جب تم میں حیا نہ رہے تو جو مرضی کرو۔۔۔۔
انا لله وانا اليه راجعون
کیا واقعی بحثیت قوم ہم بے حیا ہو گئے ہیں؟
ہمارا میڈیا جن کے ہاتھوں میں ہے وہ بے حیا لوگ ہیں؟
سینسر بورڈ نام کی کوئی چیز ے کہ نہیں؟؟۔۔
یا پھر سینسر بورڈ کی حیا بھی سینسر ہو گئ ہے۔
پاکستانی ڈرامے، فلمیں، ٹک ٹاک کونٹینٹ، مارننگ شوز، ٹاک شوز، کامیڈی۔۔۔۔ ان کا کونٹینٹ، لباس ، کردار سب کے سب بےحیائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔۔سوائے اکا دکا کے۔۔۔
مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ ان تمام کی ریٹنگ کیسے بڑھ جاتی ہے؟
کون سپورٹ کرتا ہے؟۔
کس سیارے کی مخلوق ہیں وہ سب لوگ؟
کالجز میں فلموں کی پروموشن ہو رہی ہے۔
۔شادیوں پر نوجوان بیٹیوں کو نچایا جا رہا ہے سب خوش
ہو کر سینہ تان کر داد دے رہیے ہیں۔۔۔۔"واو ماشاء اللہ کتنا اچھا ڈانس کرتی ہے"۔۔
استغفر الله العظيم
۔ہم جنس پرستی کو ایک باقاعدہ موضوع بنا کر باقاعدہ اس پر انویسٹمنٹ کی گئی ہے۔
"جی یہ جو میڈیا میں دکھایا جاتا ہے وہ معاشرے کی عکاسی ہوتی ہے۔۔ہم تو وہی دکھاتے ہیں جو معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے"۔۔ڈرامہ اور فلموں کے رائٹرز بہت فخر سے یہ بات کرتے ہیں۔۔۔
سچ ہی تو کہتے ہیں۔۔۔بڑی بہن کی شادی پر چھوٹی ناچے گی تو پھر وہ ڈانسر تو گھر سے ہی تیار ہوئی ۔
جب گھر کا سینسر بورڈ(والدین ) کو اعتراض نہیں تو میں اور آپ کون؟
جب سالی اپنے بہنوئی کے ساتھ ایک ناجائز تعلقات استوار
کرنے میں مصروف ہے اور گھر کے سینسر بورڈ کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی تو ہم کون؟
گھروں میں نامحرم کزنز کے ساتھ ایک باؤنڈری سیٹ کرنے کی بجائے ان کو آپس میں بہن بھائی بنا کر پیش کیا جاتا ہے مگر وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے حد پار کر جاتے ہیں اور گھر کا سینسر بورڈ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے اسی ماحول کو پروان چڑھا رہا ہے تو پر ہمیں کیا اعتراض؟؟
کالجز اور یونیورسٹیوں میں نیم برہنہ لباس پہن کر جب اساتذہ کی موجودگی میں دور دراز علاقوں میں trips جاتے ہیں اور وہاں بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈ ز enjoyment کے نام پر جو عزت کے جنازے نکالتے ہیں تو گھروں اور تعلیمی اداروں کا سینسر بورڈ ان کو مکمل سپورٹ کرتا ہے
تو پھر ہماری آواز چہ معنی دارد؟؟؟
میڈیا کا کوئی قصور نہیں۔۔۔وہ بے قصور ہے ۔وہ بہت حقیقت پسند ہے۔اس کی ذمہ داری تھوڑی ہے کہ وہ سینسر کرتا پھرے۔۔۔
میڈیا کا کام صرف انٹرٹینمنٹ دینا ہوتا ہے ۔
معاشرے کی عکاسی کرنا ہوتا ہے۔
لوگوں کو پورے معاشرے سے گند اٹھا کر دکھانا ہوتا ہے۔کہ کس کس کونے میں کتنا گند ہے اگر وہ یہ کام نہ کرے تو ہم۔ محروم رہ جائیں گے ہمیں صحیح اور غلط کا پتہ کیسے چلے گا۔۔ہم تو دنیا میں بہت پیچھے رہ جائیں گے پھر کوئی آسکر ایوارڈ نہیں ملے گا۔۔
۔اور جہاں تک بات اللہ کی ناراضگی کی ہے تو کیا آپ لوگ ہر معاملے میں دین کو لے آتے ہیں۔۔کم آز کم انجوائے تو کرنے دیا کریں۔۔
Entertainment is entertainment.
انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔۔اگر ان تمام جملوں میں سے کوئی ایک بھی ہماری آواز ہے تو پھر خود پر انا للہ پڑھ لیں ہم۔۔۔
کیونکہ ہم مر چکے ہیں۔
ضمیر، حیا، اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس۔۔سب کا جنازہ آٹھ چکا ہے۔۔۔۔
اگر یہ آواز ہماری نہیں تو استغفار کا وقت ضرور ہے۔۔صرف مصلووں پر استغفار نہیں ۔۔عملاً استغفار کا وقت ہے۔۔۔یہ وقت قصور کو ناپنے کا نہیں۔۔کس کا کتنا ہے ؟۔
کون ذمہ دار ہے ۔؟۔۔
میڈیا ذمہ دار ہے یا ہم؟۔۔
ہر کوئی اپنی اپنی جگہ پر ذمہ دار ہے ۔۔۔میڈیا کو چلانے والے، دیکھنے والے ،سب کے سب ذمہ دار۔۔۔اپنی اپنی ذمہ داری کا تعین تو اپنے مقام ومرتبہ اور میدان سے ہو گا۔۔
انفرادی اور اجتماعی، دونوں سطح پر بیک وقت کام کرنے کا وقت ہے۔۔
انفرادی سینسر بورڈ کو کلمہ پڑھانے کا وقت ہے
وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فَرْدًا
سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے
اپنے گھروں کے سینسر بورڈ کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ہم بحثیت والدین، استاد، لیڈر، ادارے کے سربراہ، سینسر بورڈ کے انچارج۔۔۔۔ہم۔خدا نہیں ہیں۔۔
ہم سے سوال ہوگا اپنی اس ذمہ داری کا۔۔
Responsibility comes with accountability.
ہم ذرا تصور کریں کہ جب ساری کائنات کے رب کے سامنے، تمام انبیاء کے سامنے۔۔ہمارے خاندان، برادری، فالوورز کے سامنے یہ گواہی کا منظر ہو گا کہ۔۔
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةِۭ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ شَهِيدًا ﴿٤١﴾ يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَعَصَوُا۟ ٱلرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ ٱلْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِيثًا
پھر سوچو کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اِن لوگوں پر تمہیں (یعنی محمد ﷺ کو) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے (41) اُس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسولؐ کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے، تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے..
ایسی دل دہلا دینے والی کیفیت ہے جس پر ہمارے پیارے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو پڑے ڈاڑھی مبارک تر ہوگئ۔۔۔اور میں اور آپ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ" ہمیں کیا جس کا دل کرے جو مرضی کرے"۔۔۔🥲
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ.
آمین
سلمٰی ملک







2 تبصرے
اسلام و علیکم ! بے شک آج ہمیں جاگنے کی ضرورت ہےاللہ تعالی سے دعا بھی کرتے ہیں اور اپنی اس ذمہ داری کو پوری کرنے کی مدد بھی مانگتے ہیں کہ معاشرے کی اصلاح میں ہمیں بھی اپنا حصہ ڈالنے کی تو فیق دے آمین
جواب دیںحذف کریںآمین
حذف کریں