یہ اللہ کی اپنے بندے سے محبت ہی تو ہےکہ وہ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ( خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے ) کے ذریعے یاد دلاتا رہتا ہے کہ ان چیزوں کی طرح بندہ بهی فانی ہے.ان نعمتوں کو واپس لے کر کہ جن کو استعمال کر تے ہوے انسان ،نعمت دینے والے کو بهلا کر اس راستے پہ چل پڑتا ہے جو اسے نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَأَنسَهُمْ أنفسهم ۔ (جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے اُنہیں خود اپنا نفس بھلا دیا،)کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے.ایسے موقع پر رب کی رحمانیت اپنے بندے کو واپس لانے کے لیے جوش میں آتی ہےوہ رب بندے سے صرف اس کی پیاری چیزیں واپس نہیں لیتا بلکہ ان سب سے قیمتی چیز ، اپنے" قرب" کا موقع دیتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ کھرے اور کھوٹے، سستی اور قیمتی چیز کا فرق تو معلوم ہواور خود سے آگے بڑھ کر یہ اقرار تو کریں۔۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ ("ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے" )
۔۔کہ ہم اسی کے اور وہ ہمارا۔۔۔۔صرف وہی کافی ہے باقی سب فانی اور عارضی۔۔ پھر یہ تحفہ ملتا ہے۔
صَلَوَٰتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ
(ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں)
ہر گزرا ہوا دن، گزرا ہوا لمحہ ہمیں ہمیں یہی پیغام دیتا
ہے۔۔جو گزر گیا سو گزر گیا۔
۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ﴿٢٦﴾ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ
(ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے (26) اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے)
ہم چاہتے اور نہ چاہتے ہوے بھی اسی کے طرف جا رہے ہیں۔
۔يَٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَٰقِيهِ (اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے)
جب منزل ہی وہ ہےاسی کی کائنات میں رہ کر اسی کا دیا ہوا کھا رہے ہیں۔اسی سے ملاقات ہونی ہے۔تو پھر کتنا اچھا ہو کہ اسی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق رہ لیں۔وہ بھی راضی ۔ہم بھی راضی ۔
!اے نفس مطمئن
چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں
کیوں نہ دوستی کر لیں
اس رب کائنات سے ہم سب
سمیع و بصیر بھی ہے، لطیف و خبیر بھی
قہار و جبار بھی ہے ، رب جلیل بھی
بصارت سی دور رہ کر بصیرت کے روپ میں
درپردہ ہے مگر،دل کے قریب بھی
ہر دم ہر گھڑی، پرکھتا ہے یوں مجھے
سکھا رہا ہو جیسے آداب حبیب بھی
رب ذوالجلال ! التجا ہے بس یہی
قرب کثیر بھی دیے، نگاہ حکیم بھی
اللهم إني أسألك حُبَّكَ، وحُبَّ من يحبك، والعملَ الذي يبلغني حُبَّكَ .أمين
سلمٰی ملک۔۔
https://www.facebook.com/SalmaMalikUKTherapyServices


0 تبصرے