چپ کا ذہر

 وہ میری کزن کی دوست کی بیٹی ہے بہت خوب سیرت۔بچپن میں بہت خوبصورت تھی ہروقت ہنسنے ہنسانے والی۔بہت ملنسار مگر سمجھ نہیں آئ اچانک اس کو کیا ہوگیا ۔اس کا شوہر آج آیا تھا اور مجھ سے درخواست کر رہا تھا کہ کہیں سے بھی اس کا علاج ہو سکتا ہو تو مجھے بتائیں۔جب سے بیٹی ہوئی ہے تب سے بہت چڑچڑی ہو گئی ہے آٹھ سال ہوگئے ہیں۔روزبروز اس کا وزن بڑھتا جارہا ہے سات سال سے anti Depressant لے رہی ہے


۔میں نے اپنی طرف سے کوئی علاج نہیں چھوڑا۔جو بات مجھے سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے وہ یہ کہ یہ   بیٹی کو میرے ساتھ کہیں جانے  نہیں دیتی ۔اب تو ہم الگ گھر میں رہتے ہیں۔میرے گھر میں میرے والدین چھوٹا بھائی اور ایک بہن تھی۔اسی کے یہ کہنے پر ہم نے اپنا الگ گھر لے لیا کہ "میں ہر وقت اپنے ہی گھر میں گاؤن پہن کر نہیں رہ سکتی اور نہ ہی تمہاری غیر موجودگی میں وہاں رہنا چاہتی ہوں۔خاص طور پر جب میرے والد گھر ہوتے ہیں یہ اپنے کمرے کو لاک رکھتی ہے۔دادا کے پاس پوتی کو جانے کی بالکل اجازت نہیں۔۔


آج مسجد میں میرا آخری پروگرام تھا ۔میں نکل ہی رہی تھی کہ اس نے میرا بازو پکڑ کر پانچ منٹ میں یہ کہانی سنادی۔۔

یہ سن کر مجھے کچھ نہ کچھ کیس کی سمجھ تو ا رہی تھی مگر سوچا:بہت دفعہ بظاہر علامات سے نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہیں ہوتا جب تک مکمل بات کا پتہ نہ ہو۔

خیر میں نے پوچھا اگر وہ خود تیار ہیں تو پھر آپ میری ان سے بات کروا دیں۔

اپوائنمنٹ بک ہو گئ مگر وہ کہ رہی تھی کی میں اتنے سالوں سے کاونسلنگ کروارہی ہوں۔کچھ دیر کے لیے فرق پڑ تا ہے مگر جب زیادہ gathering میں جاتی ہوں یا رات کو اکیلی ہوتی ہوں پھر طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔سب سے زیادہ پریشانی یہ ہے کہ میں اپنی بیٹی کے بارے میں بہت possessive ہو ں میں خود بھی اپنی اس عادت سے بہت تنگ ہوں ۔گولیاں کھا کھا کر جسم بھی بڑھتا جا رہا ہےکیا یہ تھیراپی میرے لیے مفید ہو سکتی ہے ؟۔

ہاں اس کے ذریعے مسائل کی اصل وجہ اور حل مل جاتا ہے

Tapping therapy

۔کچھ انرجی پوائنٹس پر tappکرنے سے جسم میں توانائی کا بہاؤ شروع ہوتا ہے ہمارا nervous system پر سکون ہو جاتا ہے اورلاشعور activate ہوتا ہے اس میں ہر وہ یاد محفوظ ہوتی ہے جس کے ساتھ جذبات جڑ ے ہوں اور اگر  جذبات منفی ہوں  توہمیں آگے بڑھنے سے روکتے ہیں اس پروسیس میں negative energy ریلیز ہوتی ہے  اورbody communication شروع ہو جاتی ہے۔  میں نے مختصرا اس کو اس تھیراپی کا تعارف دیا تو پوچھنے لگی کیا اس کے بعد ہم ماضی بھول جائیں گے؟

مسئلہ ماضی کو بھولنا یا بدلنا ہے ہی ہے نہیں۔۔ماضی میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہوتا ہے ہم اس کو بدل تو نہیں سکتے ۔۔مگر ان سے جڑے ناگوار اور تلخ جذبات سے خود کو آزاد کر سکتے ہیں۔۔۔بس یہی ہے تھیراپی۔۔۔

میری بات سے کچھ مطمئن ہو گئ تھی۔۔اور سیشن کرنے کے لیے آمادہ ہو گی۔

آج وہ میرے سامنے گاؤن اور۔ almost نقاب میں بیٹھی تھی۔۔چونکہ وڈیو کال تھی میرا کیمرا بھی آن تھا  تو کہنے لگی آپ پردہ نہیں کرتیں۔۔میں نے مسکرا کر کیا۔ جی الحمدللہ! مگر صرف مردوں سے۔۔

وہ بھی ایکدم مسکرائ۔۔اور اپنا نقاب کھول کر اسکارف کو دوپٹے کی طرح لےکر بیٹھ گئی۔۔

ہم وڈیو کال اسی لیے کرتے ہیں تاکہ کلائنٹ کی 

face reading اور باڈی لینگویج observe کر سکیں۔۔

کون سا issue آپ کو سب سے زیادہ bother کرتا ہے۔۔موٹاپا۔۔نیند۔۔یا چڑچڑا پن۔۔؟؟

موٹاپا۔۔سب سے زیادہ۔۔وہ فورا بولی۔۔

I feel embarrassed..

This is  the  main reason I wear abaya all the time.my body is in very ugly shape.

..

اس وقت کیا آپ کے پاس شیشہ ہے جس میں آپ خود کو مکمل دیکھ سکیں؟۔۔کہنے لگی جی۔۔ہاں۔۔میری وال پر ہے مگر میں نے اس کو ڈھانپ رکھا ہے۔

I don't like to see myself.

میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی جو لوگ بھی زیادہ وزن کے ساتھ آتے ہیں ان کا یہ کامن جملہ ہوتا ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ اس موٹاپے کی وجہ سے شرمندہ ہوتے ہیں  یا موٹاپا ہمارے لیے شرمندگی کا باعث ہے درحقیقت بات اس کے برعکس ہوتی ہے۔دراصل یہ" شرمندگی موٹاپے کا سبب بنتی ہے"۔۔


خیر میرے کہنے پروہ شیشہ دیکھ رہی تھی۔۔

How are you feeling now?

Embarrassed۔۔۔

What's your emotion....

I am getting angry just by looking at myself..

مجھے لگ رہا ہے میرے سارے جسم میں غصہ بھرا ہوا ہے۔۔اپنے آپ سے گھن آرہی ہے مجھے۔۔وہ بار بار دونوں ھاتھوں سے اپنے جسم کو جھاڑ رہی تھی اور ابکائیاں لینے لگی۔۔۔

Sorry sister..I am feeling sick..

یہ سیشن شروع کرنے کے لیے بہترین وقت تھا۔۔۔کیا ہوا؟۔

کچھ یاد آیا؟ 

غصہ کس پر ہے؟

 پہلے کبھی اس طرح طبیعت خراب ہوئ؟

ہمیشہ ہوتی ہے۔۔جب بھی رات کو  اکیلی ہوتی ہوں  یا شیشہ دیکھتی ہوں۔۔مجھے وہ راتیں یاد آتی ہیں جب  میں اور میری بڑی بہن ہم دونوں ایک کمرے میں سو تی تھیں۔۔میں تقریبا سات سال کی تھی اور میری بہن دس سال کی۔۔ہمارے بیڈ روم کے سامنے ہمارے مم ڈیڈ کاکمرہ تھا۔۔۔۔میری ایک دفعہ رات کو آنکھ کھلی تو یوں لگا جیسے میری بہن کے بیڈ پر کوئی لیٹا ہواہے۔۔اس کو چپ کروا رہا ہے۔۔اندھیرا تھا میں بہت ڈر گئ۔۔یہ بتاتے ہوئے اس پر اس وقت بھی ایک خوف طاری ہو گیا۔۔اس کا جسم کانپ رہا تھا۔۔حیران بھی ہو رہی تھی کہ سات سال پہلے کی بات پر اتنا ری ایکشن۔۔۔۔

میں  اس کو اسی ایج اور وقت میں لے گئ۔خوف کیسا تھا۔۔۔؟؟

وہ سات سال کی بچی نے جو دیکھا


۔۔وہ اس قدر ڈر گئ کہ بول نہ سکی۔۔پہلی رات کو بخار ہو گیا۔۔دوسری رات پھر وہی اجنبی اندھیرے میں بہن کی معصومیت کا فائدہ اٹھا رہا تھا۔۔یہ ڈر کر والدین کے کمرے میں گئی کہ کسی کو بلا سکے۔۔ماں کو اٹھایا اورکمرے میں انگلی پکڑ کر لے آئ۔۔۔

ماں نے لائٹ ان کی۔۔تو وہ درندہ اس کا اپنا باپ تھا۔۔۔وہ دس سال کی بچی بے ہوش پڑ ی تھی۔۔یہ سات سال کی خوف سے ماں کے ساتھ لپٹ گئ۔۔خوف نے جیسے پورے جسم کو شکنجے میں لے لیا ہو۔ ۔۔کچھ ٹیکنیکس استعمال کرنے کے بعد اس کی طبیعت سنبھلی۔۔اور کہنے لگی۔۔باپ سے تو نفرت ہے مگر ماں پر اس بات کا غصہ ہے کہ ہم دونوں بہنیں بہت بیمار ہوگئی تھیں سکول والوں نے گھر والوں سےوجہ پوچھی ۔۔ان کے نہ بتانے پر انھوں نے ہم سے پوچھا۔۔مم نے منع کیا کہ کچھ نہیں بتانا۔۔مگر میری بہن نے سب کچھ بتا دیا۔۔ہم۔دونوں Foster care میں چلی گئیں ۔۔parents پر کیس ہوا ۔۔ حالانکہ میری مم خود  بھی وکیل تھیں ۔۔دونوں جیل میں چلے گئے اور ہم دونوں کبھی کسی گورے کے گھر کبھی کس کے۔۔

وہ مسلسل ایسے  روے جا رہی تھی


۔جیسےکوئ سالوں سے نہ رویا ہو۔۔ سلمیٰ میری زندگی کے وہ تاریک ترین سال ہیں۔۔میری بہن اٹھارہ کی ہوئی تو وہ کہیں  اورچلی گئ۔۔۔میں تین سال اکیلی کسی کے گھر رہی۔۔وہ گوری بوڑھی تھی۔۔مگر یہ لوگ تو زیادہ تر صرف پیسوں کے لیے یہ سروس کرتے ہیں۔۔اس کو میری ذات، میری دلچسپیوں سی کوئی غرض نہیں تھی۔۔نہ کوئی میری دوست تھی نہ سوشل سرکل ۔۔صرف سکول کی حد تک ۔۔

پھر میں اٹھارہ سال کی ہوئی تو میری ماں نے کسی رشتے دار کے ذریعے مجھے اپنے پاس بلوا لیا۔۔میرا باپ کسی اور کیس میں جیل میں تھا میرےپاس اور کوئی شیلٹر نہیں تھا تو ماں کے پاس ہی چلی گئ مگر اس گھر میں وہ میرے لیے صرف ایک انجان عورت تھی۔۔پھر کالج۔۔یونیورسٹی۔۔میں نے جاب شروع کی۔بڑی بہن تو پہلے ہی کہیں جا چکی تھی مم نے اپنی  دوست کے بیٹے سے میری شادی طے کر دی۔۔میرے لیے تو مرد ایک ناقابل اعتبار شخصیت تھی


۔۔بہت مشکل سے خود کو تیار کیا۔۔ شادی کے لیے سب سے بڑی وجہ میرے باپ کی جیل سے واپسی تھی۔۔بس اس درندے سے دور جانے کا یہی راستہ ملا۔۔

باپ کا نام لیتے ہی نفرت اس کے چہرے پر عیاں تھی۔۔اپنے مسوڑھے دبا رہی تھی۔۔دانت بھینچتے ہوئ بولی۔۔

I wish ..I could kill him..

یہ  وہ نفرت  تھی جس کو اس نے آج تک باہر نہیں نکالا۔یہ سات سال کی بچی کی نفرت تھی۔۔جو عین موقع پر دفن ہو گئی۔۔مگر وہ آج بھی اس لے اندر زندہ تھی۔۔

کہنے لگی جانتی ہو ۔۔میری ایک ہی بیٹی ہے ۔جو شادی کے چار سال بعد ہوئ۔اور اب وہ چار سال کی ہے مگر آج تک میں نے اس کو اس کے باپ کو اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔۔۔

پھر سے رونے لگی۔۔میں نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی۔۔۔

I feel Helpless and insecure..

میرے شوہر بہت اچھے ہیں۔حالانکہ میرے باپ اور ان میں زمین آسمان کا فرق ہے مگر مجھے سمجھ ہی نہیں آتا۔۔کہ جونہی وہ بیٹی کے پاس آتا ہے مجھے panic attacks شروع ہو جاتے ہیں۔۔۔

کیا آج کی تھیراپی سے کوئی فرق پڑے گا۔


۔۔میں نے اسی وقت اس کو تصور کروا کر وہ سین دکھایا کہ اس کی بیٹی کو باپ اٹھاے ہوے ہے اور وہ اس کا شوہر ہے۔۔اور وہ خود اپنی ماں سے مختلف ہے۔۔

ہاں جو حادثہ ہوا وہ بہت تکلیف دہ تھا مگر وہ ماضی تھا۔۔تب وہ سات سال کی بے بس اور کمزور بچی تھی جو اپنی بہن کا دفاع نہیں کر سکی۔چیخ چیخ کر رو نہیں سکی اور پنا غم کسی کو بتا نہیں سکی۔۔مگر اب وہ ایک مضبوط اور با اختیار عورت ہے۔۔۔وہ اپنی ماں کے ساتھ وہ بیٹے ہوے وقت کو شیر کر سکتی ہے۔۔

ماں کے نام۔پر اب اس کا غصہ غم میں بدل چکا تھا کیونکہ بقول اس کے اسکی ماں اب چلنے پھرنے سے معذور ہو چکی تھی۔۔فالج کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ نہ کسی کو پہچانتی نہ خود کچھ کھا پی سکتی تھی۔۔ باپ چونکہ ابھی بھی اسی گھر میں تھا تو اس نے وہاں جانا چھوڑ دیا۔۔۔

مگر اس سیشن کے ایک ماہ بعد اس کا مجھے میسج ملا۔۔

کہ تین ہفتوں سے ماں کے پاس ہوں۔۔باپ سے اب نفرت نہیں رہی


۔۔مگر محبت بھی نہیں۔۔کہہ رہی تھی یقین نہیں آتا کہ اتنا چینج کیسے آگیا۔ اور سب سے بڑی بات کہ بیٹی کو گھر اس کے ڈیڈ کے ساتھ چھوڑ کر آتی ہوں۔۔اپنے اندر ایک۔ہلکا پن محسوس ہوتا ہے۔۔۔کاش میں لوگوں کو بتا پاتی کہ اپنے اندر جو ہم نفرتیں اور غصہ پال لیتے ہیں وہ صرف ہمیں ہی نقصان پہنچاتا ہے۔۔وہ زہر بن جاتا ہے۔۔۔جیسے میرے اور میری ماں کے اندر بھر گیا۔ اب سجھ آتی ہے۔کہ میں اپنی اس حالت کی خود ذمہ دار تھی۔میں نے خود کو اتنے پردوں میں چھپا لیا کہ خود بھی اپنا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔

ہو سکتا ہے میری ماں بھی اس وقت بے بس ہو ۔۔مجھے تو اللہ نے ابھی بچا لیا۔۔ورنہ کچھ سالوں بعد میں  بھی ماں کی حالت میں ہوتی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے