اپنے بچوں کے لیے ہر وقت میسر رہنے پر ۔۔والدین کے لئے کوئی ڈگری نہیں بنی؟؟
جب وہ اچانک آدھی رات کو آکر آپ کے کمرے کا دروازہ
کھٹکھٹا تے ہیں۔۔۔کہ ماما
I am so thirsty and I am so scared .could you please get me some water.
یا اس وقت جب وہ چھوٹا بچہ جس کو رفع حاجت کے بعد پاکیزگی کے لیے والدین کی مدد چاہیے۔۔۔وہ عین اس وقت آپ کو آواز دے جب آپ کھانے کے اس موڑ پر ہوں جہاں مزہ آنا شروع ہوا۔۔۔
یا اس وقت جب وہ سکول جاتے ہوئے اپنا ضروری سامان گھر بھول گیا ہو اور آدھ راستے سے واپس آئے اور گھبرایا ہوا یہ کہے کہ اب وہ واپس سائیکل پر بھی گیا تو دیر ہو جائے گی جس پر اسے ڈیٹینٹیشن ملے گی۔۔۔اس کی نگاہیں ایسا سپر ہیرو ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں جو فی الفور اسے سکول پہنچا دے اور وہ ہیرو اسی وقت اپنے سب کام چھوڑ کر اس کو اپنے جادوئی قالین کے ذریعے اس کی منزل تک پہنچا دے۔۔۔
بلاشبہ اللہ نے دونوں کے لیے ڈگری رکھی ہے۔۔
ایک کے لیے کہا گیا۔۔اس کے قدموں تلے جنت۔۔
دوسرا۔ اس جنت کا دروازہ۔۔
والدین اپنے اس مقام کو محسوس کریں۔اللہ کا شکر ادا کریں۔بے شک یہ بہت اعلٰی وارفع مقامات ہیں مگر ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں۔کہ اس اولاد کو اللہ کی طرف سے امانت سمجھ کر اس کی ذہنی، جسمانی اور روحانی
سب ضروریات پوری کی جائیں۔اور کیوں کی جائیں؟۔تاکہ وہ بحثیت خلیفہ فی الارض اپنے فرائض انجام دے سکیں۔۔کیونکہ والدین بھی اسی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
مگر نکتہء آغاز کیا ہو؟؟
یا یوں کہہ لیں کہ اگر والدین خود سے
مقصدیت سے بےخبر ہیں
اور وہ اپنے بڑھاپے کے لیے سہارے تیار کر رہے ہیں تو پھراولاد سے اس قسم کی توقعات وابستہ رکھتے ہیں کہ وہ بھی یہ سب ہمارے ساتھ کریں جو ہم نے کیا۔اگر والدین کی سوچ سیلف سینٹرڈ ہے یا صرف اپنا ہی فائدہ سوچ کر پرورش کریں گے تو بچے بھی یہ سوچ لے کر پروان چڑھیں گے۔۔۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ والدین کا کام نسل انسانی کی تعمیر ہے۔یہ ڈیوٹی اللہ کی طرف سے دی گئی ہے نہ کہ بزنس انویسٹمنٹ۔۔۔
اور دوسری طرف اولاد کے لیے حکم بدلہ اتارنے کا نہیں۔۔"احسان کا ہے"۔۔اور اس کو والدین کے سلوک سے مشروط نہیں کیا گیا۔۔کہ اگر والدین کا رویہ
abusive
تھا تو ان سے "احسان "کا حکم ساقط ہوگیا۔۔
مگر یہ شعور دینا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔۔اگر آپ نے اپنا کام صحیح ایمانداری سے کیا ہے۔۔اگر آپ ہر اس وقت اس بچے کے لیے موجود رہے ہیں جب اس کو آپ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔۔چاہے وہ ضرورت جسمانی تھی یا ایموشنل ۔۔ آپ نے اسے اس کے رب سے متعارف کروا دیا ہے۔اس کو زندگی گزارنے کے لیے اللہ کی طرف سے جو مینویل تھا وہ سکھا دیا ہے ۔۔۔پھر بے فکر ہو جائیں۔۔آپ نے اپنے حصے کا کام کردیا۔۔۔اللہ نے ہم سے سوال ہماری کوشش اور عمل کا ہی کرنا ہے۔۔نتیجہ کیا نکلا وہ نہیں پوچھا جائے گا۔کتنی رحمان ذات ہے ناں۔۔۔
ساتھ خوشخبری بھی ہے۔۔وَمَنْ أَرَادَ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَٰٓئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا
اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی
لیکن اگر خدانخواستہ ایسا نہیں کیا۔ تو استغفار کر لیں۔کیونکہ اس صورت میں صرف اس بچے کے نہیں پورے معاشرے کے مجرم ہیں جس کو آپ نے نہ خود شناسی دی نہ خدا شناسی۔۔جو زندگی کے ہر میدان میں یا تو خود خدا بن بیٹھا ہے یا اپکو ہی خدا بنا بیٹھا ہے۔۔
۔عملا استغفار۔
إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْـًٔا
البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہو گی
اگر ابھی بھی آپ کے بچے زندگی کے کسی موڑ پر آپ کو ٹربل میں دکھائی دیں تو سوچیے مت۔۔آگے بڑھیے۔۔ان کا ہاتھ تھام لیجیے۔۔ایک تھپکی دے کر کہیے۔۔آج بھی تمہارے ساتھ ہوں۔۔اگر وہ مصیبت کی گھڑی میں اپ کا دروازہ کھٹکھٹا ئیں تو محبت سے کھول دیجئے۔ان کے لیے ان کا نام۔لے کر اگر آپ دعا کرتے ہیں تو ان سے پوچھئے کہ وہ کون سی دعا کروانا چاہتے ہیں۔۔
یہ پیرنٹگ
کوئی بزنس ڈیل
نہیں ہے کہ ایک وقت میں انویسٹ کیا تھا تو اب پھل کھانے کا وقت ہے۔۔یا اس لیے ان پر آج خرچ کرلیں کہ کل کو بڑھاپے کا سہارا بن جائیں۔۔۔یہ ایک مکمل پروسیجر ہے۔تربیت کا ایک عمل۔۔جو ہر لمحہ بغیر رکے بتدریج، تسلسل سے جاری رہتا ہے۔۔بہت وسیع موضوع ہے جس پر باتیں ہوتی بھی ہیں اور مزید بہت گنجائش باقی ہے مگر اس وقت مقصد صرف توجہ دلانا ہے۔۔
میں اس تحریر کے ذریعے نہ تو والدین کو اپنی اولاد کا غلام بننے کا کہہ رہی ہوں نہ حاکم۔۔
اور نہ ہی اولاد کو والدین کے ساتھ بدتمیزی اور ان کو مصیبت میں بےیارو مددگار چھوڑ نے، اور ان سے اپنی ناکامیوں کا بدلہ لینے کا سرٹیفکیٹ دے رہی ہوں۔
بلکہ اجتماعی طور پر محاسبہ کرنے کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں۔۔
۔اگر والدین اس کو پڑھ رہے ہیں تو وہ اپنا محاسبہ کریں۔کہ خدانخواستہ ہم اپنے بچوں کی پرورش بزنس انویسٹر بن کر تو نہیں کر رہے۔
۔اگر اولاد پڑ ھ رہی ہے تو وہ اپنا محاسبہ کرے۔۔۔کہ کیا ہم
اپنے والدین سےاحسان کا معاملہ کر رہے ہیں۔۔۔
دونوں فریقین میدان میں باہم حریف کی طرح موجود ہیں ۔اس بات سے بےخبر کہ ان کی یہ سوچ اور رویے کس طرح نسل در نسل منتقل ہوتے جارہے ہیں۔۔ایک بلیم گیم
جاری ہے۔۔اور اردگرد مایوسی، گناہ، ایک دوسرے کی حق تلفی، خودغرضی، سب سے بڑھ کو خدا سے دوری کی خود رو جھاڑیوں میں مُسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔۔
اللهم اهدنا الصراط المستقيم. آمين
سلمٰی ملک


0 تبصرے