جائزہ۔ ازقلم بشریٰ سندھو

السلام علیکم ڈیئر قارئین۔ میں بشریٰ سندھو جس نے تقریباً ایک سال پہلے آپی سلمیٰ ملک کے پاس قرآن پاک کی تفسیر کے سفر کا آغاز کیا،جہاں مجھے سمجھ آنا شروع ہوئ کہ اس قرآن حکیم میں بشریٰ کے لیے بہت کچھ ہے۔اس تفسیر کے سفر میں ہی مجھے آیات کے پس منظر کے بارے میں جاننے کا پتا لگا کہ کوئ بھی آیت اگر ہمارے سامنے ہوتی ہے تو ہمارے لیے اسکا ترجمہ جاننے سے پہلے یہ بھی جاننا بہت ضروری ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت کیا حالات چل رہے تھے۔اور بھی بہت کچھ سیکھا اور سیکھ رہی ہوں جو کہ آپ سب کے لیے شاید نیا نہ ہو مگر بشریٰ سندھو کے لیے ہر بار نیا ہوتا ہے جو ذہن کے بند دریچے کھول کر کوئ نہ کوئ نیا راستہ دکھا جاتا ہے۔ابھی میں آپکے ساتھ سورہ یوسف کی تفسیر کلاس کے وہ لرننگ پوائنٹس شیئر کررہی ہوں جنہوں نے میرا مائنڈ سیٹ بدلا۔ آپ لوگوں تک اگر یہ پوسٹ پہنچ رہی ہے تو آپ لوگ کمنٹس میں ضرور بتائیے گا کہ میرے لرننگ پوائنٹس آپکے لیے بھی مؤثر ثابت ہوۓ ہیں یا نہیں۔۔

جزاک اللہ۔


ہم میں ہر انسان اپنے حالات کی وجہ سے کہیں نہ کسی پریشانی اور غم میں مبتلا دکھی دل کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔کسی نے کسی کے ساتھ بہت غلط کیا اسکو اس بات کا گلٹ ہے تو کہیں کسی کے ساتھ بہت کچھ غلط ہوچکا ہے وہ اس غم میں مبتلا ہے۔کسی کی زندگی میں پیسے کی تنگی ہے تو کہیں کوئ بے حس رشتوں کی بے رخیاں برداشت کرتے ہوئے ختم ہورہا ہے۔کہیں کوئ دوسروں کی زبانوں سے نکلنے والے نشتروں سے چھلنی ہورہا ہے تو کہیں کوئ اپنی بیماری سے اکتا چکا ہے۔غرض سب کی اپنی کہانی اپنے الگ نوعیت کے مسائل ہیں۔مگر کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ یہ مسائل کب اور کیسے پیدا ہوئے؟کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ مسائل کب اور کیسے ختم ہونگے؟

یہ مسائل ہماری زندگی شروع ہوتے وقت تو نہیں تھے نا،جیسے جیسے ہم نے ہوش کی سیڑھی پر قدم رکھا ویسے یہ آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں میں داخل ہوۓ۔ہمارے مسئلے ہماری پریشانیاں جس بھی نوعیت کے ہوں، بحیثیت مسلمان ہمارے اندر ایک گلٹ بھی کہیں نہ کہیں چھپا ہوتا ہے جو ہر پریشانی پر ہمیں یہ کہتاہے کہ کاش اس وقت میں نے یہ کرلیا ہوتا اور یہ نہ کیا ہوتا تو آج شاید ایسے حالات نہ ہوۓ ہوتے۔کاش میں شیطان کے بہکاوے میں آکر فلاں کے ساتھ لڑائ نہ کرتی،حالانکہ میں اپنی جگہ پر ٹھیک تھی مگر کاش میں اسکو اس موقعے پر ایسے جواب نہ دیتی تو شاید آج


ایسے حالات نہ ہوتے۔۔

ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت لے رکھی ہے کہ اس نے ہمیں سیدھے ٹریک سے ہٹانے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں کرنی ہیں،اس کا تو کام ہی یہی ہے کہ اس نے ہمارے دل میں وسوسے ڈالنے ہیں۔مگر ان وسوسوں کو حقیقت کا رخ دینا ان پر ایکشن لینا ہماری اپنی کوشش ہوگی۔شیطان ہمارے دل میں یہ وسوسہ ضرور ڈال سکتا کہ اگر کوئ ہمارے مزاج کے خلاف یا ہمارے خلاف بات کررہا ہے تو اسکا منہ تھپڑوں سے رنگ دو اسکا منہ نوچ دو،مگر وہ ہمارا ہاتھ پکڑ کر تھپڑ نہیں لگوا سکتا،یہ ہمارا اپنا ایکشن ہوتا ہے جو ہم اپنی ذمہ داری سے ان وسوسوں کی وجہ سے کرتے ہیں۔ناپسندیدہ باتوں پر غصہ آنا کسی سے نفرت ہوجانا یہ شیطان کی طرف سے وسوسے ہیں مگر اس غصے پر کنٹرول نہ کرنا اور فوری نفرت کا اظہار کرکے فساد ڈالنا یہ انسان کے اپنے ہاتھ سے کمائے ہوئے اعمال ہیں۔

اللّٰہ تعالٰی نے ہمیں قرآن حکیم میں ہمارے کھلے دشمن شیطان کی ساری کوششوں کے بارے میں پہلے سے بریفنگ دے دی ہے اور ساتھ ہی ہمیں بتادیا ہے کہ میں نے اسکو صرف اتنا اختیار دیا ہے کہ وہ دلوں میں وسوسے ڈال سکتا ہے باقی اللہ تعالٰی نے انسان کو عقل اور سارے اختیارات تفویض کردیے ہیں کہ کیسے انسان نے خود پر مسلط کیۓ گۓ شیاطین کو ہرانا ہے۔اب سوچنے کی بات یہ ہےکہ ہم نے شیطان کے پیدا کیے گئے وسوسے کے مطابق عمل کرکے اپنے لیے کوئ مسئلے کمالیے ہیں تو اب ہم نے ان سے کیسے نکلنا ہے۔ہمارے دل میں فوری یہ خیال بھی آتا کہ شاید اسی لیے ہماری دعائیں قبول نہیں ہورہی،اسی لیے ہمارے حالات نہیں بدل رہے کیونکہ کہیں ہمارے ساتھ غلط ہونے کے علاوہ ہماری اپنی بھی بہت غلطیاں ہیں۔جنکو سدھارنے کے لیے پتا نہیں ہمیں کب تک کتنی محنت کرنی ہوگی اور پتا نہیں سب کچھ پھر سے ٹھیک ہوگا بھی یا نہیں۔ایک بات یاد رکھیں کہ ہر وہ خیال جو آپکو مایوس کردے کہ آپ جتنی بھی محنت کرلیں مگر آپکی کامیابی اور خوشحالی کی کوئ ضمانت ہی نہیں ہے آپکے ذہن کو ہر وقت شک میں مبتلا رکھے ایسے منفی خیالات بھی شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں جو آپکو مایوس اور نا امید کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔انہی کی وجہ سے آپ کا اپنی دعاؤں پر یقین ختم ہوجاتا ہے۔

اللہ تعالٰی نے سورہ یوسف میں فرمایا ہے کہ 

19

۔اللہ تعالٰی اپنا کام کرکے رہتا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔اور جب وہ جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطاء کیا۔

20

۔اس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں۔

اللہ تعالٰی نے ہمیں بھی قوت فیصلہ دے رکھی ہے۔ بےشک کہیں ہم سے غلطیاں ہوئ ہیں اور کہیں دوسروں سے۔مگر ہم نے بس اللہ پے یقین کرنا ہے کہ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے وہ ہم سے بہت محبت کرتا ہے۔ وہ ہمیں معاف بھی کرے گا۔اگر ہماری زندگی میں مسئلے آۓ ہیں تو وہ ہمیں ان مسائل سے خود نکالے گا ۔اس نے ہمیں ان مسائل کے امتحان میں اسی لیے ڈالا کہ وہ چاہتا ہے کہ ہم کامیاب ہوجائیں،اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے نہ بھاگیں۔اسکی حدود نہ توڑیں اگرچہ کسی دنیاوی خواہش،کسی انسان کی محبت،اور ناموافق حالات نے ہمیں بھٹکا دیا ہے مگر ہمارے رب نے پھر بھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔بےشک ہم مسائل میں الجھے ہوئے ہیں مگر پھر بھی ہمارے پاس بہت ساری ایسی نعمتیں ہیں جو دوسروں کے پاس نہیں ہیں


۔ہم اپنے اللہ کی نظروں میں تو ہیں نا۔ہماری پریشانیاں اگر ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا بناتی ہیں تو اس پریشانی سے بڑی خوشقسمتی کیا ہے جس نے آپ کو اللہ والا بنادیا ہے۔آپکو شیطان کے وسوسوں کو ہرانے والا بنادیا ہے۔درست ٹریک پے پہنچادیا ہے تو بس خود کو مضبوط کرلیں اگر کوئ بھی آپکا ساتھ نہیں دے رہا تو سوچ لیں کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے وہ مجھے ان مسائل سے نکالے گا میں نے اسکی دی ہوئ عقل اور اختیارات کے زریعے خود پر کام کرنا ہے اور خود کو ان مسائل سے نکال لینا ہے۔اپنا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ اگر آپ اپنے مسائل سمیت اپنے رب سے جڑے ہوۓ ہیں تو یہ مسائل بھی غنیمت ہیں جنکا ہر حال میں آپکو اجر ضرور ملے گا۔لیکن اگر آپکی پریشانیوں اور مسائل نے آپکو اپنے رب اور دین سے توڑ رکھا ہے تو ابھی بھی وقت ہے رجوع کرلیں اسکے ساتھ جڑ جائیں وہ حالات بھی بدلے گا اور عافیت بھی ضرور عطاء کرے گا کیونکہ اللہ اپنا کام کرکے رہتا ہے۔ہمیں بس ایک دفعہ کھلے دل سے اپنا جائزہ ہی تو لینا ہے بس۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے