مفلوج سوچ۔۔۔ازقلم سلمیٰ ملک

 ہمارے ہاں ایک مداری والا آیا کرتا تھا دوپہر کے وقت جب سب سو رہے ہوتے وہ ڈگڈگی بجاتا اور ہم سب بھاگ کر باہر چلے جاتے۔ہماری کوشش ہوتی کہ گھر والوں کو نہ ہی پتہ چلے۔آہستہ آہستہ اس کے اردگرد ایک ہجوم اکٹھا ہوتا اور ہم اسی کے اندر چھپ کر وہ تماشا دیکھنے کے منتظر رہتے۔۔

جب اس بندر اور مداری کے گرد اتنے لوگ آجاتے کہ ایک


دائرہ بن جائے،  دوبارہ ڈگڈگی بجتی۔۔۔سب کو سلام کرو۔۔بندر اتراتا ہوا سب کوسلام کرتا۔۔صاحب جی کو ذرا جھک کر سلام کرو۔۔سلام کرنےکا انداز لوگوں کے حساب سے ہوتا۔۔بچوں کے سامنے ناچتا ہوا اور صاحب جی کے سامنے ادب سے جھکتا ہوا۔۔

 ایک

 scenario 

پیش کیا جاتا۔۔کہ سب کو دکھاؤ جب داماد پہلی دفعہ سسرال آتا ہے تو کیسے بیٹھتا ہے۔۔وہ ایک دم ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر منہ اٹھا کر بیٹھ جاتا جیسے کسی کوئ جنگ جیتنے بعد فتح کے جشن میں ہو۔۔۔

تیسرا منطر۔۔آج بیوی نے سالن میں نمک زیادہ ڈال دیا ہے بیوی کو غصہ کر کے دکھاو۔۔وہ ایک دم سے پلیٹ اٹھا کر زور سے زمین پر جھٹک دیتا۔۔۔

اب ناراض ساس بن کر دکھاو۔۔وہ فورا منہ بسور کر  لیٹ جاتا ۔۔۔

 ہر منظر پر رسپانس مختلف ہوتا۔۔جس پر زیادہ واہ واہ ہوتی ۔۔اس کو دہرایا جاتا۔جو منظر لوگوں کی زیادہ توجہ لیتا اس کا دورانیہ بڑھا دیا جاتا۔۔عموما میاں بیوی اور لڑاکا ساس کے منظر کی ریٹنگ سب سے زیادہ ہوتی۔۔۔ کچھ لوگ تالیاں بجاک

کچھ دے دلا کر اور کچھ صرف باتیں سنا کر۔۔اپنی اپنی راہ لیتے۔۔

ہم۔اکثر آپس میں ڈسکس کرتے کہ کسی طرح مداری تک رسائی ہو اور اس کو کچھ من پسند منظر دےسکیں۔یا کبھی ہم کوشش بھی کرتے کہ خود سے ہی بندر کو ایک scenario 

دیتے۔۔کہ اب مداری کو تھپڑ مارو۔ہم۔چھوٹے تھے 

curiosity 

بھی تھی اور شرارت بھی سوجتی۔۔من ہی من میں ڈر بھی ہوتا ۔کہ ہماری ان ہدایات پر مداری ہمیں ہی بندر نہ بنا دے


۔۔مگر یہ کیا ۔

وہ ہجوم میں مختلف آوازیں سن کر بھی مسکراتا اور ڈگڈگی بجاتا رہتا۔اور اس کا بندر صرف اس کی ہدایات کو مانتا۔۔

میں نے کئی دفعہ اس پر سو چا کہ بندر صرف مداری کی کیوں سنتا ہے۔کیا مداری اس کی زبان سمجھتا ہے۔۔یا مداری بھی بندر نسل کا ہے۔یا اس نے اس کے اندر کو programming

 کی ہوئی ہے۔۔میں ایسے سوالات زیادہ تر اپنے ابو سے کیا کرتی تھی۔۔میرے تمام سوالات کا ایک جواب دیا انھوں نے۔۔

پتر جی" ۔

trainedیہ

بندر ہیں۔مداری اپنی روٹی روزی کے لیے جو اس کو سکھاتا ہے وہ صرف وہی کرتا ہے بدلے میں اس کو بھی روٹی ملتی ہے"

کاش ہمیں بھی سمجھ آجائے کہ ہمارے اردگرد آج بھی ایسے 


مداری موجود ہیں جنہوں نے کُچھ لوگوں کو "سدھایا " ہوا ہے کہ وہ ان کی 

rating

(روٹی روزی ) کے لیے ناچتے رہیں۔ان کے لکھے ہوئے اسکرپٹ پر actکرتے رہیں بدلے میں ان کو بھی rating

(۔روٹی روزی ) 

ملتی رہے گی۔۔


اور کاش ہم یہ سمجھ جائیں۔۔


کہ  تماشبین( تماشا دیکھنے والے)ہی اس تماشے کے وجود کا باعث ہوتے ہیں۔۔ہم۔سمجھتے ہیں۔تماشا ختم تو ہجوم ختم۔۔مگر حقیقت کچھ اور ہے

۔

ہجوم نہیں تو تماشا نہیں "

خود سے سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہیں ہم ہی تو اس مداری کے ہجوم میں اضافہ نہیں کر رہے۔۔جس کو نہیں بھی پتہ ہوتا اس کے ساتھ شیئر کر کے

 rating

 بڑھا دیتے ہوں ۔۔۔کہیں مداری کی یہ

 strategy 

تو نہیں کہ جہاں وہ نہیں پہنچ سکتا ہم جذباتی ہو کر اسے لے جاتے ہیں؟؟؟؟


کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس کے تماشے اور بندر کی پرفارمنس پر تبصرے کی بجائے خود اپنے اسکرپٹ لکھ لیں۔۔


ایک تماشا ہم بھی دکھا دیں مگر ہمارے 

actor 

اعلی پائے


کے انسان ہوں۔۔ناکہ بندر جو دوسروں کے اشاروں پر ناچنے والاہو۔۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے