لوگ کیا کہیں گے۔۔۔؟

 ایک عورت اللہ کے نبی صل الله عليه وسلم کے پاس اپنے شوہر کی شکایت لے کر آتی ہے کہ میرا شوہر میرا حق نہیں دیتا۔۔آپ اس کی پوری بات سن کر کہتے ہیں کہ تمہارا چچا زاد ہے اس کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔۔مگر یہ کیا وہ جس کیفیت میں تھی ۔جس اذیت میں تھی الفاظ میں بیان نہیں کر پائی تو یہ فیصلہ اس کی تکلیف کم نہیں کر سکا ۔۔تو عالم بالا سے اس کو جواب آتا ہے

قَدْ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّتِى تُجَٰدِلُكَ فِى زَوْجِهَا وَتَشْتَكِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَآ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ ‎﴿١﴾

اللہ نے سن لی اُس عورت کی بات جو ا پنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کر رہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔

۔۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ایک کونے میں تھی میں نہیں سن پائی اس نے کیا کہا۔۔مگر دونوں جہاں کے رب نے اس کی شکایت سن لی ۔۔وہ بھی تو اسی لیے آئی تھیں  کہ اللہ سے جواب چاہیے تھا کیونکہ میاں بیوی کے درمیان جو دلوں کا رشتہ ہے جو احساسات ہیں اذیتیں ہوتی ہیں کچھ مخفی حق تلفیاں  ہوتی ہیں وہ وہی جان سکتا ہے جو دلوں کے بھید جانتا ہے۔۔۔

یہ بہت ہی خوبصورت آیات ہیں ایک طرف انسان کی کمزوری اور بے بسی کا نقشہ کھینچتی ہیں کہ بظاہر اپنی طرف سے اپنا حصہ ڈالنے والا انسان بھی ایک محدود اختیار رکھتا ہے وہ کسی دوسرے کے دل میں اپنی محبت پیدا نہیں کر سکتا۔۔۔اور دوسری طرف اسی بےبس اور کمزور انسان کا براہ راست عالم بالا سے تعلق اسے تمام کائنات کے مقابلے میں ایک اعلیٰ مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔۔۔۔



حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی یہ شکایت۔یہ کارروائی، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم تک ان کی رسائی۔ان کے ہاس  اپنا کیس لے کر جانا ،شکوہ کرنااور پھر قرآن کا ان کے معاملے میں جواب دینا۔۔ایک بہت خوبصورت سوسائٹی کا نقشہ سامنے آتا ہے جہاں لوگوں کا تعلق  اللہ تعالٰی سے بہت مضبوط اور خوبصورت تھا وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی ہدایت کے منتظر رہتے تھے مگر ان ہدایات کا ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ان کی ذات اقدس خود موجود تھی تو لوگ چل کر اپنے مسائل ان کے پاس لے کر جاتے تھےگویا سب عیال اللہ تھے 

سید قطب شہید لکھتے ہیں کہ سب لوگوں کی نظریں عالم بالا پر اس طرح لگی ہوتی تھیں جس طرح ایک بچہ ہر وقت ماں باپ کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔۔قرآن میں اس واقعہ کا ذکر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کتاب میں محض خشک قوانین سازی نہیں ہے۔۔بلکہ زندہ انسانوں ان کے روز مرہ مسائل کا حل دیا گیا ہے ۔۔

آج  صرف فرق اتنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بھی  اپنی تعلیمات، اسوہ حسنہ کی صورت میں ہم میں موجود ہیں وہ زندہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے۔مکمل دین ۔مکمل  ضابطہ حیات۔۔۔بالخصوص میاں بیوی کے تعلقات کے معاملے میں  بھی مکمل رہنمائی کی گئی ہے ۔۔یہ رشتہ خدا خوفی کی  بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔جہاں خدا خوفی نہیں وہاں ایکدوسرے کی حق تلفی کا عنصر نسبتاً زیادہ ہو گا ۔۔وہ حق تلفی محض یہ نہیں کہ ایکدوسرے کی جسمانی اور شہوانی ضرورت پوری نہ کی جائے بلکہ ایک حلال رشتے میں رہتے ہوئے بھی لیونگ ریلیشن شپ کے نام سے اس دلدل میں پھنسے رہیں۔۔کہیں اپنی پہلی محبت کو دل میں بسائے پھرتے رہیں بیوی کے موجود ہوتے ہوئے کہیں اور دوستی کے نام پر اپنے جذبات کی تسکین میں لگے رہیں۔۔کہیں ہر وقت سارا جھکاؤ والدین کی طرف ہو ۔۔





۔اس رشتے میں خدا خوفی کا کردار کیا ہے؟ اور کیوں ضروری ہے؟


حضرت خولہ  رضي الله عنها کا اپنے شوہر کے رویے پر اس طرح مضطرب ہو جانا کیا محض اس لیے تھا کہ  بحیثیت عورت ان کو ان سیکیورٹی تھی ؟ 

کیوں وہ بھاگی بھا گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئیں۔۔

۔کیاان کو کسی نے نہیں بتایا تھا کہ میاں بیوی کی باتیں صرف بیڈ روم میں ہی رکھتے ہیں۔؟

۔۔کیا انھیں یہ خوف نہیں ہوگا کہ سب کو پتہ چل گیا کہ ان کے شوہر نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے تو ان کی ریپوٹیشن خراب ہو گی؟

کیا ایک لمحہ کےلیے بھی انھیں سوسائٹی کا خوف نہیں آیا۔ کہ لوگ کیا کہیں گے؟


ہمیں شاید معلوم نہیں  کہ وہ دونوں میاں بیوی کوئی معمولی جوڑی نہیں تھی جنہیں لوگ اس وقت جانتے نہ تھے۔۔

 مدینہ میں جو لوگ  اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں شامل تھے ان میں انصار، مہاجرین اور سابقوں الاولون تھے۔۔ان کی بھی تربیت ہو رہی تھی۔اور یہ اس جماعت میں شامل تھےجس کو اسی مقصد کے لیے تیار کیا جارہا تھا  کہ لوگوں کے سامنے اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات بنا کر پیش کیا جائے ایسا عملی دین جو اس کے پیروکاروں کے چھوٹے سے چھوٹے معاملات میں بھی انھیں رہنمائی کرے۔۔اور ساتھ ساتھ یہ احساس بھی دلایا جارہا تھا کہ اللہ کا فضل اس کی رحمت تمہارے شامل حال رہے گی ۔۔کسی بھی مقام پر خود کو تنہا نہ پاؤ گے۔۔۔

 وہ  توتمہارے نجوی تک سے باخبر ہے ۔۔وہ ہر خفیہ پلان اور سوچ سے باخبر ہے۔۔


بظاہر یوں ہی لگتا ہے کہ یہ محض ایک بیوی کی شکایت پر اللہ کا قانون  ہے مگر توجہ طلب بات تو یہ ہے  کہ اگراس معاملے میں براہ راست عالم بالا سے مداخلت ہوئی ہے تو پھر یہ کوئی معمولی بات نہیں۔۔۔

ایسا معاشرہ جہاں عورت کی عزت نہ ہو اسں گھر سے ہی بنتا ہے جہاں عورت کی حق تلفی ہوتی ہے ۔۔۔

بلاشبہ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کا لباس ہیں دونوں کے باہم حقوق وفرائض ہیں اس کشتی میں دونوں کی حیثیت برابر ہے ہاں مگر ذمہ داری الگ الگ ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ

مردکو  بحثیت شوہر ،عورت پر حاکم یا آقا کا مقام بنا دیا گیا ہے کہ وہ عورت کو اپنی ملکیت سمجھ کر اس کے ساتھ غلاموں والا سلوک کرتا رہے ۔ان آیات کا مکمل پس منظر ضرور پڑھیے گا کہ کس معاملے پر وہ عورت اپنے شوہر کی شکایت کرنے آئی تھی۔وہ مرد کا کیا رویہ تھا۔۔۔۔اس ایک آیت میں بہت سے مختلف پہلو ہیں ایک اسلامی جماعت کا مقصد، اس میں شامل لوگوں کے مسائل سے لیڈر کی آگاہی، رہنمائی۔۔۔۔اور با لخصوص عائلی زندگی سے متعلقہ مسائل پر گفتگو۔۔



لیکن میں اگر ان آیات کو محض ایک بیوی کی نظر سے دیکھوں تو بہت حوصلہ افزا نظر آتی ہیں۔۔کہ جب کبھی اس رشتے میں ایسے مراحل پر آجائیں کہ اپنی تکلیف کو الفاظ نہ دے پائیں تو  یقین رکھیں کہ اللہ سبحان و تعالی ہمارے دلوں کے حال سے، کیفیات سے ، سینوں کے راز۔۔سب بے واقف ہے باخبر ہے سمیع ہے۔۔


دوسرا سبق مجھے یہ ملتا ہے کہ اگر خدانخواستہ کبھی ایسی سیچوئیشںن میں پھنس جائیں تو اپنے اردگرد ایسے لوگ ضرور ڈھونڈیں جو صاحب علم ہوں صاحب قرآن ہوں اس کتاب کی روشنی میں آپکو گائیڈ کر سکیں۔ہم انسان ہیں اور یہ اسباب کی دنیا ہے یہاں اسباب اختیار کرنا بھی توکل علی اللہ کے زمرے میں آتا ہے ۔۔ہمیں اپنا اونٹ باندھ کر پھراسے اللہ کے سپرد کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔۔

تیسرا۔۔کہ جب کبھی آپ کے پاس ایسی عورت چاہیے وہ آپ کی بیٹی ہے، بہو ہے، کوئی رشتے دار ہے اپنا مسئلہ لے کر آپ کے پاس آئے تو اس کی بات تحمل سے ، نان ججمینٹل ہو کر سنیں۔اس کو نصیحت کی بجائے سب سے پہلے ایمپیتھی کریں۔افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ ہم لوگوں نے اپنےگھروں کا ماحول ایسابنا دیا ہے کہ عورت ساری زندگی شوہر کے اذیت ناک رویے برداشت کرتی رہتی ہے اور خاموش رہتی ہے محض اس لیے کہ سب سے پہلے اسی کے کردار پر انگلی اٹھائ جائے گی۔اسی کو نصیحت کی جائے گی۔

میرے پاس ہر دوسرا کیس ایسی ہی عورت کا آتا ہے جو نہ صرف ذہنی مریض بن چکی ہوتی ہے بلکہ نتیجتا جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوتی ہےکسی کو یوٹرس کے مسائل، کسی کےگردے سکڑ چکے ہیں کہیں مستقل جوڑوں کا درد ہے۔کوئی دمہ کی مریض ہے۔۔کسی کو بریسٹ کینسر ہےاور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ شادی کے 30-20 سال بعد بھی اسی خوف میں مبتلا ہیں کہ "اگر کسی کو پتہ چل گیا تو لوگ کیا کہیں گے"

 یہی درخواست کر رہی ہوتی ہیں  کہ پلیز کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم نے اس معاملے میں آپ سے بات کی ہے ورنہ جو اتنے سالوں سے اس گھر کو جوڑ کر رکھا ہے وہ ٹوٹ جائے گا۔۔۔

رشتوں کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔۔۔آہ۔۔یہ کیسا ظالمانہ ماحول اور سٹینڈرڈ سیٹ کر دیا ہے ہم نے۔۔؟؟؟


 جہاں  باہم محبت، عزت اور اعتماد ہی نہ ہو وہ کیسے جڑے ہوئے گھر ہیں؟؟؟


شادی ایک مکمل انسٹیٹیوٹ ہے ایک (ڈیوائن پرپوزل) ہے ۔اسلامی معاشرے کے قیام واستحکام میں ایک گھر بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ گھر میاں بیوی کے باہم  رشتے کی مضبوطی اور خوبصورتی پر منحصر ہے مگر چونکہ یہ دونوں انسان ہیں غلطیوں کی گنجائش باقی رہے گے اسی لیے ہمارے دین نے ایک" حَکم "(جھگڑے کی صورت میں معاملہ فہمی کرنے والا) کو شامل کیا ہے۔

 وان خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوا۟ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِۦ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصْلَٰحًا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيْنَهُمَآ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا ‎﴿٣٥﴾‏

اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے (35)

یہ موضوع بذات خود بہت اہم اور تفصیل طلب ہے کہ "حَکم " کس قدر ضروری ہے اور آج  اس کی عدم موجودگی مزید نقصان کا باعث بن رہی ہے۔۔

ہم۔اپنے بچوں کی شادیوں کی تیاری میں یہ بھی ایڈ کر دیں کہ کل کو کوئی مسئلہ ہو تو کس کے پاس جائیں ۔۔ان شاء اللہ اس موضوع پر بھی کسی اور تحریر میں تفصیلا بات کریں گے ۔۔


الحمدللہ  قرآن و سنت کی صورت میں ہمیں ہر معاملے میں مکمل رہنمائی دی گئی ہے۔اسوہ حسنہ،صحابہ، صحابیات یہ سب ایسے روشن ستارے ہیں جن کی روشنی آج بھی موجود ہے۔۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ گمراہی کے اندھیروں میں اس  کی طرف رجوع کیا جائے اور اپنی زندگیوں کو  اسی سےروشن کیا جائے ۔

اللہ تعالٰی سے یہ دعا بھی مانگیں کہ ہمیں ایسے لوگوں سے ملوا جو ان مسائل میں ہماری مدد کر سکیں اور دوا بھی کریں۔۔خود سے کوشش کریں پہلے خود قدم اٹھائیں اپنا  حصہ ڈالیں ہو سکتا ہے آپ کی یہ چھوٹی سی کوشش کتنے لوگوں کے لیے رہنمائی بن جائے۔

سلمٰی ملک

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے