عقائد و نظریات۔ ازقلم سلمیٰ ملک

 امیری اور غریبی ۔۔۔  یہ سوچ سے ہوتی ہے۔۔ جیب تو سوچ کا اظہار کرتی ہے۔۔

یہ ایک قابل بحث موضوع ہے ہمارے ہاں اس حوالے سے بہت سے نظریات ہیں۔

limiting beliefs

  ہیں۔

مثلا۔۔۔پیسہ ہاتھوں کی میل ہے۔

برائ کی جڑ ہے۔

روحانیت اور پیسہ دونوں ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔۔


دولت ، اقتدار انسان کو گمراہ کر دیتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔

ایسے بےشمار لیمیٹڈ بیلیفز ہیں۔۔اور ان کے نتائج بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔۔

۔مگر جب قرآن کی روشنی میں اس کانسیپٹ کو دیکھا جائے تو بہت واضح رہنمائی ہے۔۔۔

ہمیں دعائیں سکھائ گئیں۔انفاق کے درجات پر بے شمار آیات ہیں۔اوپر والے ہاتھ کو نیچے والے ہاتھ سے بہتر کہا گیا۔۔۔

طاقت، اقتدار، دولت ، اختیار۔۔۔سب محض ہتھیار ہیں۔اگر یہ سب ایسے انسان کے پاس ہیں جس کے اندر خدا خوفی ہے جو ان تمام چیزوں کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال کرتا ہے تو وہ "خيرالناس من ينفع الناس " کی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔۔۔

اور اگر معاملہ برعکس ہے وہ خود مالک بن کر بیٹھ جاتا ہے تو پھر "  کاالانعام بل هم اضل"  کی صف میں۔۔۔۔


اس لیے ان تمام وسائل اور ہتھیاروں سے بچنے کی دعا کی بجائے اللہ تعالٰی سے ایمان، یقین اور خیر مانگنی چاہیے ۔۔۔


 ✅رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ 

اے میرے رب تو میری طرف جو اچھی چیز اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔


✅رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

اے اللہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر،اور آخرت میں بھلائی عطا کر،

.اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا. 

آمین 


اس کتاب میں  اسی کانسیپٹ پر بات کی گئی ہے۔۔مجھے اس کو پڑھتے ہوئے بہت شدت سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہمیں بحثیت مسلمان اس موضوع پر بات کرنی چاہیے۔ہمارے علماء، استاد اور معاشرے میں لیڈنگ رول ادا کرنے والوں کے یہ کانسیپٹس ضرور کلیئر ہونے چاہئیں۔۔

آپ کے اس کے بارے میں کیا خیالات ہیں؟


مجھے تلاش ہے ایسے طبقے کی جو اس موضوع پر میرے ساتھ  مل کر ریسرچ  بیسڈ کام کر سکے۔جس کے اپنے نظریات بھی اس معاملے میں کلیئر ہوں۔

اور ہم قرآن و سنت کی روشنی میں اس کو مننطر عام پر لے کر آئیں۔۔۔ آپ کے تعاون کی منتظر۔۔۔


Salma Malik 

Master UR Mind



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے