سٹریس ٹریگرز۔۔از قلم سلمیٰ ملک

 جب بھی کسی کا رویہ ، کوئی خاص جگہ، کسی کی کوئ بات ، کوئی کمنٹ ، کوئی ایونٹ آپ کے اندرایموشنل ہلچل مچا دے


۔مثلا ایک دم غصہ آجائے، اداسی ہو ۔شرمندگی محسوس ہو یا گھبراہٹ ہونے لگ جائے تو نتیجتا جسمانی طور پر کچھ علامات ظاہر ہوتی ہیں پسینہ آنا، کپکپی طاری ہونا،جسم میں درد ہونا ، خارش، سانسیں پھول جانا سب سے بدترین علامات میں سے دل کا دورہ پڑنا ، لقوہ ، فالج۔۔۔۔۔۔وغیرہ  اس کامطلب ہے اس سے جڑے ہوئے کچھ واقعات و حادثات سے جڑے 
unresolved issues

 ابھی بھی  لاشعور میں دفن تو ہیں مگر زندہ ہیں۔ایک ایسی پینڈنگ  فائل ہے   

 جس پر اس وقت کام نہیں کیا گیاجب  مطلوب تھا  

یعنی یہ سب سٹریس ٹریگرز       


مثلاً اگر صرف غصے کی مثال لیں 

 آپ سے عمر میں بڑے انسان نے سب کے سامنے اونچی آواز  میں آپ کی انسلٹ 

 کر دی نتیجتا آپ کو بہت غصہ آیا مگر آپ چپ رہے اپنے اس نیگیٹو ایموشن کو اپنے اندر دبا گئے۔۔اپنے ایموشن کو "اگنور "کر کے آگے بڑھ گئے تو دوبارہ جب بھی کوئی اونچی آواز میں بات کرے گا اپ کی وہی میموری، وہی فائل کھلے گی جس کے ساتھ غصے کے ایموشنز تھے۔۔اس کو "ٹریگر "کہتے ہیں یعنی آپ کےلیے "اونچی آواز " ایک ٹریگر  ہے اصل میں مسئلہ نہیں ہے۔۔۔

تو پھر کیا کرنا چاہیے۔۔ ؟

 اسی ٹریگر کو بیس بنا کر اس کے پیچھے چھپے مسائل کو


حل کرنا چاہئے۔محض وقتی طور پر کچھ ادویات کھا کر یا خود کو سمجھا بجھا کر  کرنا اس کا حل نہیں۔۔جب تک ہم اپنے ماضی  سے جڑے ناگوار واقعات وحادثات جو اپنے ساتھ بے شمار نیگیٹو ایموشنز رکھتے ہیں ان کو 
acceptance &acknowledgement 
نہیں دیتے یہ ہمیں آگے بڑھنے میں رکاوٹ کا باعث بنتے رہتے ہیں 

۔۔شعوری طور پر صحیح اور غلط معلوم ہونے کے باوجود ہمارا لاشعور بار بار ہمیں پیچھے کھئنچتا رہے گا کیونکہ ہم ایک پروگرامنگ کے تحت چلتے ہیں اور یہ ذہنی پروگرامنگ عمر کے ابتدائی حصوں میں ہوتی ہے جب ہمیں شعوری طور پر صحیح اور غلط کا فرق نہیں پتہ ہوتا ہم لاشعوری طور پراپنے والدین کے 

 belief system 

کو ہی اپنا لیتے ہیں اردگرد کا ماحول، نظام تعلیم یہ سب مل کر ہماری


پروگرامنگ کرتے ہیں اگر ہم خود سے صحیح اور غلط کو جان بھی جائیں مگر پھر اس کے مطابق اپنی عادات کو بدلنے کے کےلیے عملی قدم نہ اٹھائیں تو یہ پروگرامنگ جیت جاتی ہے ۔اور ہم شعور اور لاشعور کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔۔۔میرے پاس بے شمار ایسی مثالیں ہیں جہاں میں نے صحیح علم رکھنے کے باوجود لوگوں کو اس پروگرامنگ کا شکار ہوتے دیکھا ہے وہ کہتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ یہ رویہ ٹھیک نہیں مگر ہم خود نکل نہیں پارہے۔ہم آپے سے باہر ہو جاتے ہیں تعوذ بھی پڑھتے ہیں وہ سب کرتے ہیں جو غصے کی حالت میں کرنا چاہیے مگر بلڈ پریشر پھر بھی ہائی ہو جاتا ہے۔۔۔ہم خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے ساتھ سیشنز کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ اصل میں یہ وہ غصہ ہے جو وہ بچپن سے دباے بیٹھے ہیں جب ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی ہوئی، ان کے گھر کا ماحول بہت کنٹرولنگ رہا یا والدین کابہت
 abusive behaviour
 تھا یا بچے اپنے والدین سے الگ رہے یا دونوں میں سے کسی ایک سے الگ رہے اور دوسرا اپنی بیماری یا مصروفیت کی وجہ سے بچوں کو ٹائم اور توجہ نہ دے سکا ۔سب سے خطرناک سیچوئیشںن وہ سامنے آئی جس میں کسی بچےکے ساتھ اس وجہ سے جسمانی زیادتی ہوئی کہ والدین اس کو کسی اور کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے ۔۔۔تو ان سب میں جو کامن بات تھی وہ غصہ تھا۔۔جو بچے کو والدین پر تھا۔جس کو اس نے اپنے اندر دفن کردیا۔۔کہیں اس لیے کہ اسے کہا گیا کہ ماں باپ تو کبھی غلط نہیں ہوتے، کبھی یہ کہ وہ بڑے ہیں اتھارٹی ہیں کہیں ایموشنل بلیک میلنگ کارڈ کھیلا گیا کہ اچھے بچے بڑوں کو جواب نہیں دیتے چپ رہو۔۔۔کہیں اپنے ایموشنز کا اظہار کرنے پر مزید تشدد کاشکار ہوے یا دوسروں کو ہوتے دیکھا تو یہ یہ اسٹریٹجی اختیار کر لی کہ جو بھی ہو جائے بس دوسروں کے سامنے یونہی رہنا ہے کہ میں بالکل ٹھیک ہوں  

Nothing happened. 

I have no problem. 

I am a superman or woman. 

مگر یہ بھول گئے کہ "جب ہم نہیں بولتے تو ہمارا جسم بولتا ہے "

"۔جن جذبات کو ہم اپنے اندر دفن کردیتے ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔"

 کون سے مفید ہیں اور کون سے نقصان دہ۔۔۔اس کو جانچنے کا آسان طریقہ ہے کہ آپ کو مذکورہ بالا میں سے کوئی بھی بات ڈسٹرب کرتی ہےاور آپ ایموشنلی اور فزیکلی 

damage 

ہوتے ہیں یا آپ کی روٹین، رویہ صحت متاثر ہو تی ہے تو یہ نقصان دہ جذبات ہیں جن کے پیچھے ناخوشگوار واقعات کو آپ نے دفن کیا ہوا ہے ۔


۔۔۔جب تک ان پر کام نہیں کریں گے آپ بار بار اسی سرکل میں گھومتے رہیں گے دماغ فزیکلی طور پر مزید کمزور ہو گا overall productivity 
متاثر ہو گی سب سے زیادہ دماغ کی بیرونی سطح  
 cerebral cortex 
 کہتے ہے جس کا کام نظام انہضام کو 
handle
 کرنا ہے وہاں چونکہ ہمارا آٹو نامک نروس سسٹم ہے اگر ہمیں خود کسی پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا نہیں ائے گا تو یہ سسٹم خود بخود ایکٹیویٹ ہو گا جو اللہ سبحان و تعالی نے ہمارے 

 survival( to save us in life & death situation )

 لیے یعنی ایمرجینسی سیچوئیشںن کےلیے رکھا ہے اگر ہر وقت دماغ ایمرجنسی سیچوئیشںن میں رہے گا تو ایکسٹرا ہارمونز ریلیز کرے گا مسلز کھچ جائیں گے بلڈ پریشر بڑھے گا ۔۔۔تو ایک طرف ہر گزرتے لمحے اور د ن کے ساتھ دماغ کمزور ہو گا اس کے ساتھ نظام انہضام متاثر ہوگا اور دوسری طرف ہمارے اندر مقابلہ کرنے کی طاقت کم ہوتی جائے گی۔

تو کیا کرنا چاہیے۔۔

اگر بیمار ہو چکے ہیں تو معالج سے رابطہ کریں۔

اپنا چیک اپ کروائیں 

علاج کروائیں۔

اپنی زندگی بھی آسان کریں اور اپنے اردگرد لوگوں کی بھی۔۔

۔ خود کے لیۓ وقت نکالیں،اپنا خیال خود کریں ۔بہتر ذندگی کے لیے بہتر صحت آپکی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

Salma Malik

EFT PRACTITIONER 

https://www.facebook.com/SalmaMalikUKTherapyServices

۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے