اس دن ہر کوئی ان کی میت کے پاس بیٹھ کر یہی باتیں کر رہا
بس جی ۔۔یہ پیسے کے لالچ نے انسان کو اندھا کر دیا ہے۔۔
ہائے باجی۔۔مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے میں نے تو اپنے بیٹے سے کہہ دیا ہے ۔جب بھی مجھے تھوڑا وادھا گھاٹا ( اونچ نیچ )) ہوا تو جلدی آجانا۔۔۔
ویسے یہ اولاد بہت بے فیض ہوتی ہے جن ماں باپ نے ان کو یہاں تک پہنچایا ہے آج انھی کے مقابلے میں ان کو نوکری بہت پیاری ہے۔۔۔
اب یہ ان کو ہی دیکھ لیں آج ہم جس گھر میں بیٹھے
بیٹیوں کی بھی شادی کردی ۔۔دو تو کسی بیرون ملک ہیں ایک کراچی ہے سنا ہے ابھی راستے میں ہے ۔جنازے تک تو ممکن نہیں۔۔وہ پہنچ سکے۔۔
یہ مرنے والی کی سہیلیوں کا گروپ تھا جو اپنی سہیلی کی میت کے پاس بیٹھ کر یہ باتیں کر رہی تھیں۔۔۔
یہ وہی تھیں جو سب سے زیادہ اسی سہیلی کی قسمت پر رشک کی کرتیں تھیں۔اورجو لاش سامنے پڑی تھی اس نے بھی یہ راستہ اسی لیے چنا تھا کہ میرے پاس بھی ایک کوٹھی ہو۔۔فلاں کا بیٹا باہر گیا ہے اب اس کے دن پھر گئے ہیں ۔کبھی منتیں مرادیں، کبھی کسی سے دعا کی اپیل پھر قرضے کی دلدل میں خود کو دھکیل لیا۔۔۔۔
To get what??
یہی سب جو اس کے پاس تھا۔۔
ایک شاندار جدید طرز کے فرنیچر سے آراستہ کوٹھی۔۔ایک بڑی گاڑی ۔
خانسامے۔۔اتنے بڑے گھر کی صفائی ستھرائی کرنے والیاں۔۔
ہر مہینے بیٹوں کی طرف سے خرچہ مل جاتا ۔۔شوہر تو پانچ سال پہلے ہی دنیا سے جا چکا ۔۔اس کی کریانے کی دکان آج بھی وہیں تھی مگر مالک کوئی اور تھا۔
آہ۔۔اج اتنے سالوں بعد جب ایک کلائنٹ اپنی والدہ کی وفات پر جا نہ پائ اور تکلیف سے میرے پاس اکر ایسے ہی جملے سنا رہی تھی جو اس کے تعزیت کرنے والے رشتے دار اسے سنا رہے تھے تو مجھے یہ منظر یاد آگیا جو چند سال قبل پاکستان میں ایک ایسی ہی ماں کی فوتگی پر شامل ہوئ جو اکیلی محلے داروں کے جھرمٹ میں چارپائی پر پڑ ی تھی۔۔۔۔۔
ایسی گفتگو کرنے والوں سے میرا یہ سوال ہے۔۔۔کہ جب بھیجنے والے والدین تھے۔۔انھوں نے خود شعوری طور پر یہ قدم اٹھایا تھا ۔۔تو پھر ایسے مواقع پر صرف اولاد کو کیوں کوسا جاتا ہے؟؟۔
کیا اس وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ اولاد تک صرف والدین کی اچھائیاں نہیں ٹرانسفر ہوتیں۔۔ان کی سوچ، نفرت، لالچ دنیا سے محبت، خود غرضی ۔۔۔سب کچھ ٹرانسفر ہوتا ہے ۔
الا یہ کہ وہ خود شعوری طور پر یہ ڈیٹا ڈیلیٹ کر کے نئی پروگرامنگ کر لیں۔۔
ایسے مواقع پر اولاد سے بھی پوچھ کر دیکھیں کہ ان پر کیا بیتتی ہوگی۔۔کبھی اولاد کے جوتےمیں بھی پاؤں ڈال لینا چاہیے۔۔
اور مان لیں کہ والدین سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں وہ بھی غلط فیصلے کرتے ہیں والدین کی عزت و احترام ۔۔ان کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ۔۔مگر ان کے غلط فیصلوں کو غلط کہنا گویا انھیں انسان ماننا ہے
۔۔یہ ماننا ہے کہ والدین معصوم عن الخطا نہیں ہوتے۔۔۔ تمام نقائص سے پاک صرف اور صرف رب تعالٰی کی ذات ہے ۔۔خدارا والدین کو بشریت کے مقام پر ہی رہنے دیں۔۔انھیں خدا کا درجہ نہ دیں۔
اور اپنی اصل حیثیت اور مقام ومرتبہ کا احساس بھی والدین نے اولاد کو خود دینا ہے صرف اپنے حقوق نہیں بتانے اپنے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو یہ بھی بتانا ہے کہ ہمارے فرائض میں کیا شامل ہے اور ان فرائض کو کس کو متعین کس نے کیا ہے ۔۔ہم تمہارے رب نہیں ہیں ہم بھی ویسے ہی اس رب کے بندے ہیں جیسے تم ہو۔ہمارا کام ہماری ڈیوٹی بھی یہی ہے ۔۔کہ تمہیں اس رب سے ملوا دیں۔۔اس کی پہچان کروادیں۔۔اس کے سامنے جھکنا سکھا دیں۔۔صرف وہ اور اس کا رسول ہی ایسی ہستیاں ہیں جن کی اطاعت غیر مشروط ہے۔ ہماری اطاعت تب تک جب تک۔ہم خود اس کے مطیع ہیں۔۔ورنہ ادب توہوگا اطاعت نہیں
وَإِن جَٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِى ٱلدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَٱتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔
لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان دُنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے، اُس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو
یہ معیار والدین اولاد کو بتائیں گے ۔۔یہ بتانا والدین کے فرائض میں شامل ہے۔کہ ہم بھی غلط ہو سکتے ہیں۔
۔ہمارے فیصلوں میں نقائص کی گنجائش رہے گی بالخصوص جب تک ہم محض دوسروں کی دیکھا دیکھی اسی بھیڑ چال کا حصہ رہیں گے۔
اللهم اهدنا الصراط المستقيم. آمين ۔



0 تبصرے