۔

۔جب اللہ تعالٰی خود بتا رہے ہیں کہ انسان کو جو بات فرشتوں سے امتیاز کرتی ہے وہ ہے

free will..

Choice..

اس کو فیصلہ کرنے کی چوائس دی گئی ہے ۔۔دو راستے دکھائے گئے ہیں پھر فیصلہ انسان پر چھوڑا گیا۔۔۔

دونوں راستوں کے نتائج واضح کیے گئے۔۔مگر فیصلے کا اختیار۔۔فیصلہ کرنے کےلیے وہ میکانزم ۔۔وہ کسوٹی جس کی بنیاد پر وہ صحیح اور غلط کو چنے گا ۔۔سب دیا گیا۔۔۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالٰی صحیح اور غلط راستوں پر چلنے کےلیے راستے ہموار کرتے ہیں۔۔


فسنبيره لليسری...

فسنيره للعسري ..

مگر اس سی پہلے والا حصہ ہم بھول جاتے ہیں۔۔۔


إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ ‎﴿٤﴾‏ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَٱتَّقَىٰ ‎﴿٥﴾‏ وَصَدَّقَ بِٱلْحُسْنَىٰ ‎﴿٦﴾‏ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْيُسْرَىٰ ‎﴿٧﴾‏ وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ ‎﴿٨﴾‏ وَكَذَّبَ بِٱلْحُسْنَىٰ ‎٩﴾‏ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰ ( سورة الليل)


درحقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں (4) تو جس نے (راہ خدا میں) مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے) پرہیز کیا۔

(5) اور بھلائی کو سچ مانا

 (6) اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے

 (7) اور جس نے بخل کیا اور (اپنے خدا سے) بے نیازی برتی (8) اور بھلائی کو جھٹلایا 

(9) اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے۔



قصہ مختصر۔۔کہ ہمارے جملے ہمارے عقائد کی نشاندہی کرتے ہیں۔۔۔

 ہمیشہ ہر بات کا ایک پہلو۔۔۔ہر سکے کا ایک ہی رخ بےشمار غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے اور حقائق سے دور لے جاتا ہے۔ہم ایک انتہاپسندی سے دوسری انتہاپسندی کی طرف نکل پڑتے ہیں ۔۔

اور محض ہر کامیابی کو خوشی قسمتی اور ناکامی کو بد قسمتی سے منسوب کرنا ہمیں بلیم گیم کی طرف لے کر جاتا ہے ۔اپنے حصے کا کام کرنے سے دور لے جاتا ہے اور ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر کامیابی کی ایک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔۔۔

کسی بھی قسم کی خوش قسمتی، کامیابی اور سعادت کی قیمت ہوتی ہے۔۔۔اگر آپ۔بھی وہ ادا کرنے کےلیے تیار ہیں تو نئی راہیں آپ کی منتظر ہیں۔

Choice is yours


Salma Malik 

Psychotherapist ( EFT Practitioner, Root Cause Health Coach)

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تری رضا کیا ہے

    حرف حرف بہت عمدہ، حوالہ جات کے تو کیا ہی کہنے۔ خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔
    آمین

    جواب دیںحذف کریں