وہ میری ایک دوست کا بھتیجا تھا جو اکثر مسجد میں کلاس اٹینڈ کرنے آتی تھی
اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ اس پر رحم کر دے۔
وہ بیس سالہ نوجوان اپنے بیڈ پر ٹیک لگائے دونوں آنکھیں جھکاۓ میرے سامنے تھا بہت کمزور اور تھکا ہوا لگ رہا تھا جیسے بہت جبر کر کے بیٹھا ہو۔ میں نے سلام کیا تو کن انکھیوں سے مجھے دیکھتے ہوئے وعلیکم السلام۔ہلکا سا سر کو جھکا کر کچھ کہا اس نے۔۔ مجھے آواز نہیں آئی مگر غالب گمان تھا کہ اس نے جواب ہی دیا تھا میں ابھی تک اسی شش و پنج میں تھی کہ اس کے ساتھ بات کہاں سے شروع کی جائے۔.اسکے چہرہ سے صاف لگ رھا تھا کہ وہ رات بھرسویا نہیں۔ میں نے ہمت کر کے اس سے کہا اگر آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہے تو ہم کل بات کریں گے مسکرا کر بولا ۔کل؟؟۔۔۔اب میں سن سکتی تھی میں نے کہا جی کل۔۔ پھر مسکرایا اور بولا "باجی کل کس نے دیکھا ہے۔"۔ آپ کو تو پتاہی ہوگا کہ میرا کینسر آخری سٹیج پر هے۔سب ڈاکٹرز کے مطابق اب صرف موت کا انتظار ہے ۔۔"کل کس نے دیکھا"۔
میرے لیے یہ دو سالہ ایکسپیرینس کا یہ تیسرا کینسر کیس تھا مگر اس عمر کے بچے اور لڑکے کے ساتھ پہلا تجربہ تھا میں نے اس سے بات کرنے سے پہلے خود کو ذہنی طور پر تیار کیاتھا کہ اس کے سامنے میری اپنی ہمت تو بندھی رہے مگر جو بھی ہو ایک تھیراپسٹ بھی بہرحال انسان ہوتا ہے
"باجی کل کس نے دیکھا ہے"
اس کا یہ جملہ سیدھا میرے دل میں لگا۔ درد کی ایک ٹیس اٹھی تھی میرا ہاتھ خودبخود سینے کی طرف بڑھ گیا۔۔بس ایکدم اس کی طرف دیکھا کہ کہیں وہ مجھے دیکھ تو نہیں رہا۔۔ میں نے گہرا سانس لیا اور اس سے کہا آپ صحیح کہہ رہے ہو کل کس نے دیکھا کیا پتہ کل تک میں بھی زندہ نہ رہوں چلو آج ہی بات کرتے ہیں
آپ بتاؤ اپنے بارے میں ۔۔ کیا پسند ہے آپ کو؟
.. میں انجینئر بننا چاہتا تھا میں نے کالج شروع ہی کیا تھا کہ میری طبیعت خراب ہونے لگی سر درد ۔حالانکہ یہ سردرد بہت پرانا ہے۔ میں نے پوچھا کتنا پرانا؟ تھوڑی دیر بعد چھت کو دیکھنے کے بعد بولا ہاں یاد آیا میں تقریبا چھ سال کا تھا جب میرے ابو بیرون ملک چلے گئے تھے اس دن میں بہت رویا تھا میں نے ابو کو بہت روکا لیکن وہ کہنے لگے کہ میں وہاں سے تمہارے لئے کھلونے لاؤں گا اور بہت سارے پیسے بھی بھیجوں گا پھر جو تمہارا دل کرے وہ لے لینا وہ بولتا جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں بھی جیسے کسی نے پانی کا نل کھول دیا ہو وہ دن ابھی بھی مجھے صحیح طرح یاد ہے۔جب ابو گھر سے گئے تھے۔میں روتے روتے سو گیا تھا صبح اٹھا تو سر میں بہت درد تھا ہمارے گھر میں فون نہیں تھا میں ان سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔
امی ہمیشہ یہی کہتی تھیں کہ آپ کے ابو سب سے بڑے ہیں ناں۔ باقی سب بہن بھائیوں کی بھی ذمہ داری ہے ان پر اور وہ ہم سب کے لئے بہت زیادہ پیسہ لینے گئے ہیں میں شروع سے یہی سنتا رہا ہوں 12 سال کا تھا تو ابو نے واپس آنے کا پروگرام بنا لیا۔میں خوش تھا کہ وہ ہمیشہ کے لئے آ جائیں گے ۔اسی سال مجھے سر درد کے ساتھ بخار بھی رہنے لگا تھا مگر انہی دنوں میری بڑی پھوپھو کی شادی کی بات پکی ہو گئی تھی اور لڑکے والوں نے جہیز مانگا تھا دادی نے بولا کہ صرف شادی نمٹانے تک چلے جاؤ پھر آجانا ۔ابو صرف چھ ماہ رہےدوبارہ واپس چلے گئے مجھے لگا میں نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے وہ صرف میرے ابو نہیں اس گھر کے بیٹے بھی ہیں مگر اپنے دل کو سمجھا نہیں پایا۔جب اپنے دوستوں کو ان کے والد کے ساتھ دیکھتا اپنے چچا کو ان کے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا دیکھتا تو سر درد ہوتا تھا میں نے کسی سے کچھ بھی کہناچھوڑ دیا میں اکیلا بھائی ہوں باہر کی کمائی تھی بظاہر کسی چیز کی کمی نہیں تھی
لیکن اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتا میں نے اپنا کیمرہ آف کیا مائک میوٹ کیا اور میرے اندر آنسوؤں کا سیلاب تھا جو روک نہ سکی پانی پیا اور دوبارہ اس کے سامنے تھی وہ مسکرا رہا تھا باجی ابھی بھی میرے سر میں بہت درد ہے۔حالانکہ اب میرے ابو بھی واپس آگئے ہیں مجھے بہت برا لگ رہا ہے کہ میری وجہ سے کتنے پریشان ہوئے اب وہ یہاں آ گئے ہیں
میری آنکھوں کے سامنے وہ بیس سال کا نوجوان نہیں تھا بلکہ وہ چھ سال کا بچہ تھا جو اپنے باپ کے جانے کا صدمہ نہیں برداشت کر پایا تھا اس کے سر نے اس صدمے کو اپنے اندر جگہ دے دی۔
جو 14سال خا موش رہا اور آخر کار اس کا سر وہ بوجھ نہ اٹھا سکا۔نہ دکھ ۔۔نہ وہ تنہائ۔۔ باپ کی شفقت سے محرومی۔باپ سے جدائی۔
اس سیشن کے چار پانچ دن بعد مجھ اطلاع ملی کہ وہ اپنے رب کے پاس چلا گیا۔۔بلاشبہ نعمتوں کے انبار میں اور رب کی رحمت میں۔
ایک بیٹے نے سب کچھ اپنے اندر دفن کر دیا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا جس دکھ کو اس نے اپنے اندر دفن کیا تھا وہی اسکو زمین کے نیچے دفن کرنے کا سبب بن جائے گا ۔۔۔ہمیں اندازہ بھی نہیں کہ ہم مختلف مادی ضروریات کے لیے اپنے بچوں کی نفسیاتی ضروریات کو بھول جاتے ہیں کتنا گھاٹے کا سودا کرجاتےہیں۔
وہ چلا گیا۔۔۔۔۔
اس کے ماں باپ خالی ہاتھ بیٹھے تھے وہ باپ جس کو لگا کہ وہ اسے اتنی دولت بھیج رہے کہ اس کے لئے ساری خوشیاں خرید سکے نہیں جانتا تھا کہ وہ اس کا بیٹا جو چاہتا تھا جو اس کی ضرورت تھی وہ پیسے سے پوری نہیں کی جاسکتی تھی ۔۔۔۔
میرے لیے یہ محض ایک کیس نہیں تھا۔۔بلکہ اس نوجوان کے وہ تلخ سوالات تھے جن کے جوابات اس کو اس کی زندگی میں نہ مل سکے۔۔۔وہ بار بار یہی کہتا رہا۔۔۔باجی میں نے تو اپنے ابو کو تنگ نہیں کیا تھا۔ میں صرف ان کا ساتھ چاہتا تھا مجھے نہیں یاد میں نے ان تمام سالوں میں کتنا قیمتی کھانا کھایا اور کتنے قیمتی کپڑے پہنے مگر یہ یاد ہے کہ ہر موقع پر اپنے ابو کو منظر سے غائب پایا۔۔۔کیا صرف میرے ابو کے لیے ہمارے ملک میں روزگار نہیں تھا؟؟
یا ان کے لیے میں اہم نہیں تھا؟؟۔۔اگر تھا تو کیا کوئی اور طریقہ بھی ہو سکتا تھا۔۔کیا اللہ تعالٰی نے ہمار رزق صرف بیرون ملک رکھا تھا۔۔۔میرے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا یا شاید میں دینا ہی نہیں چاہتی تھی کیونکہ میں بھی تو اسی سسٹم کا حصہ تھی جہاں ہر غلط بات کے لیے ہمارے پاس بےشمار جسٹیفیکیشنز ہوتی ہیں
۔۔۔مثلا۔۔دیکھو بچو ۔۔آپ کےابو آپ سے بہت پیار کرتے ہیں آپکی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے پیسے چاہییں اسی لیے وہ بیرون ملک گئے ہیں۔
میرے پاس ا بھی بھی ایسے کیس آتے ہیں۔۔سب سے تکلیف دہ کیس وہ ہوتا ہے جہاں پانچ سال سے چھوٹے بچے باپ کی شفقت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان کا علاج بھی ممکن نہیں ہوتا۔
اور سب یہی جملے دہرا رہے ہوتے ہیں۔۔
۔۔۔"کہ کمائیں گے نہیں تو کھلائیں گے کہاں سے۔۔۔؟
مگر میرا یہ سوال ہوتا ہے ان سے۔۔۔کہ " کیا کمائیں رہے ہیں اپ؟؟؟
۔۔۔مکان یاجدائیوں سے بنی اینٹوں کا گھر۔۔برانڈڈ سٹف۔۔۔
پرائیویٹ سکول کی فیس؟
مگر۔۔۔کس قیمت پر۔۔؟؟ 🥲🥲🥲
۔مگر یہاں ہم بھول جاتے ہیں کہ اس اسٹیج پربچوں کی ضرورت لسٹ میں ان کے والدین کی موجودگی سب سے پہلے نمبر پرہے۔۔۔
۔دونوں اگر حیات ہیں تو دونوں کا کردار اور احساس بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ماں، باپ ایک دوسرے کامتبادل نہیں ہو سکتے۔دونوں بیک وقت بچے کےلیے اہم ہیں۔۔اس موضوع پر بات کرنے کی اور درمیانہ راستہ نکالنے کی ضرورت ہے ورنہ آئندہ نسل بھی ہمارا دیا ہوایہی ترازو استعمال کرے گی جہاں ایک پلڑے میں اپنا مقصد اور دوسرے میں ضرورت رکھے گی۔۔حالانکہ ان دونوں میں مقابلہ نہیں ترجیح کا فارمولا لگے گا۔۔ اولاد کی تربیت مقصد ہے۔



0 تبصرے