بحثیت والدین ہمارا فرض ہے کہ بچوں کو دنیا کی حقیقت بتائیں ۔ ان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ تربیت دیں کہ یہ دنیا مختلف مزاج کے لوگوں کا مسکن ہے۔ان مختلف مزاج کے لوگوں کا تعارف دیں ۔ان کو بتائیں کہ اس دنیا میں ان کو انکے مزاج کے خلاف لوگ ضرور ملیں گے ان کو سکھائیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کرنا ہے۔
ان کو بتائیں کہ اس دنیا میں ایکسیڈنٹ بھی ہوتے ہیں کبھی سڑک پر کبھی راہ چلتے ہوئے ۔کبھی ہم کسی ایسے سے ٹکرا جائیں گے جو آپ کے کیے کراۓ پر پانی پھیر دےگا۔
زندگی میں بے شمار ایسے مواقع آئیں گے کہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے آپ کو اپنے ناپسندیدہ لوگوں کے ساتھ کام کرنا پڑے گا۔ان کے نا پسندیدہ رویوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔
ممکن ہے آپ کی سر توڑ کوشش اور محنت کے باوجود نتیجہ بالکل الٹ نکلے۔
زندگی کے امتحان کا یہ پریکٹیکل بھی ضرور ہوتا ہے کہ وہی انسان آپ کو دھوکا دیتا ہے جس پر آپ نے سب سے
زیادہ بھروسہ کیا تھا۔
وہ تمام لوگ جن کی ضرورت کے وقت آپ نے مدد کی تھی ان میں لازماً کوئی ایک آپ کو ضرورت کے وقت بے یارومددگار چھوڑ دے گا۔۔۔
بھلے ہی آپ نے اپنی طرف سے کتنے خلوص سے کام کیا ہو مگر اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ انسان آپ کی قدر کرے گا۔
یہ حقیقت ضرور بتانی چاہیے کہ یہ سب خوبصورت قیمتی چیزیں ۔دنیا کی زینت ہیں ۔ہمارا امتحان ان کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔یہ محبت کرنے والے رشتے، یہ پر خلوص دوست ۔۔ تکلیف پہنچانے والے ۔دھوکا دینے والے۔۔
سب عارضی ہیں ۔
ہمیں کب کون سی چیز ملنی ہے۔کتنی دیر تک ہمارے پاس رہے گے۔کب تک وہ ہمارے لیے ضروری ہے۔۔
یہ سب طے شدہ ہے۔
زندگی یہی ہے۔۔
سرتسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے ۔
یہ آخرت کی کھیتی ہے۔
یہ دارالعمل ہے۔
یہ فانی ہے
امتحان یہ ہے کہ۔۔
ليبلوكم ايكم احسن عملا..
تا کہ وہ تمہیں آزمائے تم میں سے بہترین طریقہ سے کون پرفارم کرتا ہے۔
کون ہر معاملے کو احسن طریقے سے ڈیل کرتا ہے۔
معاملہ ، مرحلہ، سٹیج کوئی بھی ہو۔۔
ITS ALL ABOUT PERFORMANCE
Salma Malik


0 تبصرے