پانی پی کر اپنا گلاس واپس رکھ دینا۔
جہاں بیٹھ کر چائے پی ، وہاں سے اپنا کپ خود کچن تک لے جانا
بیڈ روم میں اگر کھانا کھایا ہے یاسنیکس
کھائے ہیں وہ برتن ، وہ
rappers
وہاں سے اٹھا کر ان کی جگہ تک پہنچا نا۔
ناخن کاٹنے کے بعد ان کو مٹی میں دبانا یا
bin
میں پھینک دینا
کوڑے دان( dustbin)
کے پاس کھڑے ہو کر مالٹا چھیلنے کے بعد وہ چھلکے خود اس میں پھینک دینا ۔
ایک مہذب اور صاف ستھرے انسان کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔مگر اس کے برعکس اپنے ہی گھر میں اگرکوئی انسان ناخن، چھلکے، ریپرز گندے برتن ، یا کسی بھی قسم کا کوڑا کہیں بھی پھینک رہا ہے ۔۔تو بعید نہیں کہ وہ گھر سے باہر بھی یہی حرکتیں کرے گا۔
کیونکہ ہم پہلے عادت اپناتے ہیں پھر عادات ہمیں اپنا لیتی ہیں۔
اگر یہ سب کچھ گھر کے اندر ہو رہا ہو تو کیا ہم خاموش اسی گند میں بیٹھے رہتے ہیں یا صفائی کرتے ہیں درحقیقت یہ بھی ہماری ویلیوز، ہمارے ایمان کی عکاسی کرتا ہے اگر الطهور شطر الإيمان(طہارت نصف ایمان ہے) ہمارے عقیدے میں شامل ہے توکیا ہم تب بھی گند پر بیٹھیں گے؟;
کیا اس کی تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں گے؟
یا اس کا الزام سکول والوں کو دیں گے کہ انھوں نے تمیز نہیں سکھائی
یا حکومت کوالزام دیں گے کہ اس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی
یا اس گند کو ہٹانے کےلیے کوشش کریں گے؟
ذمہ داران اگر اپنی ڈیوٹی نہیں پوری کر رہے تو آگے بڑھ کر خود ذمہ داری لیں گےاور دوسروں کو ساتھ ملا کر محبت اور اخوت سے اپنے گھر کو صاف کریں گے یا محض کسی کا انتظار کریں گے؟
آپ کیا کریں گے؟؟؟؟
یہ محض ایک تصویر نہیں بلکہ غیر ذمہ داری کی ایک خاموشں داستان ہے۔
![]() |
کرنا ہے۔۔
گند چاہیے کیسا بھی ہو۔کسی جگہ پر بھی ہو۔جب ہماری نظروں کے سامنے آئے گا ۔تو ذمہ دار ہم ہیں۔مگر اس کو ہٹانے میں اپنا دائرہ کار، اپنے اختیارات کو مدنظر رکھا جائے۔
جو کر سکتے ہیں وہ ضرور کریں۔۔حکمت سے۔۔یاد رہے۔ !
مقصد موجودہ گند اٹھانا ہے۔۔نہ کہ اس میں اضافہ کرنا۔۔
# حکمت
# محبت
# مؤثر طریقہ
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی اک شمع جلاتے جاتے
Salma Malik

0 تبصرے