اداسی یا ڈپریشن؟

 وقتاً فوقتا ہم سب اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہو تے ہیں۔ عمو ماً یہ علامات ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور ہماری زندگیوں میں ان سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ کبھی یہ اداسی کسی وجہ سے  شروع ہوتی ہے اور کبھی بغیر کسی وجہ کے ہی شروع ہو جاتی ہے۔  عام طور پر ہم خود ہی اس اداسی کا مقابلہ کر لیتے ہیں۔بعض دفعہ دوستوں سے بات کرنے سے ہی یہ ختم ہوجاتی ہے اور کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی

۔لیکن طبّی اعتبار سے  اداسی اسوقت ڈپریشن کی بیماری کہلانے لگتی ہے جب:

• اداسی کا احساس بہت دنوں تک رہے اور ختم ہی نہ ہو

•  اداسی کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روز مرہ کے معمولات اس سے متاثر ہونے لگیں۔


 درج ذیل ًعلامات ڈپریشن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ضروری


نہیں کہ ہر مریض میں تمام علامات مو جود ہوں لیکن اگر

 آپ میں ان میں سے کم از کم چار علامات موجود ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ ڈپریشن کے مرض کا شکار  ہیں۔

۔ ہر وقت یا زیادہ تر وقت اداس اور افسردہ  رہنا

۔جن چیزوں اور کاموں میں پہلے دلچسپی ہو  ان میں دل  نہ لگنا، کسی چیز میں مزا نہ آنا

 جسمانی یا ذہنی کمزوری محسوس کرنا، بہت زیادہ تھکا تھکا محسوس کرنا

 روز مرہ کے کاموں یا باتوں پہ توجہ نہ دے پانا

 اپنے آپ کو اوروں سے کمتر سمجھنے لگنا، خود اعتمادی کم ہو جانا

  ماضی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اپنے آپ کو الزام


دیتے رہنا، اپنے آپ کو فضول اور ناکارہ سمجھنا

مستقبل سے مایوس ہو جانا

 خودکشی کے خیالات آنا یا خود کشی کی کوشش کرنا

  نیند خراب ہو جانا

 بھوک خراب ہو جانا


کیا جسمانی بیماری ڈپریشن کا باعث ہے یا ڈپریشن جسمانی بیماری کا؟

اس کی وجوہات کیا ہیں 

  اور کیا 

(EFT TAPPING )

 تھیراپی سے اس کا علاج ممکن ہے ؟


مزید اس سلسلے میں مدد کےلیے آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔۔

اپنا خیال رکھیں اگر آپ ماں ہیں یا استاد۔۔۔تو آپ پر نسل کی تربیت و تعمیر کی ذمہ داری ہے۔۔


 Salma Malik

( EFT Practitioner )

Master UR Mind

https://www.facebook.com/Master-UR-Mind-103954328317668/


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے