رب نجني من القوم الظالمين

  یہ ایک مکمل سچی کہانی ہے میرے پاس ایک کیس تھا جس کو شئیر
 کرنے کا مقصد صرف ذہنی بیماریوں کے علاج کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ یہ پوچھنا بھی ہے کہ ہمارے اردگرد جب ایسے ظلم ہو رہے ہوتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمارے گھروں میں جب انسان دوسرے انسان پر خدا بن کر بیٹھ جائیں تو کیا کرنا چاہیے؟ بے شمار کیسسز میں لڑکی کے ایسے سسرال کے رویے سامنے آئے یوں لگا سسرال نہیں فرعون ہیں۔۔۔۔ہمارے ہاں ساس کو زیادہ قصوروار سمجھا جاتا ہے مگر سچ بتاؤں میرے پاس پچھلے چند ماہ میں جو کیسسز آئے 80فیصد کیسسز میں "سسسر" بہو پر فرعون بن کر بیٹھا ہے۔اور ایسے گھروں میں جہاں شوہر حضرات بیرون ملک ہیں اور بیوی بچے "سسرال " کی
 under observation
..

اور وہاں سسر صاحب ایک جلاد کے روپ میں موجود ہیں۔۔۔۔۔ میں نے ابھی تک جو کہا وہ کیسسز کی بنیاد پر کہا ۔باقی کوئی شک نہیں خیر بھی موجود ہے اور اللہ کرے ہم دوسروں کےلیے نافع انسان بنیں۔۔ ا‼️اگر کسی کے لیے یہ کیس تکلیف کا باعث بنے تو ضرور رابطہ کریں میں اس کو بہت عرصے سےجانتی ہوں ۔آخری دفعہ جب اس کو کچھ سال پہلےدیکھا تھا تو بہت کھلا ہوا چہرہ ۔خود ڈیزائن کیے ہوئے کپڑے پہن کر مجھے ملنے آئ تھی۔میچنگ جیولری اور ہلکے ہلکے سنہری گھنگھریالے بالوں کے ساتھ بہت خوشگوار موڈ میں ہمیں مٹھائی دینے آئ تھی۔کہ اس کا رشتہ پکا ہو گیا لڑکا سعودی عرب ہوتا ہے۔بہت چھوٹی سی فیملی ہے۔ان لوگوں کا اپنا گھر ہے۔ دو نندیں ہیں ۔۔ایک کی شادی ہو چکی دوسری کی ہماری شادی کے بعد ہو گی۔ان لوگوں کا ابھی یہی پلان ہے کہ شادی تک ادھر رہوں گی پھر اپنے شو ہر کے ساتھ سعودیہ چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔ آج کیمرہ آن ہوتے ہی میرے دماغ میں وہ اس کی ساری گفتگو چل رہی تھی۔۔۔میری زبان گنگ ہو گئ تھی میں کچھ لمحےکے لیۓ فارمیلیٹیز  
پوری کرنا بھو ل گئی۔۔یاد ہی نہیں رہا کہ پو چھ لو
  1. How may I help you today ?
  2. How are you?
  3.  What's your problem ?
Where's in your body and how intense????? کیونکہ میرے سوال پوچھنے سے پہلے ہی اس کی آنکھوں کے نیچے پڑے حلقے،زردی مائل نقاہت بھراچہرہ بہت کچھ کہہ رہا تھا۔صرف ان کو الفاظ و آواز میں ڈھالنا تھا جس کے لیے وہ ایسے کانوں کی منتظر تھی جو صرف اس کی آواز سنیں اور سننے والے کےہونٹوں کو اجازت نہیں کہ وہ کچھ بولیں۔۔ میں نے صرف ایک سوال کیا۔۔تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا؟ مسکرا کر بولی۔یار یوں سمجھو اللہ نے بھیج دیا ہے تمہارے پاس۔۔ اصل میں دو سال سے بخار نہیں اترتا۔ہر علاج ، دم درود سب کچھ کروا لیا ہے۔سمجھ نہیں آتی امی کی طرف آتی ہوں تو تھوڑی فریش ہوتی ہو ں مگر جب بھی واپس اپنے گھر جانے کا سوچتی ہوں جسم درد کرتا ہے وہاں تو میرا بخار ہی نہیں اترتا۔اب تو سسرال والے کہنے لگ گئے ہیں کہ تمہارے گھر والوں نے سعودیہ کی لالچ میں ہمیں بیمار لڑکی دے دی۔بھوکے گھر کی لڑکیوں کو عیش راس نہیں آتی۔یہ کہ کر اس کی آنکھیں بھر آئیں۔اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ کر سانس بحال کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ میں نے بولا تھوڑا سا پانی پی لو۔کہنے لگی اب اٹھنے کی ہمت نہیں۔ایک گہری سانس لیتے ہوئے بولی۔یاد ہے میں نے تمہیں بتایا تھا کہ لڑکا سعودیہ ہوتا ہے۔اور ہم لوگ بھی وہاں چلے جائیں گے۔۔میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ۔۔بالکل یاد ہے۔۔تو کیا تم واپس آگئی یا ابھی بھی ادھر ہی رہتی ہو۔؟ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔۔واپس تو تب آتی جب وہاں جاتی۔۔ تقریبا پندرہ منٹ کی کال میں، میں نے نوٹس کیا وہ کھانستے ہوئے بار بار اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ رہی تھی۔خود ہی بتانے لگی کہ ابھی دوہفتے ہوئے آپریشن کو۔۔بس زیادہ بیٹھنا مشکل ہے۔مجھے یہ تو پتہ تھا کہ اس کی تیسری بیٹی اب تقریبا چھ ماہ کی ہو چکی تھی مگر آپریشن کس وجہ سے ہوا یہ پوچھنے پر وہ تھوڑی سی پریشان دکھائی دی۔اور کہنے لگی ابھی میری امی کو نہ بتانا۔۔۔میرے سسرال کو اگر پتہ چل گیا کہ میں نے اپنے میکے والوں کو بتا دیا ہے تو بہت مشکل ہو جائے گا ۔ اصل میں جب میری تیسری بیٹی ہوئ اور دوسری اور اس میں ایک سال کا ہی وقفہ ہے ۔بڑی چار سال کی ہے ۔اب یہ دونوں۔۔میرے شوہر دو بہنوں کے اکیلے بھائی ہیں میرے سسرال کو اس دفعہ بہت امید تھی کہ بیٹا ہو گا مگر بیٹی کی پیدائش سے بہت خفا ہوئے۔۔میرے سسر نے توا یک دفعہ پوتی کو اٹھایا بھی نہیں تھا اور ڈاکٹر سے کہہ دیا کہ اس کا آپریشن کر دیں ہمیں مزید بچے نہیں چاہیئں ۔میری عمر ابھی صرف 28 سال ہے تو ڈاکٹر نے منع کر دیا۔اور۔ایک تو کم عمری اور دوسرا شوہر کی غیر موجودگی۔۔
ڈاکٹر نے ٹھیک کہا ۔۔ابھی تو صرف 28 کی ہو۔۔کون سا بوڑھی ہو رہی ہو تمہارا بھی تو کوئی فیصلہ ہونا چاہیے۔۔ ہنس کر کہنے لگی۔۔میرے فیصلہ کی اہمیت ہوتی تو یہ نوبت آتی۔۔۔ سلمٰی جانتی ہو میں 28کی ہوں مگر میرا شوہر 48 کاہے۔۔۔مگر مجھے اب اپنااپ 58 کا لگتا ہے۔۔یہ کہہ کر رونے لگی۔کہ کاش میری ماں نے میری بات مان لی ہوتی۔جب رشتہ ہوا تب یہ سعودیہ تھے ۔نکاح سے دو دن پہلے واپس آئے ۔ہمیں جو تصویر دکھائی گئی وہ بالکل جوانی کی تھی۔مگرجب میرے گھر والوں نے جا کر دیکھا تو وہاں 40 سال کا آدمی تھا۔میں 20 سال کی۔مگر یہ کہہ کر سب خاموش ہو گئے کہ سب تیاری مکمل ہے ۔لوگ کیا کہیں گے ۔ہماری بدنامی ہوگی۔۔ویسے بھی انھوں نے سعودیہ چلے جانا ہے ۔۔کوئ بات نہیں۔۔ خیر شادی ہوئی۔جب اس گھر آئی تو میرا کمرہ میرے ساس سسر کے کمرے سے گزر کر آتا ہے۔پہلے دن سے ہی ہمیں سنا یا گیا کہ کمرے کو کونڈی نہیں لگانی۔وجہ یہ بتائی گئی کہ میرے شوہر کو کوئی ذہنی مسئلہ ہے وہ بند کمرے میں گھبرا جاتا ہے۔اس کو واقعی سوئے ہوئے دورہ پڑ جاتا ۔شروع میں تو بہت گھبرا گئ ۔گھر والوں کو بھی بتایا مگر یہ جواب ملا۔۔صبر کرو۔اب وہی تمہارا گھر ہے ۔یہ چھوٹے چھوٹے مسئلے لے کر ہمارے گھر نہ آنا۔۔پھر میں نے بتانا چھوڑ دیا۔۔و ہ ایک ذہنی مریض ہے۔مگر انکار نہیں سن سکتا۔بےحد شک کرنے والا شخص۔کئ دفعہ ہمارے گھر رشتے دار مردمہمان آئے ان کے ماموں یا تایا وغیرہ۔۔جب بھی ان سے بات کی۔۔بعد میں کئی دفعہ اس بات پر شوہر سے پٹائی ہوئی کہ میں نے ان سے بات کیوں کی۔۔ میرے لیے یہ سب بہت shocking بھی تھا اور میرے پاس بھی الفاظ نہیں تھے کہ اس کو کچھ کہ پاتی۔۔۔ اتنا بولنے کے بعد دوبارہ اس نے دونوں ہاتھوں سے پیٹ کو پکڑا۔۔تو میں نے پوچھ ہی لیا۔۔کہ تم آپریشن کے بارے میں بتانے لگی تھی۔۔۔ایک اہ بھرتے ہوئے بولی۔۔۔ میری زندگی تو ایک کتاب ہے۔۔کیا کیا سناؤں تمہیں۔۔۔۔ بس پانچ ماہ گزر گئے۔۔ہر وقت کسی نہ کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرتے رہے۔میری کمزوری بھی روز بروز بڑھ رہی تھی۔شوہر کے آنے کا پلان بن گیا۔۔تو ایک دن میرے سسر مجھے کہنے لگے تمہاری طبیعت بہت خراب رہتی ہے اور شوہر بھی آنے والا ہے میں نے ایک ڈاکٹر سے بات کی ہے تمہارے علاج کی۔۔اگر تم نہ گئ تو اپنا سامان اور بیٹیاں اٹھاؤ اور میکے چلی جاو ۔۔بس میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھی۔مجھے لے گئے۔وہاں سب ٹیسٹ ہوئے۔مجھے ڈرپ لگائ گئ ۔۔پھر جب ہوش آیا تو اٹھ نہیں سکی۔نرس نے بتایا کہ میرا آپریشن ہوا ہے اور میری یوٹرس  
 نکال دی گئی ہے۔۔۔۔ مجھے اس کی بات سن سے کر یوں لگا جیسے میں سانس لینا بھول گئی ہوں۔۔۔واللہ۔۔واللہ۔بہت سے کیسز میں ایسی سٹیج آتی ہے کہ میں سوچتی ہوں اگر اللہ نے میرا دل نہ تھاما ہوتا۔تو یہ اب تک اس غم سے پھٹ گیا ہوتا۔۔۔۔بس یہ وہی  لمحہ تھا میرے لیے۔۔۔ میں چونکہ اس کی تھیراپسٹ تھی گہری سانس لی اپنی آنسو پی لیے۔۔اور اس سے پانی پینے کو کہا۔۔ وہ مسلسل روے جا رہی تھی اورمجھ سےسوال کر رہی تھی۔۔کہ سلمی اب بتاؤ۔۔کیا تمہارے پاس میرے مسائل کا حل ہے؟؟؟کیا کوئی ایسا ہے جو مجھے اس ظلم سے نجات دلا سکے؟ میں کیسے مان لوں کہ دنیا میں ماں باپ مصیبت میں چھاؤں بنتے ہیں۔جبکہ مجھے تو اس جہنم میں بھیجا ہی انھوں نے ہے۔۔۔ میں نے اس کو رونے دیا جو جو وہ کہنا چاہتی تھی چپ کر کے سنتی رہی اور اس کے ہر جملے کی تائید کی اورباقی تھیراپی پروسیس کے بعد اس کو ایک دعا سکھا دی۔۔ اے اللہ مجھے ظالموں سے نجات دلا۔۔۔۔ اب جب میں ایموشنز اور اعضاء کا باہم تعلق پڑھتی ہوں تو یہ لڑکی میرے سامنے مجسم آتی ہے کہ کیسے بے بسی، insecurity 
اور گھر والوں کی طرف سے عدم توجہی انسانی جسم کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے اگر ان تکالیف کو اپنے اندر سے نکالا نہ جائے تو انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں علاج ممکن نہیں رہتا۔۔۔ اپنا خیال رکھیے خود پر بھی رحم کیجئے اور دوسروں پر بھی۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کہیں آپ کی ذہنی بیماری سے متاثر لوگ اپ کےلیے یہی دعا کرنے لگ جائیں۔۔۔ رب نجني من القوم الظا لمين. آمين
 Salma Malik EFT PRACTITIONER (Psycho Therapist )

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو غارت کرے جو کسی کی بہن بیٹی کو تکلیف دیتے خود خدا بن جاتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں