ویسے جب بھی میں یہ پڑھتی ہوں کہ اللہ تعالٰی پوچھیں گے کہ جوانی کہا ں گزاری؟۔
تویہ ذہن میں آتا ہے کہ اس سوال کا اگر یہ جواب دیں کہ زندگی کے وہ قیمتی سال سطح مرتفع پوٹھوہار ، الجبرا، نیوٹن کا قانون کو رٹا لگانے میں گزار دی۔۔۔تو کیا بچت ہو گی؟؟
یہ تو ایک ایسا تلخ مذاق ہے جس سے چاہ کر بھی چھٹکارا نہیں۔ہاں یہ بھی سچ ہے پریکٹیکل لائف میں آکر جہاں جہاں سطح مرتفع سے واسطہ پڑا اس میں یہ انفارمیشن کوئی کام نہیں آئ ۔ذندگی کے امتحانات میں کسی کی نقل لگانا بھی بے سود ٹھہر ا۔رشتہ داریاں نبھاتے ہوئے کن رویوں کو کب جمع تفریق کرنا ہے کس محبت کو کس سے ضرب دینے سے جواب صحیح آئے گا اور کیسے سب بچوں میں توجہ تقسیم کی جائے کہ جواب ایک ہی آئے۔۔۔آج بھی دماغ ان سب
equations
کا جواب انھی کتابوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے مگر ذندگی ہمارا مذاق اڑاتے ہوئے جبرا ہمیں اپنا سلیبس پڑھاتی ہے۔اور سچ پوچھیں تو جو سبق ذندگی پڑھاتی ہے اور جیسے پڑھاتی ہے۔۔جی چاہتا ہے ان اساتذہ کے پاس بھاگ کر ان کے پاؤں پکڑ لیں۔۔کہ براہ مہربانی دوبارہ اسی
fake world
میں لے جائیں ۔لیکن ناممکن۔۔پھر کیا ہوتا ہے کہ ہم خو د کو اپنے نظام تعلیم کو اور کبھی اپنے والدین کو کوستے ہیں۔کہ یہ سب اجتماعی طور پر ہماری ناکامیوں کے ذمہ دار ہیں۔۔کبھی ڈپریشن، کبھی فرسٹریشن، کبھی جوڑوں کا درد ، کہیں گھٹنے جواب دے چکے ہیں۔کچھ کی نیند غائب۔اور کہیں سر کا دائمی درد۔۔۔
یہ سب کیا ہے؟؟؟
Blame game
Escape from reality
۔چلیں جو ہواسو ہوا۔نظام تعلیم کو, اپنے۔ ماضی کو کوسنے سے مجھے اور آپ کو کیا حاصل ۔ سوائے مایوسی اورلمحہ موجود میں کچھ کر گزرنے سے محرومی کے۔
بلکہ کسی بھی ایسی جگہ پر توانائی لگانا جو ہمارے کنٹرول میں نہیں۔اپنی توانائی ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
تو کیا کیا جائے؟؟۔
Let's define our areas Of life in to two categories.
1:Area of control
2:Area of concern
دائرہ اختیار
دائرہ خدشات، کسی کے لیے فکرمند ہونا
اپنی توانائی ان کاموں پر، ان جگہوں پر اور لوگوں پر لگائیں جو آپ کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری اپنی ذات کے علاوہ کوئی اور انسان ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔جی ہاں۔نہ ہمارے رشتہ دار، نہ خاوند نہ ہی اولاد۔با لخصوص ہماری اولاد جس کو ہم ہمیشہ
area of control
سمجھتے ہیں۔وہ بھی
area of concern
میں ہیں۔بحیثیت والدین ہمیں ان پر حاکم نہیں بنایا گیا ہمارا رشتہ اپنے بچوں کے ساتھ حاکم اور محکوم کا نہیں ہے۔حاکم اللہ ہی ہے ہم تو guardian اور
carers
ہیں۔یہ ہماری ڈیوٹی لگائ ہے اللہ نے ۔ہمیں ایک چیک لسٹ دی ہے مکمل گائیڈ لائنز دی ہیں کہ اس کے مطابق ہم نے ان کا خیال رکھنا ہے۔کس طرح گائیڈ کرنا ہے ۔مگر کسی بھی پوائنٹ پر یہ اجازت نہیں دی کہ ہم ان کو اللہ کی بجائے اپنا غلام بنا لیں۔۔خیر اس موضوع پر پھر کبھی تفصیلا بات ہو گی ۔فی الحال یہ وضاحت کافی ہے کہ اپنی فکر ، اپنے اقدام ، اپنی توانائی کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔کہ کہیں غلط جگہ تو نہیں لگا رہے۔۔
گزشتہ چند ماہ میں جتنے ڈپریشن اور اینگزائٹی کے کیسز سامنے آئے سب میں یہ ایک
common
بات دیکھی۔۔
سب کے سب
area of concern
کے پیچھے خو د کو ہلاک کر رہے ہیں۔ دوسروں کے نہ بدلتے ہوئے رویوں کی وجہ سے پریشان۔۔سب دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں۔حالات بدلنے کے انتظار میں ہیں۔مگر یہ راز نہیں جان پاتے کہ کوئی کسی کو نہیں بدل سکتا اور نہ ہی اللہ نے ہمیں یہ ٹاسک دیا ہے۔دوسروں کو آگاہی، رہنمائی اور دعا دی جا سکتی ہے۔ایک ایسا سسٹم بنایا جا سکتا ہے جس میں یہ سب موجود ہو مگر کسی کے دل اور سوچ کو بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔
اپنا رویہ نہیں بدلتے اس پر آپ کا فرسٹریٹ ہونا ایک الگ بات ہے۔
..
Lets focus on what you can control
Leave what's not in your area of control.
Salma Malik

0 تبصرے